اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پمز اسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں ہولناک آتشزدگی کے بعد جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق آتشزدگی کے باعث بعض نومولود بچوں کی لاشیں بری طرح جھلس گئی ہیں، جس کے باعث ان کی شناخت مشکل ہوگئی ہے۔ بچوں کے ڈی این اے نمونے ان کے والدین کے نمونوں سے میچ کیے جائیں گے، جس کے بعد میتیں متعلقہ خاندانوں کے حوالے کی جائیں گی۔
واقعے کے بعد متاثرہ بچوں کے لواحقین اسپتال میں موجود ہیں اور اپنے نومولود بچوں کی میتیں فوری طور پر حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بعض خاندان جائے وقوعہ سے جانے کو بھی تیار نہیں اور اپنے بچوں کی شناخت اور میتیں حوالے کیے جانے کے منتظر ہیں۔
پولیس کے مطابق آگ پمز اسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں انتہائی شدت سے لگی، جس کے نتیجے میں متعدد نومولود شدید جھلس گئے۔ ریسکیو ٹیمیں اسپتال کی تیسری منزل پر واقع متاثرہ وارڈ میں امدادی کارروائیوں میں مصروف رہیں۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق واقعے میں کم از کم 16 نومولود بچوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔
دوسری جانب واقعے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ یا ایئرکنڈیشننگ سسٹم میں خرابی بتائی جارہی ہے، تاہم حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔



