بائیس سال کسی انسان کی زندگی کا معمولی عرصہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک نسل کے جوان ہونے کا زمانہ ہے، بچوں کے اسکول سے یونیورسٹی تک پہنچنے کا زمانہ ہے، خوابوں کے حقیقت بننے کا زمانہ ہے، مگر گولڈن پامز گوادر کے متاثرین کے لیے یہ بائیس سال انتظار کی ایسی سزا بن چکے ہیں جس کی کوئی تاریخ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ جن لوگوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ایک ایسے منصوبے میں لگائی جسے ایک بڑے کاروباری گروپ نے گوادر کے مستقبل کا دروازہ قرار دے کر پیش کیا تھا، وہ آج بھی اپنے پلاٹوں اور اپنی رقوم کے منتظر ہیں۔ گولڈن پامز کی اپنی ویب سائٹ بھی اس منصوبے کو سدرالدین ہاشوانی کی وژن قرار دیتی ہے اور اسے ایک ہزار ایکڑ پر پھیلا ہوا منصوبہ بتاتی ہے، جبکہ 2004 میں اس منصوبے کے آغاز کی خبر میں اسے ہاشو گروپ کا 70 ملین ڈالر کا رئیل اسٹیٹ منصوبہ قرار دیا گیا تھا۔اب سوال یہ نہیں کہ گولڈن پامز کا خواب کیا تھا، سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کے خوابوں کا کیا ہوا جنہوں نے اس خواب کی قیمت اپنی جیب سے ادا کی۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ ہزاروں لوگوں نے رقوم جمع کرائیں، مگر دو دہائیاں گزرنے کے باوجود انہیں نہ پلاٹ ملے، نہ رقم واپس ہوئی۔ متاثرین کے نمائندوں کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی اس معاملے سے متاثر ہیں اور سینکڑوں متاثرین کا ڈیٹا جمع کیا جا چکا ہے۔ ایک حالیہ عوامی اپیل میں بھی متاثرین کی جانب سے تقریباً بیس سال سے رقوم اور پلاٹس کے معاملے پر جواب نہ ملنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ یہ محض ایک فائل نہیں، یہ ان خاندانوں کی کہانی ہے جنہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری اس امید کے ساتھ کی کہ ان کی محنت کی کمائی محفوظ ہاتھوں میں ہے، مگر آج وہ اپنی ہی رقم کے لیے در در کی خاک چھاننے پر مجبور ہیں۔اور یہاں سے اصل سوال ریاستی اداروں سے شروع ہوتا ہے۔ نیب خود یہ کہتا رہا ہے کہ ہاؤسنگ اسکیموں اور سرمایہ کاری کے نام پر عوام کو نقصان پہنچانے والے معاملات میں متاثرین کو فوری ریلیف دینا اور ان کی رقوم واپس دلانا اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اپریل 2025 میں چیئرمین نیب نے ہاؤسنگ اسکیموں کے متاثرین کو رقوم واپس کرنے کو نیب کی اولین ترجیح قرار دیا اور مختلف اسکیموں کے متاثرین میں کروڑوں روپے تقسیم کیے گئے۔ نیب کے اپنے ریکارڈ کے مطابق مختلف ہاؤسنگ اسکیموں کے ہزاروں متاثرین کو اربوں روپے واپس کیے جا چکے ہیں۔ پھر سوال یہ ہے کہ گولڈن پامز کے متاثرین کا معاملہ آخر کس الماری میں بند ہے۔ اگر ایک ادارہ دوسرے ہاؤسنگ اسکینڈلز میں متاثرین تک پہنچ سکتا ہے، ان کی رقوم واپس کرا سکتا ہے، پلاٹوں کے قبضے دلوا سکتا ہے اور قانونی کارروائی تیز کر سکتا ہے تو بائیس سال سے اپنی داد رسی کے منتظر ان لوگوں کے لیے وہی ریاستی مشینری کیوں پوری قوت سے حرکت میں نہیں آتی۔اس سے بھی زیادہ سنگین سوال پاکستانی میڈیا سے ہے۔ متاثرین نے اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کی، ان کے نمائندوں نے اپنے دعوے سامنے رکھے، نیب سے رجوع کرنے کی بات کی، اپنے مطالبات صدر مملکت، وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام تک پہنچانے کی بات کی، مگر متاثرین کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود قومی میڈیا میں اس معاملے کو وہ جگہ نہیں ملی جس کا وہ حق رکھتے تھے۔ اگر واقعی کسی پریس کانفرنس میں سیکڑوں شہری بائیس سال پرانا معاملہ لے کر سامنے آئے ہوں، اگر ان کے پاس اپنی ادائیگیوں کے کاغذات، درخواستیں اور سرکاری اداروں سے رابطوں کا ریکارڈ موجود ہو تو یہ صحافت کے لیے خبر ہے اور ایسی خبر ہے جسے دبانا نہیں بلکہ کھول کر سامنے لانا چاہیے۔یہاں کسی مخصوص اخبار یا ٹی وی چینل پر الزام لگانے سے پہلے ایک بنیادی سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ کیا پاکستان کی صحافت صرف ان معاملات کے لیے رہ گئی ہے جہاں اشتہار موجود ہو یا طاقتور شخصیت ناراض ہونے کا خطرہ نہ ہو۔ اگر ایک عام شہری کے پاس اربوں روپے کی کرپشن کا الزام لگانے کے بجائے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی کے ضائع ہونے کی شکایت ہو تو اس کی آواز بھی اتنی ہی اہم ہونی چاہیے جتنی کسی طاقتور شخصیت کی پریس کانفرنس۔ صحافت کا اصل امتحان وہیں ہوتا ہے جہاں سامنے کمزور شہری ہو اور دوسری طرف طاقتور کاروباری مفادات ہوں۔متاثرین کی جانب سے یہ الزام بھی سامنے آتا رہا ہے کہ انہیں میڈیا میں مناسب کوریج نہیں مل سکی اور ان کے خیال میں طاقتور کاروباری تعلقات نے اس معاملے کی آواز کو محدود رکھا۔ اس الزام کی آزادانہ تصدیق الگ سے ضروری ہے، مگر اگر یہ سوال اٹھ رہا ہے تو میڈیا کو خود اس کا جواب دینا چاہیے۔ بڑے کاروباری اداروں کے ساتھ اشتہاری اور تجارتی تعلقات اپنی جگہ، لیکن صحافت کا بنیادی اصول اس سے کہیں بڑا ہے۔ اخبار کا مالک کاروبار کر سکتا ہے، چینل اشتہار لے سکتا ہے، میڈیا ہاؤس منافع کما سکتا ہے، مگر خبر کی قیمت نہیں لگنی چاہیے، کیونکہ جس دن خبر بھی اشتہار کے ترازو میں تولی جانے لگے، اس دن صحافت کا سب سے بنیادی ستون گر جاتا ہے۔گولڈن پامز کے معاملے میں ایک اور اہم حقیقت سرکاری ریکارڈ میں بھی سامنے آتی ہے۔ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی موجودہ این او سی فہرست میں گولڈن پام کو 20 جنوری 2004 کی تاریخ کے ساتھ درج کیا گیا ہے اور اس کا اسٹیٹس اس وقت Suspended دکھایا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے میں بھی گولڈن پام سٹی گوادر کا حوالہ ایک مقدمے کے حقائق میں موجود ہے، جہاں ایک مدعی نے دعویٰ کیا کہ ایک دوسرے ہاؤسنگ منصوبے کے خریداروں کے فنڈز استعمال کرکے گولڈن پام سٹی شروع کیا گیا تھا، اگرچہ یہ عدالت کا حتمی فیصلہ نہیں بلکہ مقدمے میں فریقین کے مؤقف کا بیان ہے۔ اسی طرح ایس ای سی پی کے ایک اپیلیٹ بینچ کے ریکارڈ میں پاکستان سروسز لمیٹڈ کی جانب سے گولڈن پام اسکیم میں دو پلاٹس کی خریداری کے لیے 626.820 ملین روپے کی ادائیگی کا ذکر بھی موجود ہے۔ یہ تمام ریکارڈ اس بات کے متقاضی ہیں کہ معاملے کو محض ایک پرانی پراپرٹی فائل سمجھ کر دفن نہ کیا جائے بلکہ مکمل دستاویزی اور قانونی جانچ پڑتال کی جائے۔نیب کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہے، کیونکہ نیب نے خود مختلف ہاؤسنگ اسکیموں کے متاثرین کو رقم واپس دلانے کی مثالیں قائم کی ہیں۔ نیب کے اپنے ریکارڈ میں ایسے معاملات موجود ہیں جہاں ہزاروں متاثرین کو رقم واپس کی گئی اور بعض کیسز میں پلی بارگین یا قانونی کارروائی کے ذریعے وصولی ہوئی۔ لہٰذا گولڈن پامز کے متاثرین کا مطالبہ بھی سیدھا ہے: تحقیقات کریں، دستاویزات دیکھیں، ذمہ داری کا تعین کریں اور اگر کسی شہری کا حق واقعی ثابت ہوتا ہے تو اسے اس کا حق واپس دلائیں۔ کسی کاروباری نام کی شہرت قانون سے بڑی نہیں ہونی چاہیے اور کسی عام شہری کی کمزوری قانون کے سامنے اس کی کمزوری نہیں بننی چاہیے۔حکومت کے لیے بھی یہ معاملہ ایک امتحان ہے۔ اگر بائیس سال سے لوگ اپنے پیسے اور پلاٹ کے لیے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں تو اب انہیں ایک اور تاریخ، ایک اور کمیٹی، ایک اور درخواست اور ایک اور یقین دہانی نہیں چاہیے، انہیں نتیجہ چاہیے۔ صدر مملکت، وزیراعظم، نیب اور متعلقہ ریاستی اداروں کو اس معاملے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ جانچ کرانی چاہیے اور اگر متاثرین کے دعوے دستاویزی طور پر درست ثابت ہوتے ہیں تو ان کی رقوم یا قانونی طور پر واجب الادا حقوق کی واپسی کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر ہونی چاہیے۔اور پاکستانی میڈیا کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایک کمزور شہری بائیس سال تک اپنا حق مانگتا رہے اور پھر دارالحکومت میں آکر فریاد کرے اور ہماری صحافت اس کی آواز بھی نہ بن سکے تو پھر سوال صرف گولڈن پامز کا نہیں رہتا، سوال صحافت کی روح کا بن جاتا ہے۔ اخبار اگر عوام کی آواز نہیں تو پھر کس کی آواز ہے۔ ٹی وی اگر مظلوم کی فریاد نہیں دکھا سکتا تو پھر اس کی اسکرین کس کے لیے روشن ہے۔ صحافی اگر طاقتور کے سامنے سوال نہیں اٹھا سکتا تو پھر آزادی صحافت کے سارے دعوے کس کتاب میں رکھے جائیں گے۔گولڈن پامز کے متاثرین کو کسی رعایت کی ضرورت نہیں، انہیں خیرات نہیں چاہیے، انہیں اپنا حق چاہیے۔ ان کی فائلوں کو میز سے میز تک دھکیلنے کے بجائے قانون کے سامنے لایا جائے، ان کے دعووں کی مکمل چھان بین کی جائے اور جس کا حق بنتا ہے اسے واپس دلایا جائے۔ یہی ریاست کی ذمہ داری ہے، یہی انصاف کا تقاضا ہے اور یہی صحافت کا اصل امتحان بھی ہے، کیونکہ صحافت کی عظمت اس بات میں نہیں کہ وہ کتنے بڑے لوگوں کی خبر بناتی ہے بلکہ اس میں ہے کہ وہ کتنے بے آواز لوگوں کی آواز بن سکتی ہے۔ورنہ پھر واقعی یہ سوال باقی رہ جائے گا کہ ہم نے میڈیا تو بہت بنا لیے، مگر صحافت کہاں گئی۔
ہاشو گروپ کی ہاشوانیاں اور پاکستانی میڈیا کا شرمناک کردار



