لاہور (نیشنل ٹائمز) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے سیکرٹری جنرل شکیل احمد کی آئی ایف جے ہیڈ کوارٹرز برسلز، بیلجیم میں جنرل سیکرٹری اینتھونی بیلانگر سے ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان میں میڈیا انڈسٹری اور میڈیا ورکرز کو درپیش مسائل اور مشکلات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
برسلز میں ہونے والی ملاقات میں سیکرٹری جنرل شکیل احمد نے اینتھونی بیلانگر کو پاکستانی میڈیا کی مشکلات کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے کئی اداروں کو اشتہارات کی بندش کے باعث نہ صرف میڈیا ورکرز کی غیر قانونی چھانٹیاں کی جا رہی ہیں بلکہ کئی ادارے بند بھی ہو چکے ہیں۔
شکیل احمد نے بتایا کہ میڈیا ورکرز کو غیر قانونی چھانٹیوں کے علاوہ ماہانہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی، تنخواہوں میں کٹوتی، آئے روز ہراسمنٹ کے واقعات اور مختلف خطرات کا سامنا ہے، جبکہ صدر پی ایف یو جے رانا محمد عظیم سمیت کئی سینئر صحافیوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی مل رہی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صحافیوں کو حکومت کی جانب سے پیکا ایکٹ اور این سی سی اے کے تحت بے بنیاد مقدمات کا بھی سامنا ہے اور آزادیٔ صحافت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
آئی ایف جے کے جنرل سیکرٹری اینتھونی بیلانگر نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو یقین دلاتے ہیں کہ ماضی کی طرح ایک بار پھر حکومت پاکستان کو خط لکھیں گے تاکہ میڈیا انڈسٹری اور صحافیوں کے مسائل کے فوری حل کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایف جے اس معاملے کو عالمی سطح پر بھی اٹھائے گی اور آئی ایف جے سے ملحقہ تمام ممالک کی یونینز بھی حکومت پاکستان کو ان مسائل کے حل کے لیے خطوط لکھیں گی۔
اینتھونی بیلانگر نے مزید کہا کہ وہ جلد ہی آئی ایف جے کے وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کریں گے اور پاکستانی حکام سے ملاقات کرکے بھی صحافیوں کو درپیش مسائل کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ وہ پی ایف یو جے اور پاکستانی صحافیوں کے ساتھ ہیں اور انہیں ایسی مشکلات میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔



