واشنگٹن،نیویارک(نیشنل ٹائمز)امریکا اور چین کے اعلیٰ اقتصادی حکام نے مصنوعی ذہانت سے متعلق ممکنہ خطرات پر رابطے کیلئے نیا مواصلاتی نظام قائم کرنے پر بات چیت کی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق نیویارک میں چینی نائب وزیراعظم ہی لیفنگ کی قیادت میں وفد سے تقریباً 8 گھنٹے مذاکرات ہوئے ۔ دونوں جانب نے ‘‘امریکا چین اے آئی ڈائیلاگ’’ کے قیام اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ایسے واقعات کی اطلاع دینے کا طریقہ کار بنانے پر گفتگو کی جو قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے خطرات سے نمٹنے کا موجودہ نظام ناکام ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جولائی میں اوپن اے آئی کے دو سسٹمز نے آزمائشی ماحول سے نکل کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور متعدد ویب سائٹس میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ماہرین نے کہا کہ بنیادی سائبر سکیورٹی اقدامات نظر انداز ہوئے اور حفاظتی انتظامات مصنوعی ذہانت کی بڑھتی صلاحیتوں کے ساتھ رفتار نہیں ملا رہے ۔ رپورٹ میں اے آئی ایجنٹس کی نگرانی، سرگرمیوں کی ریکارڈنگ اور خطرناک رویے کی صورت میں انسانی مداخلت یقینی بنانے سمیت متعدد حفاظتی اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔



