کراچی (نیشنل ٹائمز) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یومِ دفاع کے موقع پر مسلح افواج کے شہداء، غازیوں اور بہادر جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مادرِ وطن کے دفاع، خودمختاری اور سربلندی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر سپوتوں کو قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
پی پی پی چیئرمین نے اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ دفاع پاکستان کے لیے دی جانے والی لازوال قربانیوں کی ایک پُرعزم یاد دہانی ہے۔ ہمارے شہداء کا خون ہماری قومی زندگی کے تانے بانے میں رچا بسا ہے اور ان کی قربانی ہمیشہ ہماری قوم کے لیے ایک مقدس امانت رہے گی۔
انہوں نے شہداء کے اہلِ خانہ کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان والدین، بیوی بچوں اور عزیز و اقارب نے اپنے پیاروں کی ناقابلِ تلافی جدائی کے غم کو غیر معمولی حوصلے اور وقار کے ساتھ برداشت کیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری مسلح افواج نے دہشت گردی سمیت ہر خطرے کے خلاف ملک کے دفاع کا فریضہ غیر متزلزل عزم، بہادری اور استقامت کے ساتھ جاری رکھا ہے۔ ملک کے امن، استحکام اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کا مضبوط ترین دفاع صرف عسکری قوت میں نہیں بلکہ قومی یکجہتی، جمہوریت، آئینی بالادستی، معاشی اور سماجی انصاف میں بھی مضمر ہے۔ پاکستان کی اصل طاقت اس کے عوام ہیں، جمہوریت، مساوات اور انصاف کے اصولوں پر متحد قوم ناقابلِ شکست ہوتی ہے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ایک مضبوط، خودمختار، جمہوری اور خوشحال پاکستان کا خواب دیکھا تھا اور انہوں نے شدید عالمی دباؤ کے باوجود جوہری پروگرام اور میزائل ٹیکنالوجی کو آگے بڑھا کر ملکی دفاع کی ایک ناقابلِ تسخیر بنیاد قائم کی، جس نے اس امر کو یقینی بنایا کہ پاکستان کی خودمختاری کو کبھی بیرونی دباؤ یا فیصلوں کا یرغمال نہ بنایا جا سکے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیپلز پارٹی ایک مضبوط، خودمختار، جمہوری اور پُرامن پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم پاکستان کو ایک ایسا ملک بنائیں جو ان کی قربانیوں کے شایانِ شان ہو، جہاں جمہوریت پروان چڑھے، انصاف کا بول بالا ہو اور ہر شہری عزت، وقار اور امید کے ساتھ زندگی گزار سکے۔



