منیلا(شِنہوا)فلپائن کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ چائنہ-آسیان ایکسپو(سی اے ایکسپو) آسیان اور چین کے درمیان تجارتی بہاؤ کو فروغ دینے اور سپلائی چین تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک پل کا کردار ادا کر رہی ہے، جس سے دونوں فریق مشترکہ ترقی کے ثمرات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
فلپائن ایسوسی ایشن فار چائنیز اسٹڈیز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن اور سابق صدر لوسیو پٹلو نے شِنہوا کو خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ “آسیان اور چین کے اقتصادی ڈھانچے ایک دوسرے کے لیے تکمیلی ہیں اورچین-آسیان ایکسپو دونوں فریقوں کے درمیان طلب اور رسد کو مربوط کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔”
چین کے جنوبی گوانگ شی ژوانگ خود مختار خطے کے شہر نان ننگ میں 17 سے 21 ستمبر تک جاری رہنے والی 23ویں سی اے ایکسپومیں 70 سے زائد ممالک اور خطوں کے 3,400 سے زیادہ نمائش کنندگان شرکت کر رہے ہیں۔
پٹلو نے کہا کہ چین برقی گاڑیوں، سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز جیسی ہائی ویلیو ایڈڈ مصنوعات فراہم کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ آسیان کے لیے ایک
“ناگزیر تجارتی اور ترقیاتی شراکت دار” ہے۔
انہوں نے کہا کہ آسیان اعلیٰ معیار کے ناشپاتی، ناریل اور ڈوریان سمیت مختلف پھل پیدا کرتا ہے اور ربڑ، تیل و گیس اور معدنی وسائل سے بھی مالا مال ہے، جو چین کی صارف اشیا اور صنعتی خام مال کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔
تجارتی راہداریوں کا حوالہ دیتے ہوئے پٹلو نے پھنگ لو نہر کو نمایاں کیا، جو بدھ کے روز باضابطہ طور پر ٹریفک کے لیے کھول دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور چین و آسیان کے درمیان رابطے کو مزید گہرا کرنے میں مدد دے گی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ چین کے وسطی اور جنوب مغربی اندرونی علاقوں سے آنے والی اشیا کو پہلے بیرون ملک بھیجنے کے لیے گوانگ ڈونگ کی بندرگاہوں کے ذریعے منتقل کرنا پڑتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا، “اب سمندر تک براہ راست آبی گزرگاہ دستیاب ہونے سے نقل و حمل کا فاصلہ کم ہو جائے گا۔ ویتناام جیسے آسیان ممالک بھی تازہ پھل زیادہ تیزی اور آسانی سے چینی صارفین تک پہنچا سکیں گے۔”
چائنہ-آسیان نمائش مشترکہ ترقی کے ثمرات فراہم کر رہی ہے، ماہر



