تیانجن (شِنہوا) چین نے منگل کو ملک کے سرکردہ 500 نجی کاروباری اداروں کی 2026 کی فہرست جاری کی ہے جس میں 110 کمپنیوں کی کاروباری آمدن 100 ارب یوآن (تقریباً 14.82 ارب امریکی ڈالر) سے زائد رہی جس سے ملک کے نجی شعبے میں مضبوط نمو ظاہر ہوتی ہے۔
چین کے شمالی شہر تیانجن میں آل چائنہ فیڈریشن آف انڈسٹری اینڈ کامرس (اے سی ایف آئی سی) کی جانب سے 2026 کے لئے چین کے سرکردہ 500 نجی کاروباری اداروں کی جاری کردہ فہرست کے مطابق جے ڈی ڈاٹ کام، علی بابا (چائنہ) کمپنی لمیٹڈ اور ہینگ لی گروپ کمپنی لمیٹڈ نے سرفہرست تینوں پوزیشنز برقرار رکھیں۔
یہ اے سی ایف آئی سی کی جانب سے نجی کاروباری اداروں کا 28 واں بڑے پیمانے کا سروے ہے۔ اس سال سروے میں مجموعی طور پر 6 ہزار 350 کمپنیوں نے حصہ لیا جن میں سے ہر ایک کی 2025 میں کاروباری آمدن ایک ارب یوآن سے زائد تھی۔ آمدن کے لحاظ سے سرفہرست 500 کمپنیاں اس فہرست میں شامل کی گئی ہیں۔
سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 میں چین کے نجی کاروباری اداروں نے اپنی جدت طرازی کی صلاحیت، کاروباری کارکردگی اور بنیادی مسابقت بہتر بنانے کا سلسلہ جاری رکھا جو نئے اور اعلیٰ معیار کے ترقیاتی رجحان کی مجموعی عکاسی کرتا ہے۔
سرفہرست 500 نجی کاروباری اداروں نے 2025 میں کل 449.3 کھرب یوآن کاروباری آمدن ریکارڈ کی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 4.35 فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے 18.3 کھرب یوآن مشترکہ خالص منافع بھی حاصل کیا، ان میں سے 17 کمپنیوں نے فی کمپنی 20 ارب یوآن سے زیادہ خالص منافع ظاہر کیا۔
ان 500 نجی کاروباری اداروں کی فہرست میں شامل پیداواری کمپنیوں نے 322.2 کھرب یوآن مجموعی آپریٹنگ آمدن ریکارڈ کی جو سالانہ بنیاد پر 8.73 فیصد زیادہ ہے۔
سرفہرست 500 کمپنیوں میں سے بیشتر سٹریٹجک ابھرتی ہوئی اور مستقبل کی صنعتوں میں فعال طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہیں۔ متعلقہ اعداد و شمار فراہم کرنے والی کمپنیوں میں سے 311 کمپنیوں نے سٹریٹجک ابھرتی ہوئی صنعتوں کے 679 منصوبوں میں سرمایہ کاری کی، جبکہ 82 کمپنیوں نے مستقبل کی صنعتوں کے 112 منصوبے شروع کئے۔
سروے کے مطابق جدت طرازی کے حوالے سے متعلقہ ڈیٹا فراہم کرنے والی سرفہرست 500 کمپنیوں نے مجموعی طور پر 12.6 کھرب یوآن تحقیق و ترقی کے اخراجات ظاہر کئے اور یہ سرمایہ کاری اوسط آمدن کا 2.95 فیصد رہی۔
مزید برآں سرفہرست 500 اداروں نے گزشتہ سال 13 کھرب یوآن ٹیکسز کی مد میں ادا کئے جن میں سے 254 کمپنیوں نے فی کمپنی ایک ارب یوآن سے زائد ٹیکس ادا کیا۔
چین نے 2026 کے لئے سرکردہ 500 نجی کاروباری اداروں کی فہرست جاری کر دی



