واشنگٹن (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی جس پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز تھیں۔ دونوں رہنماؤں نے کئی نئے مشترکہ نکات پر اتفاق کیا۔ اس پیش رفت نے دنیا کے اہم ترین دوطرفہ تعلقات کے لئے نئی تزویراتی رہنمائی فراہم کی ہے۔
اگرچہ ان مشترکہ نکات نے تزویراتی استحکام پر مبنی ایک تعمیری چین-امریکہ تعلقات کے قیام کے تصور کو مزید تقویت دی ہے، تاہم شی جن پھنگ نے اس سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ اس تصور کو عملی اقدامات میں تبدیل کریں اور دونوں بڑی طاقتوں کے باہمی تعلقات کے لئے درست راستہ تلاش کریں۔
چین اور امریکہ کے لئے اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ممالک ایسے راستے پر آگے بڑھیں جس میں تعاون بنیادی حیثیت رکھے، مسابقت اعتدال میں ہو، اختلافات قابل انتظام ہوں اور امن کے لئے عزم برقرار رہے۔
اس کی معقول وجوہات موجود ہیں۔ چین اور امریکہ کے مفادات ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے لئے وسیع گنجائش موجود ہے۔ اس کے علاوہ چینی قوم کی عظیم نشاۃ ثانیہ کے حصول اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کے اہداف بھی ایک دوسرے کے ساتھ چل سکتے ہیں۔
چین اور امریکہ کو نہ صرف باہمی مفاد اور باہمی کامیابی کے نتائج حاصل کرنے چاہئیں بلکہ وہ عملی تعاون کے ذریعے ایسا مکمل طور پر کر بھی سکتے ہیں۔ صحت مند مسابقت کے ذریعے ایک دوسرے کی کامیابی میں مدد کی جا سکتی ہے، مشترکہ نکات تلاش کرتے ہوئے اور اختلافات کا احترام کرتے ہوئے اختلافات کو مناسب انداز میں سنبھالا جا سکتا ہے جبکہ باہمی اعتماد کو فروغ دے کر امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
اقتصادی اور تجارتی تعاون کو طویل عرصے سے دونوں ممالک کے تعلقات کا استحکام بخش ستون سمجھا جاتا رہا ہے۔ چین-امریکہ کے مستحکم اقتصادی و تجارتی تعلقات کے لئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک تعاون کے شعبوں کی فہرست کو وسیع کریں اور مسائل کی فہرست کو مختصر کریں۔
دونوں ممالک کی اقتصادی و تجارتی ٹیموں نے حال ہی میں مشاورت کا ایک نیا دور منعقد کیا اور مشترکہ انتظامات پر اتفاق کیا۔ یہ دونوں ممالک کی صنعتوں اور عوام کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کے لئے بھی اچھی خبر ہے۔
یہی طریقہ کار ان ابھرتے ہوئے شعبوں میں بھی اختیار کیا جا سکتا ہے جو انسانیت کے مستقبل کی تشکیل کریں گے۔ چین اور امریکہ دونوں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں سرکردہ ممالک ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک مصنوعی ذہانت میں مسابقت کر رہے ہیں، تاہم ان کے پاس تعاون کرنے کی اس سے بھی زیادہ وجوہات ہیں۔ دونوں فریقوں کو ایک دوسرے سے محتاط رہنے کے بجائے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی اپنی طاقتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
دونوں فریق مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بات چیت جاری رکھ سکتے ہیں، اس کے خطرات اور فوائد پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں اور مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال اور ناجائز استعمال کو روکنے کے لئے مل کر کام کر سکتے ہیں۔ انہیں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز پر انسانی کنٹرول بھی برقرار رکھنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت انسانی ترقی کے لئے کام کرے۔
آج چین۔امریکہ تعلقات ایک بار پھر ایک نئے تاریخی نقطہ آغاز پر کھڑے ہیں۔ دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان تعمیری اور تزویراتی استحکام پر مبنی تعلقات کا قیام نہ تو وقتی اقدام ہے اور نہ ہی اسے راتوں رات حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دونوں فریقوں کو اپنے مشترکہ اتفاق رائے پر عملدرآمد کے لئے مستقل کوششیں کرنا ہوں گی اور ایک بہتر دنیا کی تعمیر کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا۔
شی جن پھنگ کی چین اور امریکہ کے تعمیری اور تزویراتی استحکام کا وژن عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی تاکید



