ٹوکیو (شِنہوا) جاپان کے گونما پریفیکچرکے علاقے یوشیوکا میں ایک قبرستان میں اپنے والد کی معذرت پر مبنی یادگار کے سامنے کھڑی 79 سالہ ایاکو کوراہاشی نے کہا کہ ’’کاش میرے والد مجھے چین میں اپنے کئے ہوئے کام کے بارے میں کچھ تو بتا پاتے۔‘‘
کوراہاشی کے والد یوکی چھی اوساوا چین پر جاپان کے حملے کے دوران جاپانی کوانتونگ فوج کے ملٹری پولیس دستے میں خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ چین کے تیانجن، بیجنگ اور شمال مشرقی صوبے حئی لونگ جیانگ کے دونگ ننگ سمیت مختلف مقامات پر تعینات رہے۔
1945 میں جاپان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد اوساوا کو سوویت افواج نے گرفتار کر لیا، تاہم وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور بالآخر جاپان واپس پہنچے۔
کوراہاشی نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ 1986 میں، جب ان کے والد بستر مرگ پر تھے، انہوں نے اپنے تکیے کے پاس سے کاغذ کی ایک پرچی نکالی۔ ’’انہوں نے مجھے وہ پرچی دیتے ہوئے کہا کہ ’میرے مرنے کے بعد یہ الفاظ میری قبر کے کتبے پر کندہ کروا دینا۔‘‘‘
پرچی پر تحریر تھا کہ ’’میں نے سابق جاپانی فوج میں 12 سال اور 8 ماہ خدمات انجام دیں، جن میں سے 10 برس چین میں تعینات فوج کے جونیئر افسر (سابق ملٹری پولیس وارنٹ افسر) کی حیثیت سے گزارے۔ میں جارحیت کی جنگ میں شریک رہا اور چینی عوام کے خلاف اپنے تمام اقدامات پر دل کی گہرائیوں سے پشیمان ہوں۔ میں چینی عوام سے انتہائی گہری معذرت پیش کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘
کوراہاشی نے بتایا کہ ان کے والد نے انہیں کہا تھا کہ انہیں چین کے خلاف جارحیت کی جنگ میں ملٹری پولیس اہلکار کی حیثیت سے حصہ لینے پر افسوس ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی معذرت ایک یادگار پر کندہ کی جائے، تاہم انہوں نے چین میں اپنے حقیقی اقدامات کے بارے میں کبھی کچھ نہیں بتایا۔ دوسری جانب ان کے چچا اور بڑے بھائی نے اس خیال کی سخت مخالفت کی، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس سے خاندان کی بدنامی ہوگی۔
’’آخر میرے والد کو معذرت کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ ‘‘ یہ سوال ہمیشہ کوراہاشی کو پریشان کرتا رہا۔
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے کوراہاشی نے ایک سابق ملٹری پولیس اہلکار سے رابطہ کیا جو اوساوا کے ساتھ خدمات انجام دے چکے تھے۔ انہوں نے انہیں اپنے والد کی بستر مرگ پر کی گئی معذرت کے بارے میں بتایا اور درخواست کی کہ وہ انہیں بتائیں کہ اس وقت ان کے والد نے کیا کیا تھا۔
کوراہاشی نے کہا کہ ’’جب انہوں نے میرے والد کی آخری عمر کی تصاویر دیکھیں تو وہ جذبات سے مغلوب ہوگئے، لیکن انہوں نے اس وقت پیش آنے والے واقعات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔‘‘
اپنے سوالات کے جوابات نہ ملنے کے بعد کوراہاشی نے چین کے خلاف جاپان کی جارحیت کی جنگ کی تاریخ سے متعلق مطالعاتی نشستوں اور سیمینارز میں شرکت شروع کردی۔ ان سرگرمیوں کے دوران ان کی ملاقات چین جاپان زبانی تاریخ و ثقافت تحقیقی انجمن کی ایگزیکٹو نائب صدر اور چین کی چھانگ چھون نارمل یونیورسٹی کی ممتاز پروفیسر لی سوزن سے ہوئی۔
لی نے کہا کہ ’’جاپانی ملٹری پولیس کو گرفتاری کے وسیع اختیارات حاصل تھے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کوراہاشی کے والد ممکنہ طور پر سنگین جرائم میں ملوث رہے ہوں گے، جو اس بات کی وضاحت کر سکتا ہے کہ وہ معذرت کیوں کرنا چاہتے تھے۔
جاپانی مورخ سیا ماتسونو، جو میجی گاکوئن یونیورسٹی کے انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں محقق ہیں، کے مطابق چین پر جاپان کے حملے کی تاریخ کو سمجھنے کے لئے ملٹری پولیس کے کردار کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔
ماتسونو نے حال ہی میں ٹوکیو میں شِنہوا کو بتایا کہ ’’کوانتونگ فوج کے قیام کے وقت ہی ملٹری پولیس چین میں موجود تھی۔ 18 ستمبر کے واقعے اور 7 جولائی کے واقعے کے بعد جب جاپانی جارحیت پھیلتی گئی تو ملٹری پولیس کے دستے چین کے مختلف علاقوں میں تعینات کئے گئے۔‘‘
ماتسونو طویل عرصے سے جدید جاپانی تاریخ اور چین کے خلاف جاپانی جارحیت کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے شِنہوا کو تاریخی دستاویزات کی وہ نقول بھی دکھائیں جو انہوں نے جمع کی تھیں۔
ان میں 1940 میں جاپانی وزارت فوج کی جانب سے منظور کردہ ’’ساکوسن یوموری‘‘ یعنی ’’میدانی خدمات کے ضوابط‘‘ بھی شامل تھے۔ ماتسونو نے ایک حصے کی جانب اشارہ کیا جس میں ملٹری پولیس کی ذمہ داریوں کی وضاحت کی گئی تھی، جن میں فوجی رازوں کی حفاظت، جاسوسوں کی تلاش، مواصلات اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کی نگرانی، نیز ان شہریوں کو دبانا شامل تھا جنہیں ’’دشمن‘‘ تصور کیا جاتا تھا، جن میں جاپانی فوج کے خلاف مزاحمت کرنے والے یا قابض افواج کے ساتھ تعاون سے انکار کرنے والے افراد بھی شامل تھے۔
ماتسونو نے کہا کہ ’’چین پر جاپان کے حملے اور قبضے کے دوران مقامی لوگوں کو دبانے کے لئے ملٹری پولیس جاپانی فوج کے پنجوں اور پیش قدم دستے کے طور پر کام کرتی تھی۔ انہیں بہت وسیع اختیارات حاصل تھے اور یہ ایک انتہائی خوفناک تنظیم تھی۔‘‘
ماتسونو نے کوانتونگ فوج کے ملٹری پولیس کے ایک یونٹ کی خفیہ رپورٹ کی نقل بھی دکھائی۔ دستاویز میں بتایا گیا تھا کہ جاسوسی کے شبے میں آنے والے ایک شخص سے کیسے نمٹا جائے۔
رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اس شخص کی ’’مخالف سمت استعمال‘‘ کے لئے کوئی افادیت نہیں تھی۔ اس اصطلاح سے مراد گرفتار افراد کو جاپانی ایجنٹ کے طور پر استعمال کرنا تھا۔ رپورٹ میں اسے ’’خصوصی منتقلی‘‘ کی سفارش کی گئی۔
ماتسونو نے کہا کہ ’’خصوصی منتقلی سے مراد اس شخص کو یونٹ 731 بھیجنا تھا۔‘‘
یونٹ 731 جسے باضابطہ طور پر کوانتونگ فوج کا وبائی امراض سے بچاؤ اور پانی صاف کرنے کا محکمہ کہا جاتا تھا، نے دوسری جنگ عظیم کے دوران انسانوں پر ہولناک تجربات کئے اور حیاتیاتی و جراثیمی جنگ کے لئے سرگرمیاں انجام دیں۔
کوراہاشی کے والد ملٹری پولیس میں وارنٹ افسر کے عہدے پر فائز تھے۔ ماتسونو نے کہا کہ ملٹری پولیس کے وارنٹ افسران عام طور پر اگلے محاذ پر کارروائیوں میں ماتحت اہلکاروں کی رہنمائی کے ذمہ دار ہوتے تھے اور اوساوا ممکنہ طور پر جاپانی افواج کی مزاحمت کرنے والے افراد کی تلاش، گرفتاری اور انہیں دبانے کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہوں گے۔
کوراہاشی اپنے والد کو ایک سخت مزاج شخص کے طور پر یاد کرتی ہیں، تاہم ایک منظر ان کی یادداشت میں خاص طور پر نقش ہے۔
ایک روز جب وہ جاپان کی چین میں جنگ کے بارے میں ایک ٹیلی ویژن پروگرام دیکھ رہے تھے تو اوساوا رونے لگے۔
کوراہاشی نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’انہوں نے کہا کہ دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ مارے جانے سے پہلے بلند آواز میں چیختے اور اپنی جان کی بھیک مانگتے تھے۔ لیکن کچھ ایسے بھی تھے جو مارے جانے کے وقت بھی عزم کے ساتھ سامنے دیکھتے رہتے تھے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’میرا خیال ہے کہ میرے والد ان لوگوں کو یاد کرکے بہت گہری اذیت محسوس کرتے ہوں گے جنہیں ان لوگوں نے قتل کیا تھا۔‘‘
تاہم کوراہاشی کبھی یہ معلوم نہیں کر سکیں کہ چین میں اپنے برسوں کے دوران ان کے والد نے حقیقت میں کیا کیا تھا۔ اس کے باوجود اپنے والد کی پشیمانی کا تحریری اعتراف پیچھے چھوڑنے کی خواہش ان کے دل میں برقرار رہی۔
ان کے بڑے بھائی جو یادگار تعمیر کرنے کے مخالف تھے، کے انتقال کے بعد کوراہاشی نے اپنے بھتیجے کو خط لکھا اور اس کی رضامندی حاصل کی۔
1998 میں انہوں نے خاندانی قبرستان کے ایک گوشے میں ایک الگ یادگار تعمیر کروائی، جس پر ان کے والد کی مکمل معذرت کندہ کی گئی۔ یوں اوساوا کی آخری خواہش پوری ہوگئی۔
اس کے بعد کوراہاشی کئی مرتبہ چین گئیں اور اپنے والد کی جانب سے پشیمانی کا اظہار کیا۔ انہوں نے چینی عوام کی جاپانی جارحیت کے خلاف مزاحمتی جنگ کے عجائب گھر، نان جنگ میں جاپانی حملہ آوروں کے ہاتھوں قتل عام کے متاثرین کے میموریل ہال اور دیگر مقامات کا دورہ کیا۔
چین پر جاپانی حملے سے متعلق مزید ریکارڈ دیکھنے نے ان پر گہرا اثر چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہر جگہ نے مجھ پر گہرا اثر ڈالا۔‘‘
جاپان میں سابق جونیئر ہائی سکول ٹیچر رہنے والی کوراہاشی نے کہا کہ جاپانی معاشرے نے جنگ کی تاریخ پر مناسب طور پر غور نہیں کیا۔ ان کے مطابق جاپانی کلاس رومز میں اساتذہ طلبہ کو ان بعض مقامات کے بارے میں بتاتے ہیں جہاں جاپانی فوج تعینات تھی، لیکن اکثر اس بات کی گہرائی میں نہیں جاتے کہ وہاں جاپانی افواج نے حقیقت میں کیا کیا تھا۔
کوراہاشی کی خواہش ہے کہ جاپان اپنی جارحیت کی تاریخ کا سامنا کرے اور اس پر غور کرے اور ان کے والد کی یادگار پر کندہ معذرت کے الفاظ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچیں۔
جاپان میں دائیں بازو کے رجحان میں اضافے اور ’’نئی عسکریت پسندی‘‘ کے دوبارہ ابھرنے کے حوالے سے بڑھتی تشویش کے درمیان کوراہاشی کو خدشہ ہونے لگا کہ یادگار کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے رواں سال یادگار کی ایک نقل چھانگ چھون نارمل یونیورسٹی کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
کوراہاشی نے کہا کہ ’’جو چیز ہماری آنکھوں کے سامنے سے غائب ہوجاتی ہے، وہ ہمارے دلوں سے بھی غائب ہوجاتی ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ ایک دن یہ کہاوت حقیقت بن جائے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں دل سے امید کرتی ہوں کہ معذرت کی یہ یادگار کبھی تباہ نہ ہو اور ہمیشہ یہاں قائم رہے، تاریخ کی حقیقت کو آشکار کرے اور عالمی امن کی حفاظت کرے۔‘‘
ایک باپ کی خواہش، چین میں جاپانی جارحیت پر معذرت کے لئے بیٹی کا مشن



