واشنگٹن (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا ہے کہ اگرچہ چین اور امریکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں مقابلہ کر رہے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے پاس تعاون کرنے کی اس سے بھی زیادہ وجوہات ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کے دوران شی نے نشاندہی کی کہ چونکہ دونوں ممالک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اہم ممالک ہیں، اس لئے دونوں فریقوں کو ایک دوسرے سے محتاط رہنے کے بجائے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
شی نے کہا کہ دونوں فریق مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بات چیت جاری رکھ سکتے ہیں، اس کے خطرات اور فوائد پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں اور مصنوعی ذہانت کے غلط اور ناجائز استعمال کو روکنے کے لئے مل کر کام کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقوں کو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز پر انسانی کنٹرول برقرار رکھنا، عوام پر مرکوز طریقہ کار اور مصنوعی ذہانت کو بھلائی کے لئے استعمال کرنے کے اصول پر قائم رہنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت انسانی ترقی کے لئے کام کرے۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس میں استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی نے یہ بھی کہا تھا کہ دونوں ممالک کے پاس مصنوعی ذہانت کو بھلائی کے لئے فروغ دینے اور اس کا نظم و نسق سنبھالنے کی صلاحیت اور ذمہ داری موجود ہے، نیز یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی ہمیشہ انسانی کنٹرول میں رہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرے۔
چین اور امریکہ کے درمیان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مقابلےسے زیادہ تعاون کی وجوہات موجود ہیں، چینی صدر



