بیجنگ (شِنہوا) چین نے پیر کے روز ریشم، چائے اور چینی مٹی کے برتنوں جیسی قدیم روایتی صنعتوں کی اعلیٰ معیار ککی ترقی کو فروغ دینے کے لئے اپنے پہلے قومی رہنما اصول جاری کئے ہیں۔
اس کا ہدف 2028 تک ایسی 50 سرکردہ کمپنیوں کی تشکیل ہے جن میں سے ہر ایک کی سالانہ آمدنی 10 ارب یوآن (تقریباً 1.48 ارب امریکی ڈالر) سے زائد ہو۔
وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم آئی آئی ٹی) اور دیگر 5سرکاری محکموں کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری ہونے والے رہنما اصولوں کا مقصد 2028 تک 100 قومی صارف برانڈز تشکیل دینا اور 100 ارب یوآن سے زائد سالانہ پیداوار رکھنے والے متعدد صنعتی کلسٹرز قائم کرنا بھی ہے۔ اس کے علاوہ 2030 تک عالمی معیار کی کمپنیوں اور معروف برانڈز کو فروغ دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ یہ عالمی صنعتیں ویلیو چین میں بلند مقام حاصل کر سکیں۔
رہنما اصولوں کے مطابق گہری چینی خصوصیات کی حامل ان قدیم صنعتوں کو ترقی دینا، جن میں روایتی چینی طب، فنون و دستکاری اور ’’مطالعے کے 4 خزانے‘‘ یعنی قلم، سیاہی کی ڈلی، کاغذ اور سیاہی دان بھی شامل ہیں، اندرونی طلب بڑھانے اور کھپت کو فروغ دینے کا موثر ذریعہ ہے۔ یہ چینی تہذیب کی میراث کو آگے منتقل کرنے اور ثقافتی اعتماد مضبوط بنانے کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔
وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نائب وزیر شئے یوآن شینگ نے پیر کے روز ایک میڈیا کانفرنس میں بتایا کہ ان روایتی صنعتوں کے نمایاں شعبوں میں اس وقت مقررہ حجم سے زیادہ کاروبار کرنے والی تقریباً 25 ہزار کمپنیاں ہیں، جن میں تقریباً 35 لاکھ افراد ملازمت کرتے ہیں اور ان کی سالانہ آمدنی تقریباً 80 کھرب یوآن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’قدیم روایتی صنعتیں چینی تہذیب کا نچوڑ اور قومی خزانہ ہیں۔‘‘
یہ رہنما اصول ایسے وقت میں جاری کئے گئے ہیں جب چین اپنے ثقافتی ورثے کو مارکیٹ میں مسابقتی طاقت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اشیائے صرف صنعت کے شعبے کے ایک عہدیدار فینگ ہائی کانگ نے نشاندہی کی کہ چین کی تقریباً 90 فیصد ریشمی مصنوعات برآمد کی جاتی ہیں، تاہم ان میں زیادہ تر خام مال یا اصل سازوسامان تیار کرنے والے اداروں کی مصنوعات ہوتی ہیں، جبکہ عالمی مارکیٹ میں چینی مقامی برانڈز کی قیمت طے کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔
چین نے ریشم سمیت مختلف روایتی صنعتوں کی ترقی کے لئے قومی رہنما اصول جاری کردیے



