واشنگٹن (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر چین۔امریکہ تعلقات کے بڑے جہاز کو مستقبل کی جانب ایک مستحکم راستے پر گامزن کرنے کے لیے تیار ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں جمعرات کو آمد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پھنگ نے کہا کہ وہ ٹرمپ کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ اپنی دوستی کو جاری رکھیں، تعاون کو وسعت دیں اور دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کو فروغ دیں۔
انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ کو رابطوں کو مضبوط بنانا، خلوص کے ساتھ تعاون کرنا اور پرامن بقائے باہمی اختیار کرنا چاہیے۔
شی نے کہا کہ وہ اور ٹرمپ خارجہ امور، اقتصادی امور، مالی تعاون، قانون کے نفاذ اور عوامی تبادلوں جیسے شعبوں کے ذمہ دار حکومتی محکموں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے تیزی سے کام کریں۔
شی نے کہا کہ چین-امریکہ تعاون دنیا کے ہر مسئلے کو حل نہیں کر سکتا، لیکن اس کے بغیر دنیا کے بہت سے مسائل کو حل کرنا مشکل ہوگا۔
شی نے کہا کہ چین اپنے دروازے پوری طرح کھلے رکھتا ہے، ان امریکی کمپنیوں کا خیرمقدم کرتا ہے جو چین میں سرمایہ کاری اور کاروبار کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہم امید کرتے ہیں کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ یہاں امریکہ میں منصفانہ سلوک کیا جائے گا۔ مل کر کام کرتے ہوئے ہم تعاون کی فہرست کو طویل اور مسائل کی فہرست کو مختصر کر سکتے ہیں۔”
شی نے کہا کہ چین اور امریکہ دونوں مصنوعی ذہانت (اے آئی)میں سر فہرست ممالک ہیں، انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس اے آئی کو اچھائی کے لیے تیار کرنے اور منظم کرنے کی صلاحیت اور ذمہ داری موجود ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اے آئی کی ترقی ہمیشہ انسانی کنٹرول میں رہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے۔
شی نے کہا کہ منشیات کے خلاف کارروائی اور قانون کے نفاذ کے حوالے سے چینی فریق امریکہ کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے دونوں فریق دوطرفہ سفر اور تجارت کو آسان بنانے کے لیے براہ راست پروازوں میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ کو مسابقت کا ذکر کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن مسابقت صحت مند ہونی چاہیے اور اسے حدود کے اندر رکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ ہونی چاہیے، نہ کہ ایسی کشمکش جس میں ایک جیتے یا ہارے۔
شی نے کہا کہ چین اور امریکہ کو تنازع اور محاذ آرائی نہ ہونے کی حد کو برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، “ہم یقینی طور پر اپنے دونوں عظیم ممالک کے لیے اس کرہ ارض پر، جسے ہم دونوں اپنا گھر کہتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کا درست راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔”
شی نے کہا کہ چینی اور امریکی افواج کو باقاعدہ بات چیت برقرار رکھنی چاہیے اور بحران کے دوران رابطے اور روک تھام کے طریقہ کار کو بہتر بنانا چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ تھوسی ڈائیڈز ٹریپ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
شی نے آئندہ 5 برسوں کے دوران تبادلوں اور تعلیم کے لیے 1 لاکھ نوجوان امریکیوں کو چین کا دورہ کرنے کی دعوت کا اعلان کیا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ چند روز میں پانڈاز کا ایک جوڑا اٹلانٹا چڑیا گھر میں اپنے نئے گھر آئے گا اور امریکی عوام سے ملاقات کرے گا۔
ٹرمپ کے ساتھ مل کر چین۔امریکہ تعلقات کو مستحکم راستے پر گامزن کرنے کے لیے تیار ہیں، چینی صدر



