بیجنگ (شِنہوا) چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے کہا ہے کہ چین جاپان پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنی جارحیت کی تاریخ پر گہرائی سے غور کرے، خطے کے ممالک کی آواز پر توجہ دے اور “دوبارہ عسکری پسندی” کی کسی بھی کوشش کو ترک کرے۔
گو نے یہ بات پیر کو معمول کی پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہی۔ ان سے ان اطلاعات کے بارے میں پوچھا گیا تھا کہ روسی وزارت خارجہ نے جاپان کو کیوشو میں امریکہ کی جانب سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ٹائفون میزائل نظام نصب کرنے کے حوالے سے مطلع کیا ہے۔ روس نے اس تنصیب کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے جاپان پر زور دیا ہے کہ وہ دوسری جنگ عظیم کے نتائج کو مکمل طور پر تسلیم کرے اور “دوبارہ عسکری قوت پسندی” کا عمل روکے۔
گو نے کہا کہ ” درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا ٹائفون میزائل نظام ایک تزویراتی جارحانہ ہتھیار ہے اور جاپان کی جانب سے اس نظام کو متعارف کرانا اس کی تیز رفتار ‘دوبارہ عسکریت پسندی’ کی ایک اور دلیل ہے۔”
گو نے کہا کہ اس اقدام سے فوجی تصادم اور ہتھیاروں کی دوڑ کے خطرات بڑھتے ہیں، تزویراتی توازن اور علاقائی استحکام کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اور ہمسایہ ممالک کے سلامتی کے جائز مفادات کو نقصان پہنچتا ہے۔
گو نے کہا کہ اس اقدام کے بعد عالمی برادری اس معاملے پر انتہائی چوکس ہے اور متعدد ایشیائی ممالک کے عوام نے بھی اس کی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین نے سفارتی ذرائع سے جاپان کے سامنے بارہا شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور حال ہی میں جاپان کو ایک سفارتی مراسلہ بھی بھیجا ہے تاکہ اپنے سنجیدہ موقف کا اعادہ کیا جا سکے۔
چین کی جاپان کو”دوبارہ عسکری پسندی” کی کسی بھی کوشش کو روکنے کی تاکید



