جرنیلوں پر سنگ باری اور اپنے گریبان میں خاموشی – فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور سیاست کے دوہرے معیار کی داستان

تاثرات: مظہر طفیل

فوج پر تنقید کرنا بلاشبہ آسان ہے، خصوصاً اس ملک میں جہاں سیاست کے بازار میں مقبولیت کا ایک آزمودہ نسخہ یہ بن چکا ہے کہ جب اقتدار ہاتھ میں نہ ہو تو فوجی قیادت کو ہدفِ تنقید بنایا جائے، جرنیلوں کے نام لے کر سیاسی خطابت کی جائے اور عوامی جذبات کو اشتعال کی بھٹی میں جھونک کر اپنے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ کیا جائے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو مسلم لیگ نون جب حزبِ اختلاف میں تھی تو میاں نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے جنرل مشرف، بعد میں جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے حوالے سے کی جانے والی سخت تقاریر اور سیاسی بیانات کسی سے پوشیدہ نہیں، بلکہ سیاسی تاریخ اور عوامی حافظے کا حصہ ہیں۔ اسی طرح کارگل جنگ کے بعد نواز شریف کے بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز بھی ایک ایسا تاریخی باب ہیں جسے خواہ کوئی پسند کرے یا ناپسند کرے، اسے پاکستان کی سیاسی تاریخ سے حذف نہیں کیا جاسکتا، جہاں پاکستانی فوج اور فوجی قیادت کے کردار پر نہایت سخت سوالات اٹھائے گئے۔ پھر جب لاہور میں بھارتی میڈیا کی غیر معمولی سرگرمیاں سامنے آئیں اور جاتی امرا میں بھارتی صحافیوں کو انٹرویوز دیے گئے تو ان مواقع پر بھی پاکستان کی فوج اور اس کی قیادت کو موضوعِ بحث بنایا گیا اور یوں فوج پر تنقید کو سیاسی بیانیے کا ایک مؤثر ہتھیار بنانے کی روایت مزید مضبوط ہوئی۔ عمران خان نے اقتدار سے محرومی کے بعد اسی سیاسی روش کو ایک نئے لب و لہجے میں آگے بڑھایا اور جنرل باجوہ اور عسکری قیادت کے خلاف مسلسل سخت بیانیہ اختیار کیا، جس نے ایک بڑی سیاسی مقبولیت پیدا کی، اور یوں پاکستانی سیاست میں یہ تاثر مزید گہرا ہوا کہ فوج پر تنقید کرو اور مقبولیت حاصل کرو۔ مگر یہاں اصل سوال فوج پر تنقید کا نہیں، بلکہ تنقید کے دوہرے معیار کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو سیاستدان پاکستان کی فوج اور اس کے جرنیلوں پر سوال اٹھاتے ہیں، وہ اپنے گریبان میں کب جھانکیں گے اور یہ بھی بتائیں گے کہ جب بیماری ان کے دروازے پر دستک دیتی ہے تو وہ اسی پاکستان سے کیوں فرار اختیار کرتے ہیں جس کے نظام کو بہتر بنانے کے دعوے وہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر کرتے ہیں؟ کیوں ان کے ٹیسٹ بیرونِ ملک ہوتے ہیں؟ کیوں ان کے علاج کے لیے خصوصی پروازیں روانہ ہوتی ہیں؟ کیوں لندن، امریکہ، سوئٹزرلینڈ، فرانس یا دوسرے ممالک کے ہسپتال ان کی پہلی ترجیح بن جاتے ہیں؟ اور کیوں عام پاکستانی کو اسی سرکاری نظامِ صحت کے حوالے کردیا جاتا ہے جس پر خود حکمران اعتماد کرنے کو تیار نہیں؟ دوسری طرف پاکستان فوج کے موجودہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور فوجی نظامِ صحت کا ذکر آئے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی والدہ جب شدید بیمار ہوئیں تو ان کی علالت کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی کہ ان کا علاج پاکستان میں راولپنڈی کے سی ایم ایچ میں ہوا، نہ لندن میں، نہ امریکہ میں، نہ سوئٹزرلینڈ میں اور نہ کسی دوسرے مغربی ملک میں۔ اسی طرح پاکستان آرمی کے متعدد افسران اور کور کمانڈرز کے علاج کے حوالے سے بھی یہ حقیقت نمایاں ہے کہ فوج کے زیرِ انتظام کمبائنڈ ملٹری ہسپتال، یعنی سی ایم ایچ، کا وسیع نظام ان فوجی افسران، جوانوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے بنیادی طبی سہارا فراہم کرتا ہے۔ یہاں تک کہ سنگین بیماریوں سے نبرد آزما فوجی افسران بھی اپنے علاج کے لیے پاکستان کے انہی طبی اداروں پر اعتماد کرتے ہیں۔ ان فوجی ہسپتالوں میں عام پاکستانی شہری بھی اپنا علاج کرواتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی دعووں اور عملی کردار کے درمیان فرق پوری شدت سے نمایاں ہوجاتا ہے۔ ایک طرف وہ سیاستدان ہیں جو اقتدار میں آکر صحت کے شعبے کی اصلاح کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں، مگر خود بیماری کی صورت میں پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں کو قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے، اور دوسری طرف پاکستان آرمی کا وہ نظام موجود ہے جس میں فوجی جوان، افسران، ان کے والدین، ان کے بچے اور ان کے اہلِ خانہ پاکستان کے اپنے طبی اداروں میں علاج کراتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ فوجی نظامِ صحت میں کوئی خامی نہیں ہوسکتی یا اس پر تنقید کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔ تنقید ہر ادارے کا حق، احتساب ہر ادارے کی ضرورت اور سوال ہر ذمہ دار معاشرے کی روح ہے۔ مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تنقید اصول کے بجائے سیاسی مصلحت بن جائے، جب ایک ہی پیمانہ اپنے لیے اور دوسرا دوسروں کے لیے استعمال کیا جائے، اور جب فوج پر تنقید کو جمہوری شعور، جبکہ سیاستدانوں کے اپنے تضادات پر سوال اٹھانے کو سیاسی دشمنی قرار دے دیا جائے۔ حالیہ واقعات کے بعد سوشل میڈیا کے ایک حصے نے جس شدت کے ساتھ پاکستان فوج اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا اور بیرونِ ملک بیٹھے بعض پاکستان مخالف عناصر نے جس طرح قومی اداروں کی تضحیک کو اپنا مشن بنالیا، اس پر حکومت کی خاموشی بھی ایک سنجیدہ سوال ہے۔ مسلم لیگ نون کی موجودہ حکومت اگر اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے میڈیا مینجمنٹ کر سکتی ہے، اپنے حق میں بیانیہ بنانے کے لیے وزارتِ اطلاعات کے ذریعے ذرائع ابلاغ سے رابطہ کرسکتی ہے، پریس کانفرنسوں اور ٹی وی پروگراموں کے ذریعے اپنے مؤقف کو نمایاں کرسکتی ہے اور سوشل میڈیا پر بھرپور حکمتِ عملی اختیار کرسکتی ہے، تو پھر جب پاکستان کے ریاستی اداروں اور خصوصاً پاکستان فوج کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جائے تو یہی حکومتی مشینری اچانک خاموش کیوں ہوجاتی ہے؟ اگر حکومت اپنے سیاسی بیانیے کے دفاع کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرسکتی ہے تو ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کا جواب دینے کے لیے حقائق سامنے لانے میں اسے تامل کیوں ہوتا ہے؟ یہی دوہرا معیار اس حکومت کے سیاسی کردار پر سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے، اور یہی وہ رویہ ہے جس نے عوام کے اندر یہ احساس پیدا کیا ہے کہ حکمرانوں کے لیے اصول بھی ضرورت کے مطابق بدل جاتے ہیں۔ اپنے مفاد میں ادارہ عزیز اور اختلاف میں وہی ادارہ قابلِ الزام بن جاتا ہے۔ اب اصل سوال پاکستان کے مقتدر حلقوں اور خود عوام کے سامنے ہے کہ کیا ملک اسی فرسودہ سیاسی بندوبست کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے، جہاں اقتدار کے حصول کے لیے اداروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جہاں فوج پر تنقید کو سیاسی مقبولیت کا زینہ بنایا جاتا ہے، جہاں حکومتیں اپنے سیاسی مفادات کے لیے ریاستی مشینری کو متحرک کرتی ہیں مگر قومی اداروں کے خلاف منظم مہم پر خاموش رہتی ہیں اور جہاں عوام مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بھاری بل اور معاشی دباؤ تلے دبے ہوئے ہیں۔ محسن نقوی، میاں عامر اور دیگر حلقوں کی جانب سے نظام میں بنیادی تبدیلی کی بات اسی وسیع تر بحران کی طرف اشارہ کرتی ہے، کیونکہ جب تک حکمرانی کا ڈھانچہ مفادات کے شکنجے میں جکڑا رہے گا، جب تک پالیسی سازی پر طاقتور کاروباری مفادات اثر انداز ہوتے رہیں گے اور جب تک عوامی مفاد کے بجائے اشرافیائی مفاد فیصلہ کن حیثیت رکھے گا، تب تک مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل محض تقریروں سے ختم نہیں ہوں گے۔ آئی پی پیز ہوں، پٹرولیم کا شعبہ ہو یا توانائی کی دوسری پالیسیاں، حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ہر فیصلے میں شفافیت اور عوامی مفاد کو مقدم رکھے اور اگر کسی حکمران خاندان کے کاروباری مفادات کسی حکومتی پالیسی سے وابستہ ہوں تو وہاں شفافیت اور مفادات کے ٹکراؤ کا سوال اور بھی زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ ریاست کسی خاندان کی کاروباری سلطنت نہیں ہوتی، حکومت کسی خاندان کی جاگیر نہیں ہوتی اور عوام کسی حکمران کے کاروباری مفادات کے محافظ نہیں ہوتے۔ پاکستان ایک کروڑوں انسانوں کی امانت ہے اور اس امانت کا تقاضا یہ ہے کہ فوج ہو، سیاست ہو، عدلیہ ہو، بیوروکریسی ہو یا کوئی بھی طاقتور ادارہ، سب قانون، آئین اور عوامی احتساب کے تابع ہوں۔ مگر اس احتساب کا پہلا اصول بھی یہی ہے کہ جس انگلی سے دوسروں کی طرف اشارہ کیا جائے، اس سے پہلے وہ اپنے گریبان کی طرف اٹھنی چاہیے۔ پاکستان فوج اور خصوصاً فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے کردار پر سیاسی اختلاف یا پالیسی تنقید اپنی جگہ، مگر پاکستان کے قومی اداروں کی تضحیک کو سیاسی مقبولیت کا ذریعہ بنانا نہ جمہوریت ہے، نہ آزادیِ اظہار کی معراج، بلکہ یہ ایک ایسے سیاسی کلچر کی علامت ہے جس میں قومی مفاد کو ذاتی اقتدار کے نیچے دفن کردیا جاتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں فوج پر تنقید کے نام پر مقبولیت حاصل کرنے کی روش اور سیاستدانوں کے اپنے دوہرے معیار دونوں کو ایک ہی ترازو میں تولا جائے، کیونکہ عوام اب صرف تقریریں نہیں دیکھتے، وہ کردار دیکھتے ہیں۔ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کون پاکستان کے اداروں کو برا بھلا کہہ کر اقتدار مانگتا ہے اور کون مشکل وقت میں اسی پاکستان کے اداروں پر اعتماد کرتا ہے، اور شاید یہی وہ آئینہ ہے جس میں ہماری سیاست کے بہت سے چہرے پہلی بار صاف دکھائی دے سکتے ہیں۔



  تازہ ترین   
سی آئی اے چیف کا ماسکو کا دورہ، روس کو سنگین نتائج کی دھمکی
آبنائے ہرمز میں کویتی آئل ٹینکر السلام ٹو پر حملہ، عملہ محفوظ
ایرانی صدر کی اسلامی ممالک کے درمیان عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی تردید کر دی
سانحہ پمز ہسپتال: اقوام متحدہ کا 14 نومولود کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس
اسرائیلی فوج کو فنڈز کی کمی کا سامنا، جنگی تیاری متاثر ہونے کا اعتراف
ایران نے امریکی اقتصادی پابندیوں کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کر لیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کویت کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر