اے آئی میں چین کی ترقی اور جامع نظم ونسق کو عالمی سطح پر اہمیت حاصل ہے، پولش ماہر

کارپاچ، پولینڈ (شِنہوا) پولینڈ کے مصنوعی ذہانت کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ چین نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے جبکہ اے آئی کے نظم ونسق کے حوالے سے چین کا ترقی پر مبنی اور جامع نقطہ نظر بھی عالمی سطح پر اہمیت حاصل کر رہا ہے۔
جیگلونین یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف دی مڈل اینڈ فار ایسٹ کے شعبہ چین کے سربراہ لوکاش گاسیک نے پولینڈ کے جنوب مغربی شہر کارپاچ میں منعقدہ 35ویں اقتصادی فورم کے موقع پر شِنہوا کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ چین نے ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں اے آئی کے شعبے میں ایک غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔
گاسیک عصر حاضر کے چین، عالمی نظم نسق، توانائی کی منتقلی اور بین الاقوامی سیاست میں مصنوعی ذہانت کے ماہر ہیں۔
گاسیک نے 2017 میں شنگھائی میں اپنے کام کے دوران چین کی جدید مصنوعی ذہانت کی ترقی کے منصوبے پر گہری نظر رکھی۔ اس منصوبے میں اے آئی کی ترقی کے لئے تین مرحلوں 2020 تک اے آئی ٹیکنالوجی اور اس کے استعمال میں دنیا کے اہم ممالک کے برابر آنے، 2025 تک اہم نظریاتی پیش رفت کرنے اور 2030 تک چین کو اے آئی کی عالمی جدت کا ایک بڑا مرکز بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
گاسیک نے کہا کہ جس چیز نے میری توجہ حاصل کی وہ یہ تھی کہ یہ منصوبہ کتنی تیزی سے سرکاری اداروں سے آگے بڑھا اور جامعات، کمپنیوں اور دیگر شعبوں تک پہنچ گیا۔
گاسیک کے مطابق اس کی ایک مثال 2017 کے بعد اے آئی کی تعلیم میں تیزی سے ہونے والی توسیع ہے۔ اسی عرصے میں چینی جامعات نے مصنوعی ذہانت میں باقاعدہ ڈگری پروگرام شروع کئے۔ ایک دہائی سے بھی کم عرصے بعد ان کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کی 300 سے زائد جامعات مصنوعی ذہانت میں خصوصی ڈگری پروگرام پیش کر رہی ہیں جبکہ سیکڑوں دیگر جامعات نے اے آئی سے متعلق کورسز متعارف کرائے ہیں یا اپنے وسیع تر نصاب میں اے آئی کو شامل کیا ہے۔
ان کے خیال میں چین کے تجربے کی اہمیت محض تکنیکی ترقی تک محدود نہیں۔ چین نے اے آئی کی عالمی نظم ونسق سے متعلق مباحث میں صلاحیت سازی اور ترقی پذیر ممالک کی شرکت کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔
اے آئی کے بارے میں عالمی سطح پر ہونے والی زیادہ تر بحث کا مرکز حفاظت، ضابطہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرکردہ طاقتوں کے درمیان مسابقت رہا ہے۔ گاسیک نے کہا کہ چین نے ایک اہم سوال اٹھایا ہے کہ ایسے ممالک جن کے پاس جدید چپس، بڑے اے آئی ماڈلز یا کافی کمپیوٹنگ سہولت موجود نہیں وہ اے آئی کی تبدیلی کے عمل میں بامعنی طور پر کیسے شریک ہو سکتے ہیں؟
جولائی 2024 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں صلاحیت سازی کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون مضبوط بنانے سے متعلق چین کی پیش کردہ قرارداد منظور کی۔ اسی سال کے آخر میں چین نے مصنوعی ذہانت کی جامع ترقی کے لئے ایک لائحہ عمل پیش کیا جس میں بنیادی سہولتوں ، اوپن سورس تعاون، تربیت اور اے آئی کے عالمی نظم ونسق سے متعلق تبادلوں سمیت مختلف شعبوں کے لئے تجاویز شامل تھیں۔
گاسیک نے مزید کہا کہ چین کا افریقی ممالک، آسیان کے رکن ممالک اور برکس ممالک کے ساتھ تعاون بھی اسی نوعیت کی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔
گاسیک نے کہا کہ یہ طریقہ ترقی پذیر ممالک کے لئے خاص طور پر اہم ہے کیونکہ اس سے انہیں اپنی ٹیکنالوجی کی صلاحیت بڑھانے اور نئی ٹیکنالوجیز کے قواعد بنانے میں زیادہ موثر کردار ادا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔



  تازہ ترین   
سعودی عرب کے دفاع کے لیے تمام دستیاب وسائل فراہم کریں گے: خواجہ آصف
سندھ طاس معاہدہ پاکستانیوں کی زندگی اور بقا کا مسئلہ، یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے: عطاء تارڑ
بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے حکومت نے مزید قرض لینے کا منصوبہ بنا لیا
عراق سے امریکی افواج کا انخلا مکمل، کل ’یوم خودمختاری‘ منانے کا اعلان
امریکا اور اسرائیل اب ایران میں اندورنی تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں: مسعود پزشکیاں
پاکستان کا ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران جانی نقصان پر اظہار تعزیت
سکیورٹی فورسز کی بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کامیاب کارروائیاں، 4 دہشتگرد ہلاک
ایران کی صورتحال انتہائی خراب، نہیں معلوم ہتھیار ڈالنے والے ہیں یا نہیں: صدر ٹرمپ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر