بیجنگ (شِنہوا) چین میں 2026 کے پہلے8 ماہ کے دوران ریلوے کی تعمیر نے مستحکم رفتار برقرار رکھی اور متعدد اہم منصوبوں پر نمایاں پیش رفت حاصل کی گئی۔چائنہ اسٹیٹ ریلوے گروپ کمپنی لمیٹڈ کے مطابق پہلے 8 ماہ کے دوران ریلوے شعبے میں فکسڈ اثاثوں کی سرمایہ کاری 511.8 ارب یوآن (تقریباً 75.68 ارب امریکی ڈالر) رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 1.5 فیصد زیادہ ہے۔کمپنی نے کہا کہ ریلوے کی تعمیر میں مسلسل پیش رفت نے متعلقہ صنعتوں اور روزگار کو فروغ دینے میں مدد دی ہےجس سے ملکی مانگ میں اضافے اور مستحکم اقتصادی ترقی کو نئی رفتار ملی ہے۔حالیہ عرصے میں متعدد اہم منصوبوں پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر چین کے مشرقی صوبے ژے جیانگ میں ہانگ ژو-شاؤ شنگ-تائی ژو تیز رفتار ریلوے کا وین لنگ-یوہوان سیکشن ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ژے جیانگ کے جنوب مشرقی شہر یوہوان سے صوبائی دارالحکومت ہانگ ژو تک براہ راست تیز رفتار ٹرین کے ذریعے سفر کا دورانیہ ایک گھنٹہ 47 منٹ رہ گیا ہے۔کمپنی نے کہا کہ وہ 15ویں 5 سالہ منصوبے (2026-2030) کے خاکے میں طے کردہ ریلوے تعمیراتی اہداف پر مکمل عملدرآمد کرے گی، نئی ریلوے لائنوں کی منصوبہ بندی اور تعمیر کو روایتی ریلوے کے اپ گریڈ اور گنجائش میں اضافے کے ساتھ مربوط کرے گی اور اعلیٰ معیار کی اقتصادی و سماجی ترقی میں معاونت کے لئے ریلوے سرمایہ کاری کے معیار اور افادیت کو مسلسل بہتر بنائے گی۔چین نے دنیا کا سب سے بڑا تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک قائم کر لیا ہے۔ 2025 کے اختتام تک ملک میں فعال ریلوے لائنوں کی مجموعی لمبائی ایک لاکھ 65 ہزار کلومیٹر تک پہنچ گئی تھی، جن میں 50 ہزار کلومیٹر سے زائد تیز رفتار ریلوے شامل ہے۔کمپنی کے مطابق 2030 تک ملک میں فعال ریلوے لائنوں کی مجموعی لمبائی ایک لاکھ 80 ہزار کلومیٹر تک پہنچنے کی توقع ہے، جن میں تقریباً 60 ہزار کلومیٹر تیز رفتار ریلوے ہوگی۔
چین میں پہلے 8 ماہ کے دوران ریلوے کے فکسڈ اثاثوں میں سرمایہ کاری 1.5 فیصد بڑھ گئی



