شنگھائی (شِنہوا) امریکی چیمبر آف کامرس ان شنگھائی (ایم چھیم شنگھائی) کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والی ’’2026 چائنہ بزنس رپورٹ‘‘ میں چین میں کاروبار کرنے والی رکن کمپنیوں کے درمیان کاروباری اعتماد میں نمایاں بحالی سامنے آئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کاروباری اعتماد میں نمایاں بہتری آئی ہے اور 58 فیصد جواب دہندگان نے چین میں آئندہ 5سال کے کاروباری امکانات کے بارے میں امید کا اظہار کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق منافع حاصل کرنے والی کمپنیوں کی شرح 2019 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ 2025 میں 78 فیصد جواب دہندگان کی کمپنیوں نے منافع کمایا، جو 2024 کے مقابلے میں 7 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کاروباری اعتماد میں بحالی اور زیادہ کمپنیوں کی جانب سے منافع کی اطلاع کے ساتھ چین میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اعتماد بھی مضبوط ہوا، جس کے نتیجے میں گزشتہ سال 28 فیصد جواب دہندگان نے چین میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا، جو 4 سال کی بلند ترین سطح ہے۔
مارکیٹ کے بہتر رجحانات چین کے کاروباری ماحول کے بارے میں مثبت جائزے سے بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ سروے میں شامل 55 فیصد کمپنیوں نے کہا کہ چین کا کاروباری ماحول شفاف ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔
ایم چھیم شنگھائی کے چیئرمین جیفری لے مین نے کہا کہ ’’ارکان نے ضوابط سے متعلق ماحول کو بہتر بنانے کے لئے حکومت کی کوششوں کو واضح طور پر محسوس کیا ہے اور اس سال ان بہتریوں کو امریکہ اور چین کے درمیان زیادہ مستحکم تعلقات سے مزید تقویت ملی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ہم دونوں ممالک پر زور دیتے ہیں کہ حالیہ روابط سے پیدا ہونے والی مثبت رفتار کو آگے بڑھائیں اور ایک مستحکم اور شفاف نظام کو مضبوط کریں جو سرحد پار تجارت اور سرمایہ کاری کے لئے سازگار ہو۔‘‘
ایم چھیم شنگھائی کے صدر ایرک ژینگ نے چینی مارکیٹ کی انتہائی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بنیادی طور پر دو جہتیں ہیں۔
ژینگ نے کہا کہ چین دنیا کے سب سے زیادہ موثر پیداواری مراکز میں سے ایک ہے اور ارکان کی مصنوعات اور خدمات کے لئے ایک انتہائی اہم سٹریٹجک مارکیٹ کا درجہ برقرار رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہی مثبت رجحان کی بنیاد ہے۔‘‘
ایم چھیم شنگھائی کی رپورٹ میں رکن کمپنیوں کے کاروباری اعتماد میں نمایاں بحالی کا اظہار



