واشنگٹن (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر سرکاری دورے پر امریکہ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز پہنچے۔
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے، تعاون کو فروغ دینے اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مل کر کام کرنے کی کوششوں کے باعث اس دورے پر وسیع توجہ مرکوز ہے۔
امریکہ پہنچنے پر چینی صدرشی جن پھنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوآن کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے طیارے کے قریب غیر معمولی انداز میں استقبال کیا۔ شی جن پھنگ اور پینگ لی یوآن کے طیارے سے اترنے کے بعد دونوں صدارتی جوڑوں نے رن وے پر مصافحہ کیا اور ایک دوسرے سے خیرمقدمی کلمات کا تبادلہ کیا۔
چینی صدارتی جوڑے کے استقبال کے لئے ریڈ کارپٹ بچھایا گیا تھا جبکہ دونوں جانب اعزازی دستے قطار میں کھڑے تھے۔ 2 امریکی بچوں نے شی جن پھنگ اور پینگ لی یوآن کو گلدستے پیش کئے۔
استقبالیہ تقریب میں 21 توپوں کی سلامی، دونوں ممالک کے قومی ترانوں کی دھنیں اور فوجی طیاروں کی فضائی پریڈ بھی شامل تھی۔
21 توپوں کی سلامی کسی دورے پر آنے والے سربراہ مملکت کو دی جانے والی اعلیٰ ترین فوجی اعزازات میں شامل ہے، تاہم ہوائی اڈے پر اس طرح کی سلامی شاذ و نادر ہی دی جاتی ہے۔
یہ اقدام وسیع تر سفارتی معیار کے لحاظ سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ امریکی ذرائع ابلاغ نے اسے پروٹوکول سےہٹ کر ایک ’’نادر‘‘ اور ’’غیر معمولی‘‘ قرار دیا ہے۔ عام طور پر امریکی صدور غیر ملکی رہنماؤں کا استقبال ہوائی اڈے کے بجائے وائٹ ہاؤس میں کرتے ہیں۔
شی کی آمد کے ساتھ امریکہ کا 3 روزہ سرکاری دورہ شروع ہوا، جو ٹرمپ کے مئی میں چین کے دورے کے چند ماہ بعد ہو رہا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ 6ماہ کے اندر دونوں سربراہانِ مملکت کے درمیان دوروں کا یہ تبادلہ تاریخی اور سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
امریکہ پہنچنے پر تحریری خطاب میں شی نے چینی عوام کی جانب سے امریکی عوام کے لئے مخلصانہ خیرسگالی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
شی نے کہا کہ چین اور امریکہ دونوں عظیم ممالک ہیں اور دونوں ملکوں کے عوام بھی عظیم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے عوام طویل عرصے سے دوستانہ روابط رکھتے ہیں اور ان کے مفادات ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چینی قوم کی عظیم شباب نو اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانا ایک دوسرے کے ساتھ چل سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی کامیابی میں مدد دینے اور پوری دنیا کی فلاح و بہبود کو آگے بڑھانے کے لئے مل کر کام کر سکتے ہیں۔
شی نے کہا کہ مئی میں ٹرمپ کے چین کے دورے کے موقع پر انہوں نے اور ٹرمپ نے تعمیری اور تزویراتی استحکام پر مبنی چین۔امریکہ تعلقات استوار کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس نے دوطرفہ تعلقات کی آئندہ ترقی کے لئے تزویراتی رہنمائی فراہم کی ہے۔
شی نے کہا کہ چین اور امریکہ کو ایک ہی سمت میں آگے بڑھتے ہوئے ایسے مستحکم تعلقات کو فروغ دینا چاہیے جن میں تعاون بنیادی حیثیت رکھے، مسابقت اعتدال میں ہو، اختلافات قابل انتظام ہوں اور امن کے عزم کو برقرار رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ دو بڑی طاقتوں کی حیثیت سے نئے دور میں ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا درست طریقہ تلاش کریں۔
شی نے زور دیا کہ دنیا ترقی کر رہی ہے اور زمانہ بدل رہا ہے، تاہم چین اور امریکہ کے پرامن بقائے باہمی کی تاریخی منطق تبدیل نہیں ہوئی، دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستانہ روابط کی نیک خواہشات تبدیل نہیں ہوئی ہیں اور چین و امریکہ سے عالمی برادری کی عمومی توقعات بھی تبدیل نہیں ہوئی ہیں۔
شی نے کہا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور عالمی صورتحال سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کے منتظر ہیں تاکہ تعمیری اور تزویراتی استحکام پر مبنی چین۔امریکہ تعلقات کو مسلسل فروغ دیا جا سکے اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تبادلوں اور تعاون کے لئے مزید گنجائش پیدا کی جا سکے۔
شی نے کہا کہ مشترکہ کوششوں سے انہیں یقین ہے کہ یہ دورہ ضرور ثمر آور ثابت ہوگا، دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود میں اضافہ کرے گا اور عالمی امن کے لئے امید پیدا کرے گا۔
پریٹوریا یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے لیکچرار اور سیاسی مبصر رولینڈ ہین ووڈ نے کہا کہ یہ ایک انتہائی اہم دورہ ہے جو ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سیاسی منظرنامہ خاصا پیچیدہ ہے۔
ہین ووڈ نے کہا کہ اس دورے کی اہمیت دوطرفہ تعلقات سے کہیں بڑھ کر ہے، کیونکہ چین اور امریکہ کے درمیان جو کچھ ہوتا ہے، اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اچھے تعلقات ہیں، وہ باقاعدگی سے رابطے میں رہتے ہیں اور موثر رابطےبھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کے لئے تزویراتی سمت اور استحکام فراہم کرنے کی غرض سے صدارتی سطح پر مسلسل رابطہ انتہائی اہم ہے۔
افریقی یونین کمیشن کے سابق ڈپٹی چیئرپرسن اراستس موینچا نے کہا کہ یہ سرکاری دورہ ایک اہم پیغام دیتا ہے کہ اختلافات کو منظم کرنے اور غلط فہمیوں پر مبنی غلط فیصلوں کو روکنے کے لئے سفارت کاری بدستور ایک موثر ذریعہ ہے۔
موینچا نے کہا کہ اس دورے کو ایک الگ تھلگ واقعے کے بجائے سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ بوسان ملاقات، مئی میں ٹرمپ کا چین کا سرکاری دورہ اور اب یہ جوابی دورہ، یہ تمام اقدامات مسلسل رابطوں کو فروغ دے رہے ہیں جو کسی ایک ملاقات سے ممکن نہیں۔
اعلیٰ سطح سفارت کاری سے ہٹ کر ماہرین نے کئی ایسے شعبوں کی نشاندہی بھی کی جہاں چین اور امریکہ کے درمیان مسلسل تعاون کے وسیع تر بین الاقوامی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) بھی ایسا ہی ایک شعبہ ہے۔ آئیوری کوسٹ کی قومی اسمبلی کے سابق رکن اور مالیاتی امور کے ماہر پاسکل سیری نے کہا کہ چین اور امریکہ کے پاس ٹیکنالوجی کی صلاحیت اور بین الاقوامی اثر و رسوخ موجود ہے، جس کے ذریعے وہ مصنوعی ذہانت سے لاحق ممکنہ خطرات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مصنوعی ذہانت کی سلامتی، نظم و نسق، اخلاقیات اور بین الاقوامی قواعد کے حوالے سے مکالمے اور تعاون کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور وسیع تر عالمی اتفاق رائے کے حصول کے لئے مل کر کام کر سکتے ہیں۔
قاہرہ میں قائم عرب مرکز برائے تحقیق و علوم کے مشیر ابو بکر الدیب نے کہا کہ منشیات کے خلاف کارروائی بھی ان شعبوں میں شامل ہے جہاں چین اور امریکہ کے درمیان تعاون انتہائی عملی نتائج برآمد کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منشیات کی سمگلنگ اور سرحد پار جرائم کی دیگر اقسام قومی سرحدوں تک محدود نہیں رہتیں، اس لئے معلومات کے تبادلے اور اپنی کوششوں میں باہمی رابطہ پیدا کرنا تمام ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے۔
صدرشی کا شاندار استقبال کے ساتھ امریکہ کے انتہائی متوقع دورے کا آغاز



