اسلام آباد (شِنہوا) سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین سیدال خان نے پاکستان اور چین کے پائیدار تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے اور ترقی کے مواقع میں شراکت داری کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد میں قائم میڈیا تنظیم ڈپلومیٹک فوکس کے زیر اہتمام دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئےسیدال خان نے کہا کہ پاکستان اور چین مشکل اوقات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، جس سے ان کی دیرینہ دوستی کی مضبوطی، گہرائی اور استحکام کا اظہار ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران چین نے بالخصوص چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے پاکستان کی ترقی اور اقتصادی نمو میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اہم منصوبے نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، رابطے، توانائی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
چین کی گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں ترقی کا ذکر کرتے ہوئے سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان اقتصادی ترقی، نظم و نسق، تعلیم، ٹیکنالوجی، زراعت اور سماجی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں چین کے تجربے اور کامیابیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ “پاکستان کے لئے چین کے تجربے سے استفادہ کرنے کی خاطر خواہ گنجائش موجود ہے، جبکہ متعلقہ طریقہ کار کو اپنے قومی حالات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ اداروں، کاروباری اداروں، جامعات اور عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے تبادلے تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور علم، مہارت اور تجربات کے اشتراک کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔”
سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے سابق چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل کے بعد پاکستان۔چین تعاون ایک وسیع تر مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جس میں سی پیک 2.0 کا آغاز شامل ہے۔ اس کے تحت زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعلیم، صنعتی ترقی، سائنس و ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان شعبوں میں مزید تعاون سرمایہ کاری، روزگار، اختراع اور پائیدار اقتصادی ترقی کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 75 سالہ سفارتی تعلقات کی بنیاد پر قائم تاریخی پاکستان۔چین دوستی اس شراکت داری کو وسعت دینے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانے کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
پاکستان میں چینی سفارتخانے کے ناظم الامور شی یوآن چھیانگ نے اپنی تقریر میں کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹوکے اہم منصوبے کی حیثیت سے سی پیک نے ہمیشہ وسیع مشاورت، مشترکہ کردار اور مشترکہ مفادات کے اصول پر عمل کیا ہے اور نمایاں نتائج حاصل کئے ہیں جنہوں نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے۔
شی یوآن چھیانگ نے کہا ’’دونوں ممالک کے رہنماؤں کی تذویراتی رہنمائی میں نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے مزید قریبی چین۔پاکستان معاشرے کی تعمیر کو مرکزی محور اور سی پیک 2.0 کو پلیٹ فارم بناتے ہوئے ہم ہر موسم میں قائم تذویراتی تعاون کو مسلسل مستحکم، گہرا اور وسیع کریں گے تاکہ دونوں ممالک کی اپنی اپنی جدیدکاری کی کوششوں کو موثر طور پر تقویت دی جا سکے۔‘‘
پاکستان اور چین ایک دوسرے کے ساتھ ترقی کے مواقع کا تبادلہ کریں گے، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ



