واشنگٹن (شِنہوا) امریکی ذرائع ابلاغ کے 3 اداروں سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے کہا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے کئی حکام کے خلاف مقدمہ دائر کر رہے ہیں۔
تینوں خبر رساں اداروں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ آج صبح ہم نے حکومت کو مطلع کیا ہے کہ ہم آزادیٔ اظہار کے اپنے آئینی حق کے تحفظ اور اس اصول کے دفاع کے لئے مقدمہ دائر کر رہے ہیں کہ پریس کیا رپورٹ یا شائع کرے، اس کا فیصلہ حکومت نہیں کرتی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی پیشگی اطلاع یا ضابطے کے بغیر وائٹ ہاؤس نے ہمارے صحافیوں کی دستاویزات منسوخ کر دیں کیونکہ اسے ہماری رپورٹنگ پر اعتراض تھا۔ اگر اسے چیلنج نہ کیا گیا تو یہ پریس کی آزادی اور حکومتی مداخلت سے آزادانہ صحافت کے عوام کے حق کے لئے خطرہ بن جائے گا۔
امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ برائے ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں دائر اس مقدمے میں صدر کے معاون برائے مواصلات سٹیون چیونگ، سیکرٹ سروس کے ڈائریکٹر شان کرن اور وائٹ ہاؤس کی چیف آف سٹاف سوسن وائلز کو بھی مدعا علیہان کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
یہ تازہ ترین مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر کہا کہ سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے وائٹ ہاؤس میں داخلے پر فوری طور پر نافذ العمل احکامات کے تحت پابندی عائد کر دی گئی ہے، انہوں نے اس کی وجہ مسلسل “جعلی خبریں” قرار دیں۔
ہفتہ کو ان تینوں ذرائع ابلاغ کے اداروں کے رپورٹرز کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روک دیا گیا اور ان کے پریس کارڈز ضبط کر لئے گئے۔
صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اس نئے مقدمے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’جیسا کہ توقع تھی فیک نیوز سی این این، پولیٹیکو (امریکی حکومت کی طرف سے معاونت کے لئے دیا گیا 80 لاکھ ڈالر کا عطیہ واپس کرے!) اور ایم ایس ناؤ (جو پہلے ایم ایس ڈی این سی کہلاتا تھا!) نے وائٹ ہاؤس اور آپ کے صدر یعنی مجھ تک رسائی حاصل کرنے کے لئے مقدمہ دائر کر دیا ہے۔‘‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’’بلا شبہ اور ہمیشہ کی طرح ہم اس کے خلاف اپیل میں جائیں گے‘‘۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ ’’جعلی خبریں پھیلانے والے ایسے افراد اور ادارے جو صرف منفی باتیں لکھتے ہیں اور نامعلوم ذرائع کا سہارا لے کر جھوٹی اور ہتک آمیز کہانیاں گھڑ کر ہماری قومی سلامتی کی دھجیاں اڑاتے ہیں، انہیں دنیا کے کسی بھی کونے میں واقع انتہائی اہم دفتر تک رسائی نہیں دی جانی چاہیے۔‘‘
ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے آغاز سے ہی امریکی ذرائع ابلاغ کے اداروں کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں اور صدر اکثر ذرائع ابلاغ کے اداروں کو جعلی خبریں پھیلانے کے الزام میں تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور ان میں سے بعض کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کر رہے ہیں۔
فروری 2025 میں ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خلیج امریکہ رکھنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی اپنانے سے انکار کے بعد اے پی کے رپورٹرز پر وائٹ ہاؤس کے اوول آفس، مار-اے-لاگو اور ایئر فورس ون تک رسائی پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
ٹرمپ نیویارک ٹائمز، وال سٹریٹ جرنل اور سی بی ایس سمیت ذرائع ابلاغ کے کئی اداروں کے خلاف ہتک عزت یا گمراہ کن رپورٹنگ کے الزامات کے تحت مقدمات بھی دائر کر چکے ہیں۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے 3 اداروں نے وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا



