پنجاب میں چالانوں کی سلطنت اور شہریوں کی بے بسی

پنجاب بھر میں اس وقت سڑکوں پر چالانوں کا راج ہے اور عوام کی بے بسی کیونکر پنجاب میں اب سڑکیں شاید ٹریفک چلانے کے لیے نہیں رہیں بلکہ چالان کاٹنے کے لیے مخصوص کر دی گئی ہیں۔ ٹریفک پولیس کا منصب کبھی یہ تھا کہ سڑک پر نظم قائم رہے، شہری محفوظ رہیں، ٹریفک رواں رہے اور لوگوں کو قانون کی پابندی کا شعور دیا جائے، مگر اب منظر کچھ اور ہے۔ اہلکار سڑک کے کنارے نہیں بلکہ شہری کی جیب کے قریب دکھائی دیتا ہے۔ چالانوں کا ہدف مقرر ہے اور جتنے زیادہ چالان، اتنی ہی زیادہ مراعات۔ گویا قانون کی پاسداری اب شہری کی نہیں بلکہ اہلکار کی آمدنی کا پیمانہ بن گئی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں قانون کی روح دم توڑ دیتی ہے اور کاغذ کا ایک پرزہ ریاستی کارکردگی کا تمغہ بن جاتا ہے۔ پنجاب کے بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے قصبوں تک موٹر سائیکل سوار، رکشا ڈرائیور، عام مسافر اور متوسط طبقے کا شہری اس نظام کی زد میں ہے۔ صاحبِ اقتدار شاید یہ بھول گئے ہیں کہ موٹر سائیکل پر بیٹھا ہوا ہر شخص قانون شکن نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ اس موٹر سائیکل پر اپنے بچوں کی روٹی لاد کر نکلتے ہیں۔ کوئی مسافر پہنچا کر گھر چلاتا ہے، کوئی کھانا پہنچا کر بچوں کی فیس دیتا ہے اور کوئی دن بھر سڑک کی خاک چھان کر شام کو چند ہزار روپے کما کر واپس آتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے بار بار کا چالان محض ایک کاغذ نہیں بلکہ گھر کے چولہے پر پڑنے والی ایک اور ضرب ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ چالان کی اس دوڑ میں انسانی جان کی قیمت بھی جیسے ثانوی ہو گئی ہے۔ چلتی ہوئی موٹر سائیکل کو سڑک کے بیچ روکنے کی کوشش کرنا کوئی معمولی معاملہ نہیں۔ ایک لمحے کی غلطی کسی گھر کا چراغ بجھا سکتی ہے۔ لاہور میں حالیہ واقعہ اسی تلخ حقیقت کی ایک اور گواہی ہے، جہاں موٹر سائیکل روکنے کی کوشش کے دوران ٹریفک اہلکار بھی زخمی ہوا اور موٹر سائیکل سوار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس سے پہلے بھی ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ حادثہ کیسے ہوا، سوال یہ ہے کہ ایسا طریقۂ کار اختیار ہی کیوں کیا گیا جس میں قانون نافذ کرنے والا بھی خطرے میں ہو اور شہری بھی۔ اگر پورے پنجاب میں نگرانی کا جدید نظام موجود ہے تو پھر سڑکوں پر اہلکاروں کو چلتی گاڑیوں کے آگے کھڑا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ خلاف ورزی کی تصویر لیجیے، ثبوت محفوظ کیجیے اور شہری کے گھر تک باعزت طریقے سے اطلاع پہنچائیے۔ ریاست اگر جدید نگرانی کا نظام قائم کر سکتی ہے تو جدید تہذیب بھی اختیار کر سکتی ہے۔ مگر مسئلہ شاید ٹریفک کا نہیں، مسئلہ اختیار کا ہے۔ اختیار مل جائے تو چالان آسان ہے، مگر اختیار کو خدمت میں بدلنا اصل امتحان ہے۔ پہلے سگنل درست کیجیے، سڑکوں کی نشان دہی کیجیے، لینیں واضح کیجیے، ٹریفک کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کیجیے اور پھر شہریوں سے قانون کی پابندی کا مطالبہ کیجیے۔ ورنہ یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ حکومت ٹریفک درست نہیں کر رہی بلکہ شہریوں کی جیب درست کر رہی ہے۔ محترمہ مریم نواز کی حکومت کو شاید کسی درباری نے یہ نہیں بتایا کہ حکومت صرف خزانہ بھرنے کا نام نہیں ہوتی۔ حکومت کا اصل امتحان یہ ہے کہ عام آدمی صبح گھر سے نکلے تو اسے راستے میں ریاست نظر آئے، مگر ریاست کا خوف نہ آئے۔ اسے قانون نظر آئے، مگر قانون کے نام پر ذلت محسوس نہ ہو۔ اسے وردی نظر آئے تو تحفظ کا احساس ہو، نہ کہ اگلے چالان کا اندیشہ۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ چالانوں کے ہدف کا یہ نظام فوری طور پر ختم کیا جائے اور ٹریفک پولیس کو اس کے اصل فرائض واپس دیے جائیں۔ جہاں خلاف ورزی ہو وہاں جدید نگرانی کے ذریعے باعزت چالان کیا جائے اور وصولی کا شفاف نظام بنایا جائے۔ اہلکاروں کو شہریوں سے گفتگو کے آداب سکھائے جائیں اور انہیں یہ سمجھایا جائے کہ وردی انسان کو قانون سے بالاتر نہیں بناتی بلکہ قانون کا نمائندہ بناتی ہے۔ حکومت وقتی طور پر چالانوں سے اربوں جمع کر لے گی، مگر یاد رکھیے کہ عوام کی جیب سے نکلا ہوا ہر روپیہ حکومت کی کامیابی نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی خزانہ بھر جاتا ہے اور حکومت خالی ہو جاتی ہے۔ لوگوں کے دلوں میں اگر یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ریاست سہولت دینے کے بجائے راستہ روک رہی ہے تو پھر غصہ خاموش نہیں رہتا۔ عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، پٹرول اور بجلی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے روزگار کا آخری سہارا بھی اگر سڑک پر کھڑے چالان کی زد میں آ جائے تو پھر حکمرانوں کو اپنے ایوانوں کی کھڑکیاں کھول کر عوام کی آہٹ سننی چاہیے۔ کیونکہ اقتدار کی سب سے بڑی غلط فہمی یہی ہوتی ہے کہ تالیاں ہمیشہ بجتی رہیں گی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب رعایا کی برداشت ختم ہوتی ہے تو بڑے بڑے تختوں کے نیچے سے زمین سرکنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ اس لیے پنجاب کو چالانوں کی سلطنت نہیں، سہولت کی ریاست بنانا چاہیے۔ عوام کو سزا نہیں، راستہ چاہیے۔ حکومت کو محصول نہیں، اعتماد چاہیے۔ اور اگر حکمران واقعی عوام کی خدمت کا دعویٰ کرتے ہیں تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ عوام کی جیب خالی کر کے خزانہ بھرا جا سکتا ہے، مگر عوام کا دل خالی کر کے حکومت نہیں چلائی جا سکتی۔



  تازہ ترین   
پاکستان کا کرغزستان کے ساتھ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار
امریکا کا ایران پر حملہ، مختلف شہروں میں بمباری سے 12 افراد شہید، 70 سے زائد زخمی
ایران جوہری ہتھیار سے دو ہفتے دور تھا، اس لیے اسے تباہ کردیا، ٹرمپ
پاکستان امن عمل سے مایوس نہیں، فریقین مذاکرات کی طرف واپس آئیں گے: دفتر خارجہ
وفاقی کابینہ نے اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے نظام کی منظوری دے دی
ایران کے جوابی حملے، اردن میں امریکی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ
روس کے یوکرین میں فضائی حملے، ایک بھارتی سمیت 12 افراد ہلاک، متعدد زخمی
اسمبلیاں جب چاہیں گی دو تہائی اکثریت سے نئے صوبے بن جائیں گے: اعظم نذیر تارڑ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر