بیجنگ (شِنہوا) چین میں اناج کی صنعت کی سالانہ صنعتی پیداواری مالیت 15 ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران 45 کھرب یوآن (666.8 ارب امریکی ڈالر) سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
خوراک و تزویراتی ذخائر کی قومی انتظامیہ کے سربراہ لیو ہوآن شن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اناج کا شعبہ عوام کی اعلیٰ معیار، زیادہ غذائیت اور صحت بخش خوراک کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کرے گا۔
چین میں اناج کی صنعت نے حالیہ برسوں کے دوران مستحکم ترقی برقرار رکھی ہے۔ اناج سے متعلق کاروباری اداروں کی مجموعی صنعتی پیداوار کی مالیت 13ویں پانچ سالہ منصوبے (2016-2020) کے اختتام پر 30کھرب یوآن سے بڑھ کر 14 ویں پانچ سالہ منصوبے (2021-2025) کے اختتام پر 40 کھرب یوآن سے زائد ہو گئی۔
لیو نے کہا کہ اناج کی عالمی منڈی میں موجودہ اتار چڑھاؤ کے باوجود چین کی اناج کی منڈی مجموعی طور پر مستحکم رہی ہے اور ملک میں غذائی تحفظ کی صورتحال مضبوط ہے۔
لیو نے عالمی موسمیاتی تنظیم کی حالیہ پیش گوئی کا حوالہ دیا، جس کے مطابق ال نینو مزید شدت اختیار کرتا رہے گا اور عالمی غذائی پیداوار کو متاثر کر سکتا ہے۔ دوسری جانب جغرافیائی سیاسی تنازعات کی وجہ سے نقل و حمل کے راستے متاثر ہو رہے ہیں، کھاد کی قیمتوں اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے عالمی غذائی تحفظ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کا غذائی تحفظ مستحکم پیداوار، وافر ذخائر اور مضبوط پروسیسنگ صلاحیت پر مبنی ہے۔
لیو نے کہا کہ چین میں اناج کی پیداوار میں مسلسل بہتری آ رہی ہے جبکہ ملک کا وسیع رقبہ بھی پیداوار میں معاون ہے۔ جس کی وجہ سے مختلف علاقوں میں فصلوں کی پیداوار میں کمی بیشی ایک دوسرے سے پوری ہو جاتی ہے۔
چین میں اناج کی سالانہ پیداوار 2015 سے 65 کروڑ ٹن سے زائد رہی ہے۔ 2024 میں پہلی بار یہ مقدار 70 کروڑ ٹن سے تجاوز کر گئی جبکہ 2025 میں 71کروڑ 50لاکھ ٹن تک پہنچ گئی۔ فی کس دستیاب اناج کی مقدار 500 کلوگرام سے تجاوز کر چکی ہے جو عالمی اوسط سے زیادہ ہے اور ملک کے غذائی تحفظ کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
ذخائر کے حوالے سے لیو نے کہا کہ چین میں اناج کے ذخیرے اور استعمال کے تناسب کی شرح بین الاقوامی غذائی تحفظ کی مقررہ 17 سے 18 فیصد حد سے کافی زیادہ ہے۔ اگر منڈی میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ پیدا ہو تو ذخائر کو رسد اور طلب میں توازن پیدا کرنے اور اناج کی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
چین کے پاس اناج کی پروسیسنگ کی بھی مضبوط صلاحیت ہے۔ لیو کے مطابق ملک میں اناج کی پروسیسنگ کے تقریباً 24 ہزار ادارے کام کر رہے ہیں جو اناج اور خوردنی تیل کی پروسیسنگ، خوراک اور مصالحہ جات کی تیاری، فیڈ پروسیسنگ اور دیگر شعبوں سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آٹے، چاول اور خوردنی تیل کی پروسیسنگ کی صلاحیت ملکی طلب پوری کرنے کے لئے کافی ہے۔
چین میں اناج کی صنعت کی سالانہ پیداواری مالیت 2026 سے 2030 کے دوران 45 کھرب یوآن سے تجاوز کرنے کی توقع



