اقتدار کا نشہ بھی عجیب چیز ہے۔
کرسی اونچی ہوتی ہے تو بعض اوقات لہجہ بھی اونچا ہو جاتا ہے۔
مگر عوام کی گردن ہمیشہ جھکی نہیں رہتی۔
سوال دبایا جا سکتا ہے، مگر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اور حساب مانگنے والے عوام کو جواب کے بجائے غرور ملے تو پھر مسئلہ صرف حکومت کا نہیں رہتا، بلکہ پورے سیاسی مزاج کا بن جاتا ہے۔
ملتان کی ایک تقریب میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی گفتگو نے اسی سیاسی مزاج کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ سرکاری طیارے کے استعمال پر اٹھنے والے سوال کے جواب میں ان کا مؤقف ہے کہ یہ سہولت وزارتِ اعلیٰ کے منصب سے وابستہ ہے اور لندن کے سفر کے اخراجات انہوں نے ذاتی طور پر ادا کیے ہیں۔ مگر حضور! مسئلہ صرف یہ نہیں کہ رقم کس نے ادا کی، مسئلہ یہ ہے کہ جس صوبے کا عام آدمی بجلی کے بل کو دیکھ کر پہلے جیب ٹٹولتا ہے، پھر دل تھامتا ہے، وہاں حکمران کے لہجے میں ذرا سی بے نیازی بھی عوام کے زخم پر نمک کا کام کرتی ہے۔ قانون اگر اجازت دیتا ہے تو حساب بھی دے دیجیے، ضابطہ اجازت دیتا ہے تو تفصیل بھی سامنے رکھ دیجیے، معاملہ ختم۔ مگر یہ خیال کہ اقتدار کا اختیار سوال سے بھی بالاتر ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست خدمت سے نکل کر غرور کی گلی میں داخل ہو جاتی ہے۔
اقبال نے شاید ایسے ہی مناظر کے لیے کہا تھا:
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
پنجاب آج اسی بنیادی سوال کے سامنے کھڑا ہے کہ حکومت کی ترقی آخر کس کے لیے ہے؟ سڑکیں بنیں، شہر سجیں، منصوبے آئیں، افتتاح ہوں، فیتے کٹیں، تصویریں چھپیں، اشتہارات چلیں، سب اپنی جگہ۔ مگر جس گھر میں باپ بچوں کی فیس کے لیے پریشان ہو، جس ماں کو دوا خریدنے سے پہلے قیمت پوچھنی پڑے، جس نوجوان کے ہاتھ میں ڈگری ہو مگر روزگار نہ ہو، اور جس مزدور کی تنخواہ مہینے کے پہلے عشرے میں دم توڑ دے، وہاں ترقی کے بڑے بڑے دعوے سن کر عوام آخر تالیاں کس خوشی میں بجائیں؟
حکومت اپنے ترقیاتی منصوبوں کو اپنی کامیابی قرار دیتی ہے اور اسے یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھے، مگر حکومت کا اصل امتحان پریس کانفرنس میں نہیں، بازار میں ہوتا ہے۔ اصل امتحان سرکاری فائل میں نہیں، عام آدمی کے گھر کے بجٹ میں ہوتا ہے۔ اصل کامیابی افتتاحی تختی پر نہیں، اس بچے کے مستقبل میں لکھی جاتی ہے جس کا باپ مہنگائی کے باعث اسے معیاری تعلیم نہیں دے پا رہا۔ اگر تعلیم کے نام پر عمارتیں بڑھ جائیں، مگر معیارِ تعلیم سوالیہ نشان بن جائے، اگر صحت کے نام پر منصوبے بڑھ جائیں، مگر مریض علاج کے لیے پریشان رہے، اگر شہری خوبصورتی کے نام پر شہر چمک اٹھے، مگر روزگار کے راستے سکڑ جائیں، تو پھر حکومت کو آئینے میں صرف اپنی تقریر نہیں، عوام کا چہرہ بھی دیکھنا چاہیے۔
یہ بھی کمال کا زمانہ آ گیا ہے کہ عوام سوال کریں تو اسے سیاسی مخالفت کہہ دیا جاتا ہے، صحافی سوال کرے تو اسے مخالف سمجھ لیا جاتا ہے، سیاسی کارکن اعتراض کرے تو اسے شرپسند کہہ دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی عام شہری بجلی کے بل کا رونا رو دے تو اسے شاید اگلے دن یہ مشورہ بھی مل جائے کہ بھائی، تم نے ترقی کا شوق کیوں پالا تھا؟ لیکن جناب والا! یہ عوام ہیں، کوئی سرکاری تقریب کے سامعین نہیں کہ مائیک آن ہو تو تالیاں بجائیں اور مائیک بند ہو تو گھر چلے جائیں۔ عوام کے اپنے سوال ہیں، اپنے دکھ ہیں، اپنی ضروریات ہیں، اور سب سے بڑھ کر اپنی یادداشت ہے۔
پنجاب کے عوام کو صرف خوبصورت سڑکیں نہیں چاہئیں، انہیں قابلِ برداشت زندگی چاہیے۔ انہیں صرف میٹرو اور بسیں نہیں چاہئیں، انہیں ایسا روزگار چاہیے جس سے وہ ان بسوں میں سفر بھی کر سکیں۔ انہیں صرف نئے منصوبوں کی فہرست نہیں چاہیے، انہیں یہ اطمینان چاہیے کہ ان کے بچوں کا مستقبل ان منصوبوں کے افتتاحی بینروں سے بڑا ہے۔ انہیں صرف حکومتی اعلانات نہیں چاہیے، انہیں بازار میں آٹا، دال، سبزی، گوشت، دوا اور تعلیم کی قیمت میں حقیقی آسانی چاہیے، کیونکہ غریب آدمی بجٹ تقریر نہیں سنتا، وہ دکان پر کھڑا ہو کر قیمت پوچھتا ہے اور پھر خاموشی سے اپنی فہرست میں سے ایک چیز کاٹ دیتا ہے۔
یہ خاموشی کسی بھی حکومت کے لیے سب سے بڑا سوال ہے۔
حکمرانوں کو یہ غلط فہمی نہیں پالنی چاہیے کہ عوام کا غصہ صرف جلسے میں دکھائی دیتا ہے۔ عوام کا غصہ کبھی کبھی خاموش ہوتا ہے، کبھی ووٹ بن جاتا ہے، کبھی سوال بن جاتا ہے، کبھی اخبار کی سرخی بن جاتا ہے، اور کبھی صرف اتنا ہوتا ہے کہ آدمی حکومت کے دعوے سنتا ہے، مسکراتا ہے، اور اپنے خالی بٹوے کو دیکھ کر سوچتا ہے کہ شاید یہ ترقی کسی اور ملک میں ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکمرانوں کو مخالفین کے نعروں سے زیادہ عام آدمی کے خاموش چہرے کو پڑھنا چاہیے۔
مریم نواز کی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج بھی یہی ہے کہ پنجاب کے وسائل کو سیاسی تشہیر سے نکال کر عام شہری کی زندگی میں محسوس ہونے والی بہتری میں تبدیل کیا جائے۔ حکومت اگر یہ سمجھتی ہے کہ اس کی پالیسیاں درست ہیں تو اسے ہر سوال کا جواب غصے سے نہیں، دلیل سے دینا ہوگا۔ اگر سرکاری جہاز کا استعمال ضابطے کے مطابق ہے تو ضابطہ سامنے رکھ دیجیے، اگر اخراجات ذاتی طور پر ادا کیے گئے ہیں تو حساب پیش کردیجیے، اگر ترقیاتی منصوبے کامیاب ہیں تو ان کے نتائج دکھا دیجیے، اگر تعلیم بہتر ہوئی ہے تو معیار کے اعداد و شمار سامنے لائیے، اگر صحت بہتر ہوئی ہے تو مریض کے تجربے کو سامنے رکھیے، اور اگر معیشت سنبھل گئی ہے تو عام آدمی کی جیب کو اس کی گواہی دینے دیجیے۔ اس سے زیادہ آسان امتحان کسی حکومت کے لیے ہو ہی نہیں سکتا۔
لیکن سیاست کا المیہ یہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد ہر حکومت اپنے گرد خوشامد کا ایسا قالین بچھا لیتی ہے کہ اسے عوام کے پاؤں کے چھالے نظر ہی نہیں آتے۔ وزیر، مشیر، افسر، ترجمان اور سیاسی کارکن اپنی اپنی مجبوریوں کے تحت حکومت کو بتاتے رہتے ہیں کہ سب اچھا ہے، سب بہترین ہے، پنجاب ترقی کر رہا ہے، عوام خوش ہیں اور حکومت تاریخ رقم کر رہی ہے۔ مگر جناب! تاریخ کے صفحات ترجمان نہیں لکھتے، حالات لکھتے ہیں، عوام لکھتے ہیں اور آنے والا وقت لکھتا ہے۔ آج کا اشتہار کل کا تاریخی حوالہ نہیں بنتا، اگر اس کے پیچھے حقیقی عوامی تبدیلی موجود نہ ہو۔
مریم نواز کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سیاسی خاندان کی سب سے بڑی طاقت اس کا ماضی نہیں، بلکہ موجودہ کارکردگی ہوتی ہے۔ نام وراثت میں مل سکتا ہے، مگر اعتماد وراثت میں نہیں ملتا۔ عہدہ انتخاب سے مل سکتا ہے، مگر احترام کارکردگی سے ملتا ہے، اور اقتدار ریاستی نظام سے حاصل ہو سکتا ہے، مگر عوامی قبولیت صرف خدمت سے پیدا ہوتی ہے۔ اسی لیے کسی بھی حکمران کے لیے سب سے خطرناک لمحہ وہ نہیں جب مخالفین اس کے خلاف نعرے لگائیں، بلکہ وہ ہوتا ہے جب عوام اس کی تقریر سن کر خاموش ہو جائیں اور اپنے دل میں فیصلہ محفوظ کر لیں۔
آج پنجاب کو ایسے حکمران کی ضرورت ہے جو عوام کو یہ نہ بتائے کہ حکومت نے ان کے لیے کیا کیا، بلکہ ان سے پوچھے کہ انہیں ابھی کیا چاہیے، جو یہ نہ کہے کہ میرے پاس اختیار ہے، بلکہ یہ کہے کہ میرے اختیار کا حساب بھی مجھ سے لیا جا سکتا ہے، جو یہ نہ سمجھے کہ تنقید دشمنی ہے، بلکہ اسے حکومت کی اصلاح کا ذریعہ سمجھے، اور جو یہ نہ بھولے کہ سرکاری جہاز ہو، سرکاری گاڑی ہو، سرکاری خزانہ ہو یا سرکاری منصب، یہ سب عوام کی ملکیت ہیں۔ حکمران صرف ان کے عارضی امین ہیں۔
اقتدار کی دنیا میں سب سے خطرناک بیماری غرور ہے، کیونکہ غرور پہلے کان بند کرتا ہے، پھر آنکھیں بند کرتا ہے، اور آخرکار حقیقت دکھائی دینا بند ہو جاتی ہے۔ لیکن حقیقت اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔ بجلی کا بل اپنی جگہ رہتا ہے، مہنگائی اپنی جگہ رہتی ہے، بے روزگار نوجوان اپنی جگہ رہتا ہے، بیمار مریض اپنی جگہ رہتا ہے، فیس کا منتظر بچہ اپنی جگہ رہتا ہے، اور حکمران کی تقریر ختم ہونے کے بعد عوام پھر اسی بازار میں واپس آ جاتے ہیں جہاں حکومت کے دعوے نہیں، بلکہ اشیا کی قیمتیں ان کی جیب سے حساب لیتی ہیں۔
یہی اصل حساب ہے۔
نہ کسی سیاسی مخالف کا شور
نہ کسی جلسے کی گھن گرج
نہ کسی اشتہار کی چمک
نہ کسی افتتاح کی تختی
اصل حساب اس گھر کا ہے جہاں مہینے کے آخر میں پیسے ختم ہو جاتے ہیں۔
اگر حکومت اس گھر تک آسانی پہنچا دے تو اسے غرور کی ضرورت نہیں رہے گی، عوام خود اس کی گواہی دیں گے، اور اگر اس گھر کا چراغ مہنگائی کے طوفان میں بجھتا رہا تو پھر دنیا بھر کے ترقیاتی دعوے بھی اس اندھیرے کو روشن نہیں کر سکیں گے، کیونکہ اقتدار کی کرسی جتنی بھی بلند ہو، عوام کی مشکلات سے اونچی نہیں ہوتی، اور تاریخ کا اصول بہت سادہ ہے: کرسی بدلتی رہتی ہے، مگر عوام کا حساب باقی رہتا ہے۔
غرور تکبر رعونت کی سیاست کا انجام مریم نواز



