نیشنل ٹائمز/ سپیشل رپورٹ
جب قومی اسمبلی میں فیصلہ ہوا کہ قادیانیت کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنا موقف اور دلائل دینے قومی اسمبلی میں آئیں تو!
مرزا ناصر قادیانی سفید شلوار کرتے میں ملبوس، طرہ دار پگڑی باندھے، متشرع سفید داڑھی کے ساتھ آیا۔ قرآن کی آیتیں بھی پڑھ رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ مبارک زبان پر لاتا تو پورے ادب کے ساتھ درودِ شریف بھی پڑھتا۔
ایسے میں ارکانِ اسمبلی کے ذہنوں کو تبدیل کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔
یہ مسئلہ بہت بڑا اور مشکل تھا۔
اللہ کی شان کہ پورے ایوان کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانی صاحب کو ایوان کی ترجمانی کا شرف ملا، اور نورانی صاحب نے راتوں کو جاگ جاگ کر مرزا غلام قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کیا، حوالے نوٹ کیے اور سوالات ترتیب دیے۔
اسی کا نتیجہ تھا کہ مرزا طاہر قادیانی کے طویل بیان کے بعد جرح کا جب آغاز ہوا تو سوالات نورانی صاحب کی طرف سے اور جوابات مرزا طاہر قادیانی کی طرف سے آپ کی خدمت میں:
سوال: مرزا غلام احمد کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟
جواب: وہ امتی نبی تھے۔ امتی نبی کا معنی یہ ہے کہ امتِ محمدیہ کا فرد، جو آپ کے کامل اتباع کی وجہ سے نبوت کا مقام حاصل کر لے۔
سوال: اس پر وحی آتی تھی؟
جواب: آتی تھی۔
سوال: اس میں خطا کا کوئی احتمال؟
جواب: بالکل نہیں۔
سوال: مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ’’جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لاتا، خواہ اس کو میرا نام نہ پہنچا ہو، وہ کافر ہے، پکا کافر، دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘ اس عبارت سے تو ستر کروڑ مسلمان سب کافر ہیں؟
جواب: کافر تو ہیں، لیکن چھوٹے کافر ہیں، جیسا کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ’’کفر دون کفر‘‘ کی روایت درج کی ہے۔
سوال: آگے مرزا نے لکھا ہے: پکا کافر؟
جواب: اس کا مطلب ہے اپنے کفر میں پکے ہیں۔
سوال: آگے لکھا ہے: دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ حالانکہ چھوٹا کفر ملت سے خارج ہونے کا سبب نہیں بنتا ہے؟
جواب: دراصل دائرۂ اسلام کی کئی کیٹیگریاں ہیں۔ اگر بعض سے نکلا ہے تو بعض سے نہیں نکلا ہے۔
سوال: ایک جگہ اس نے لکھا ہے کہ جہنمی بھی ہیں؟
یہاں نورانی صاحب فرماتے ہیں: جب قومی اسمبلی کے ممبران نے یہ سنا تو سب کے کان کھڑے ہو گئے کہ اچھا، ہم جہنمی ہیں! اس سے ممبروں کو دھچکا لگا۔
اسی موقع پر دوسرا سوال کیا کہ مرزا قادیانی سے پہلے کوئی نبی آیا ہے جو امتی نبی ہو؟ کیا صدیقِ اکبرؓ یا حضرت عمر فاروقؓ امتی نبی تھے؟
جواب: نہیں تھے۔
اس جواب پر نورانی صاحب نے کہا:
’’پھر تو مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد آپ کا، ہمارا عقیدہ ایک ہو گیا۔ بس فرق یہ ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت ختم سمجھتے ہیں، تم مرزا غلام قادیانی کے بعد نبوت ختم سمجھتے ہو۔ تو گویا تمہارا خاتم النبیین مرزا غلام قادیانی ہے، اور ہمارے خاتم النبیین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‘‘
جواب: وہ فنا فی الرسول تھے۔ یہ ان کا اپنا کمال تھا۔ وہ عین محمد ہو گئے تھے۔ (معاذ اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے زیادہ توہین کیا ہو سکتی تھی؟)
سوال: مرزا غلام قادیانی نے اپنی کتابوں کے بارے میں لکھا ہے: ’’اسے ہر مسلم محبت و مودت کی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے اور ان کے معارف سے نفع اٹھاتا ہے، مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعوے کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر (ذریتہ البغایا) بدکار عورتوں کی اولاد، وہ لوگ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا رکھی ہے، وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔‘‘
جواب: بغایا کے معنی سرکشوں کے ہیں۔
سوال: بغایا کا لفظ قرآنِ پاک میں آیا ہے: ’’وما کانت أمک بغیا‘‘، سورۃ مریم۔ ترجمہ ہے: ’’تیری ماں بدکارہ نہ تھی۔‘‘
جواب: قرآن میں ’’بغیا‘‘ ہے، ’’بغایا‘‘ نہیں۔
اس جواب پر نورانی صاحب نے فرمایا کہ صرف مفرد اور جمع کا فرق ہے۔ نیز جامع ترمذی شریف میں اس مفہوم میں لفظ ’’بغایا‘‘ بھی مذکور ہے، یعنی: ’’البغایا اللاتی ینکحن أنفسهن بغیر بینۃ‘‘۔
پھر جوش سے کہا:
’’میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں کہ تم لفظ ’بغیہ‘ کا استعمال اس معنی (بدکارہ) کے علاوہ کسی دوسرے معنی میں ہرگز کر کے دکھا نہیں سکتے!‘‘
(اور مرزا طاہر لاجواب ہوا یہاں۔)
13 دن کے سوال و جواب کے بعد فیصلہ
13 دن کے سوال و جواب کے بعد جب فیصلہ کی گھڑی آئی تو 22 اگست 1974ء کو اپوزیشن کی طرف سے 6 افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی، جن میں مفتی محمود صاحب، مولانا شاہ احمد نورانی صاحب، پروفیسر غفور احمد صاحب، چودھری ظہور الٰہی صاحب، مسٹر غلام فاروق صاحب، سردار مولا بخش سومرو صاحب، اور حکومت کی طرف سے وزیرِ قانون عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب تھے۔
ان کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ یہ آئینی و قانونی طور پر اس کا حل نکالیں، تاکہ آئینِ پاکستان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کے کفر کو درج کر دیا جائے۔
لیکن اس موقع پر ایک اور مناظرہ منتظر تھا۔
کفرِ قادیانیت و لاہوری گروپ پر قومی اسمبلی میں جرح تیرہ روز تک جاری رہی۔ گیارہ دن ربوہ گروپ پر اور دو دن لاہوری گروپ پر۔ ہر روز آٹھ گھنٹے جرح ہوئی۔ اس طویل جرح و تنقید نے قادیانیت کے بھیانک چہرے کو بے نقاب کر کے رکھ دیا۔
اس کے بعد ایک اور مناظرہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت سے شروع ہوا کہ آئینِ پاکستان میں اس مقدمہ کا ’’حاصلِ مغز‘‘ کیسے لکھا جائے؟
مسلسل بحث مباحثے کے بعد، 22 اگست سے 5 ستمبر 1974ء کی شام تک اس کمیٹی کے بہت سے اجلاس ہوئے، مگر متفقہ حل کی صورت گری ممکن نہ ہو سکی۔
سب سے زیادہ جھگڑا دفعہ 106 میں ترمیم کے مسئلے پر ہوا۔
حکومت چاہتی تھی کہ اس میں ترمیم نہ ہو۔ اس دفعہ 106 کے تحت صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی تھی۔ ایک بلوچستان میں، ایک سرحد میں، ایک دو سندھ میں اور پنجاب میں تین سیٹیں، اور کچھ 6 اقلیتوں کے نام بھی لکھے ہیں: عیسائی، ہندو، پارسی، بدھ اور شیڈول کاسٹ یعنی اچھوت۔
نورانی صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان یہ چاہتے تھے کہ ان 6 کی قطار میں قادیانیوں کو بھی شامل کیا جائے، تاکہ کوئی ’’شبہ‘‘ باقی نہ رہے۔
اس کے لیے بھٹو حکومت تیار نہ تھی۔
وزیرِ قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا: ’’اس بات کو رہنے دو۔‘‘
نورانی صاحب نے کہا: ’’جب اور اقلیتوں اور فرقوں کے نام فہرست میں شامل ہیں تو ان کا نام بھی لکھ دیں۔‘‘
پیرزادہ نے جواب دیا کہ ان اقلیتوں کا خود کا مطالبہ تھا کہ ہمارا نام لکھا جائے، جب کہ مرزائیوں کی یہ ڈیمانڈ نہیں ہے۔
نورانی صاحب نے کہا:
’’یہ تو تمہاری تنگ نظری اور ہماری فراخ دلی کا ثبوت ہے کہ ہم ان مرزائیوں کو بغیر ان کی ڈیمانڈ کے انہیں دے رہے ہیں۔‘‘
کمال کا جواب!
اس بحث مباحثے کا 5 ستمبر کی شام تک کمیٹی کوئی فیصلہ ہی نہ کر سکی۔
چنانچہ 6 ستمبر کو وزیراعظم بھٹو نے نورانی صاحب سمیت پوری کمیٹی کے ارکان کو پرائم منسٹر ہاؤس بلایا۔ لیکن یہاں بھی بحث و مباحثے کا نتیجہ صفر نکلا۔
حکومت کی کوشش تھی کہ دفعہ 106 میں ترمیم کا مسئلہ رہنے دیا جائے، جب کہ نورانی صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان سمجھتے تھے کہ اس کے بغیر حل ادھورا رہے گا۔
بڑے بحث و مباحثے کے بعد بھٹو صاحب نے کہا: ’’میں سوچوں گا۔‘‘
عصر کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔ وزیرِ قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے نورانی صاحب اور دیگر کمیٹی ارکان کو اسپیکر کے کمرے میں بلایا۔
نورانی صاحب اور کمیٹی نے وہاں بھی اپنے اسی موقف کو دہرایا کہ دفعہ 106 میں دیگر اقلیتوں کے ساتھ مرزائیوں کا نام لکھا اور اس کی تصریح کی جائے، اور بریکٹ میں قادیانی اور لاہوری گروپ لکھا جائے۔
پیرزادہ صاحب نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو مرزائی نہیں کہتے، احمدی کہتے ہیں۔
نورانی صاحب نے کہا: ’’احمدی تو ہم ہیں۔ ہم ان کو احمدی تسلیم نہیں کرتے۔‘‘
پھر کہا: ’’چلو، مرزا غلام احمد کے پیروکار لکھ دو۔‘‘
وزیرِ قانون نے نکتہ اٹھایا کہ آئین میں کسی شخص کا نام نہیں ہوتا، حالانکہ محمد علی جناح کا نام آئین میں موجود ہے، اور پھر سوچ کر بولے:
’’نورانی صاحب! مرزا کا نام ڈال کر کیوں آئین کو پلید کرتے ہو؟‘‘
وزیرِ قانون کا خیال تھا شاید نورانی صاحب اس حیلے سے ٹل جائیں گے۔
لیکن نورانی تو پھر نورانی صاحب تھے!
نورانی صاحب نے جواب دیا:
’’شیطان، ابلیس، خنزیر اور فرعون کے نام تو قرآنِ پاک میں موجود ہیں۔ کیا ان ناموں سے، نعوذ باللہ، قرآنِ پاک کی صداقت و تقدس پر کوئی اثر پڑا ہے؟‘‘
اس موقع پر وزیرِ قانون پیرزادہ صاحب لاجواب ہو کر کہنے لگے:
’’چلو، ایسا لکھ دو: جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں۔‘‘
نورانی صاحب نے کہا:
’’بریکٹ بند ثانوی درجے کی حیثیت رکھتا ہے۔ صرف وضاحت کے لیے ہوتا ہے۔ لہٰذا یوں لکھ دو: قادیانی گروپ، لاہوری گروپ، جو اپنے کو احمدی کہتے ہیں۔‘‘
اور پھر الحمدللہ، اس پر فیصلہ ہو گیا۔
تاریخی فیصلہ
7 ستمبر 1974ء ہمارے ملک پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا وہ یادگار دن تھا جب 1953ء اور 1974ء کے شہیدانِ ختمِ نبوت کا خون رنگ لایا، اور ہماری قومی اسمبلی نے ملی امنگوں کی ترجمانی کی اور عقیدۂ ختمِ نبوت کو آئینی تحفظ دے کر قادیانیوں کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دے دیا۔
دستور کی دفعہ 260 میں اس تاریخی شق کا اضافہ یوں ہوا:
’’جو شخص خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت پر مکمل اور غیر مشروط ایمان نہ رکھتا ہو، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی معنی و مطلب یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو، وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں۔‘‘
اور دفعہ 106 کی نئی شکل کچھ یوں بنی:
’’بلوچستان، پنجاب، سرحد اور سندھ کے صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں میں ایسے افراد کے لیے مخصوص نشستیں ہوں گی جو عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ اور پارسی فرقوں اور قادیانی گروہ یا لاہوری افراد (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) یا شیڈول کاسٹس سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی بلوچستان میں ایک، سرحد میں ایک، پنجاب میں تین اور سندھ میں دو سیٹیں ہوں گی۔‘‘
یہ بات اسمبلی کے ریکارڈ پر ہے کہ اس ترمیم کے حق میں 130 ووٹ آئے اور مخالفت میں ایک بھی ووٹ نہیں آیا۔
اس موقع پر اس مقدمہ کے قائد مولانا شاہ احمد نورانی رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’اس فیصلے پر پوری قوم مبارک باد کی مستحق ہے۔ اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ عالمِ اسلام میں اطمینان کا اظہار کیا جائے گا۔ میرے خیال میں مرزائیوں کو بھی اس فیصلے کو خوش دلی سے قبول کرنا چاہیے، کیونکہ اب انہیں غیر مسلم کے جائز حقوق ملیں گے۔‘‘
اور پھر فرمایا:
’’سیاسی طور پر تو میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ ملک کے الجھے ہوئے مسائل کا حل بندوق کی گولی میں نہیں، بلکہ مذاکرات کی میز پر ملتے ہیں۔‘‘



