اقوام متحدہ (شِنہوا) ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے امریکہ کو ایک ایسا منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت ضروری شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو 7 دن کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
عراقچی نے نیویارک میں اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو ’’7 روزہ ٹھوس منصوبہ‘‘ پیش کیا ہے۔
عراقچی نے کہا کہ 7 دن کی مدت اسی وقت شروع ہوگی جب واشنگٹن اسے قبول کرے گا۔
عراقچی کے مطابق اس منصوبے کے تحت امریکہ کو کچھ اقدامات کرنا ہوں گے جن کے بارے میں ایران کا خیال ہے کہ انہیں مکمل کرنے میں 4 یا 5 دن لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھٹے دن آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔ ’’اور ساتویں دن باہمی طور پر طے شدہ معاملات پر حتمی معاہدے کے لئے امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع ہوں گے۔‘‘
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ کو جو اقدامات کرنے چاہئیں وہ نئے نہیں ہیں بلکہ جون میں دستخط کی گئی مفاہہمت کی یادداشت میں پہلے ہی شامل ہیں۔
عراقچی نے کہا کہ ’’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ اگر امریکی فریق معاہدے تک پہنچنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لئے سنجیدہ ہے تو اب سب کچھ تیار ہے۔‘‘
عراقچی نے کہا کہ’’اب انتخاب امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔ ایران جبر، دھمکیوں یا خوف زدہ کرنے والے حربوں کو قبول نہیں کرتا اور ایران دباؤ کے تحت اپنے خودمختار حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔‘‘
18 جون کو امریکہ اور ایران نے لبنان سمیت خطے میں تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے سے متعلق ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے تھے۔ اس یادداشت کے تحت حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لئے دونوں ممالک کو 60 دن کے اندر مذاکرات کرنا تھے جو 17 اگست کو مکمل ہوگئے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافے کے سلسلے کے بعد ان مذاکرات کا مستقبل اب بھی غیر واضح ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کی آبنائے ہرمز 7دن میں دوبارہ کھولنے کی مشروط پیشکش



