نیویارک (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کی جانب سے جوابی محصولات عائد کئے جانے کے ردعمل میں امریکی حکومت کے معاہدوں کی فہرستوں سے کینیڈین مصنوعات ہٹانے کا حکم دے دیا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ وہ جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن (جی ایس اے) کو ہدایت دے رہے ہیں کہ جب تک کینیڈا امریکی کسانوں اور کمپنیوں کے لئے مکمل اور منصفانہ تجارتی سہولت بحال نہیں کرتا وہ امریکی تجارتی نمائندے (یو ایس ٹی آر) کے ساتھ مل کر جی ایس اے کی مختلف سرکاری خریداری کی فہرستوں سے کینیڈا میں تیار ہونے والی مصنوعات ہٹانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کریں۔
ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا امریکی ڈیری فارمز کے کسانوں کو کینیڈین منڈی میں اپنی مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور کینیڈا میں گاڑیوں کی صنعت صرف سابق امریکی صدور کے دور میں کئے گئے “تباہ کن تجارتی معاہدوں” کی وجہ سے قائم ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کینیڈا کئی برس سے امریکہ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ کینیڈا کی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے امریکی چھوٹے کاروباری اداروں اور کمپنیوں کو سرکاری خریداری کی منڈیوں میں اپنی مصنوعات فروخت کرنے سے روک رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ برابری نہیں بلکہ کینیڈا کی تجارتی دھوکہ دہی ہے۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اب سے برابری نہیں تو رسائی بھی نہیں!
یہ حکم امریکہ اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ امریکہ نے 22 اگست سے کینیڈا کی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی اشیاء پر 50 فیصد محصولات عائد کئے تھے جس کے جواب میں کینیڈا نے بھی منگل سے اتنی ہی مالیت کی امریکی درآمدات پر مساوی محصولات عائد کر دیئے ہیں۔
ٹرمپ کا امریکی حکومت کے معاہدوں کی فہرستوں سے کینیڈین مصنوعات ہٹانے کا حکم



