تیانجن(شِنہوا) چین نے 2030 تک انسان بردار چاند پر اتارنے کے اپنے ہدف کی جانب پیش رفت تیز کر دی ہے، جبکہ ملک کا قمری خلائی لباس تیار کرنے کا عمل اور طویل مدتی خلائی قیام سے متعلق بستر پر آرام کے تجربے دونوں میں پیش رفت ہوئی ہے۔
چینی خلانورد مرکز کے ماہر ژانگ وان شن نے تیانجن میں منعقدہ خلائی طبی انجینئرنگ کانفرنس میں بتایا کہ چین کے چاند پر اترنے کے لیے تیار کیے جانے والے خلائی لباس وانگ یو، جس کا مطلب “کائنات کی جانب نگاہ” ہے، کی تیاری کا کام ہموار انداز میں جاری ہے اور اس سلسلے میں درجنوں اہم ٹیکنالوجیز تیار کی جا چکی ہیں۔
ژانگ نے بتایا کہ 2020 میں اس خلائی لباس کی تیاری شروع ہونے کے بعد سے کوششوں کا مرکز چاند کی سطح پر پیچیدہ سرگرمیوں اور انتہائی سخت ماحولیاتی حالات سے نمٹنے کی ضروریات پوری کرنا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قمری خلائی لباس کو ہلکا پھلکا، مختصر حجم، انتہائی مئو ثر اور محفوظ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
چین خلائی لباس کی تیاری کے علاوہ خلانوردوں کی صحت سے متعلق تحقیق میں بھی پیش رفت کر رہا ہے۔ ملک نے طویل مدتی خلائی قیام اور انسان بردار چاند پر اترنے کے مشنز کے دوران جسمانی تحفظ سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے “ڈی شِنگ-3” بستر پر آرام کا تجربہ مکمل کر لیا ہے۔
مرکز کی ماہر چھو لینا کے مطابق یہ تجربہ رواں سال مئی میں شروع ہوا۔ رضاکاروں کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا اور انہوں نے 15 یا 30 دن بستر پر آرام کیا۔ تجربے کے دوران رضاکاروں نے بستر پر لیٹے ہوئے کھانے، نہانے، سونے، پیشاب اور رفع حاجت سمیت روزمرہ کے معمولات انجام دیے۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ اس تجربے سے انسانی ہڈیوں، پٹھوں اور قلبی نظام کو مئوثر طور پر تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ یہ تجربہ طویل مدتی خلائی قیام اور انسان بردار چاند پر اترنے کے مشنز کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔
چین کی 2030 میں چاند پر اترنے کے مشن کے لیے قمری خلائی لباس،بستر پر آرام سے متعلق تحقیق میں پیش رفت



