تحریر: سعدیہ نارو
میں اپنے خاندان میں واحد فرد ہوں جسے ٹریکنگ کا شوق ہے۔ گھر کے باقی افراد کو نہ ٹریکنگ میں خاص دلچسپی ہے اور نہ کوہ پیمائی سے کوئی شغف۔ اس لیے جب میں کسی سفر سے واپس آتی ہوں تو نہ زیادہ سوال ہوتے ہیں اور نہ میں اپنی مہم کی تفصیلات میں جاتی ہوں۔ برسوں سے یہی معمول ہے۔ وہ زیادہ پوچھتے نہیں اور میں زیادہ بتاتی نہیں۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران فلک سر پیک، براڈ پیک اور سپانٹک پر ہونے والے حادثات نے مجھے بہت متاثر کیا، مگر میں گھر میں ان واقعات کا ذکر کرنے سے گریز کرتی رہی۔ وجہ صرف یہ تھی کہ میری اگلی روانگی سے پہلے میرے گھر والے غیرضروری خوف اور تشویش میں مبتلا نہ ہوں۔
پے در پے ہونے والے ان المناک حادثات کی وجہ سے جب میری فیملی نے میری ٹریکنگ پر تحفظات کا اظہار کیا تو میں نے حسبِ عادت بات کو ہلکا کرنے اور انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی، مگر بعض حقیقتیں محض تسلی یا مزاح سے نظر انداز نہیں کی جا سکتیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ٹریکنگ اور کوہ پیمائی پر خطر سرگرمیاں ہیں۔ یہ روح کو چھو لینے والے تجربات ضرور ہیں، مگر خطرات سے خالی نہیں۔ جب ہم پہاڑوں کی طرف بڑھتے ہیں تو ہماری نظریں اگلے کیمپ، اگلے پاس یا اگلی بلندی پر ہوتی ہیں۔ مگر ہمارے پیچھے وہ گھر بھی ہوتے ہیں جہاں ہماری واپسی کا انتظار کیا جا رہا ہوتا ہے۔
اگلی بار جب میں یا میرے دوسرے ساتھی کسی مہم کے لیے گھر سے نکلیں گے تو شاید ہمارے اپنے پہلے سے کچھ زیادہ فکر مند ہوں گے۔ دعائیں پہلے سے زیادہ کریں گے اور ہماری خیریت کی خبر کا انتظار بھی پہلے سے زیادہ بےچینی کے ساتھ کریں گے۔ ہم پہاڑوں پر اپنی خوشی، اپنی جستجو اور اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے جاتے ہیں، مگر ہماری بحفاظت واپسی گھر میں سکون کی واپسی بھی ہوتی ہے۔
پہاڑوں پر ہونے والے حادثات ہمیں رک کر ایک اہم سوال پر غور کرنے کی تحریک دیتے ہیں۔ کیا صرف جذبہ کافی ہے، یا اس کے ساتھ مکمل تیاری بھی ضروری ہے؟
ہر حادثہ محض ایک سانحہ نہیں ہوتا۔ وہ ایک سبق بھی ہوتا ہے۔ بہتر منصوبہ بندی کا، اپنی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو حقیقت پسندانہ انداز میں جانچنے کا، موسم اور راستے کی غیرمتوقع تبدیلیوں کو سمجھنے کا اور ضرورت پڑنے پر واپس پلٹ آنے کا فیصلہ کرنے کا۔ سب سے بڑھ کر، یہ احساس بھی ضروری ہے کہ ہماری زندگی صرف ہماری اپنی نہیں ہوتی بلکہ اس سے ہمارے خاندان، دوست اور وہ تمام لوگ وابستہ ہوتے ہیں جو ہماری سلامتی اور واپسی کے منتظر ہوتے ہیں۔
پہاڑ ہمیں اپنی طرف بلاتے رہیں گے۔ ان کی خاموشی، وسعت اور بلندی کی کشش سے شاید ہم کبھی مکمل طور پر دامن نہ چھڑا سکیں۔ ہم پھر انہی راستوں پر چلیں گے، نئی بلندیوں کے خواب دیکھیں گے اور بادلوں کے درمیان کھڑے ہو کر چند لمحوں کے لیے خود کو دنیا سے بے نیاز پائیں گے۔
لیکن اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنے شوق سے دست بردار ہونے کے بجائے اسے زیادہ شعور، بہتر تربیت، مکمل تیاری اور ذمہ دارانہ فیصلوں کے ساتھ جئیں۔ کیونکہ پہاڑ سر کرنا ایک کامیابی ضرور ہے، مگر اس سے بھی بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم اپنی مہم مکمل کر کے خیریت سے ان لوگوں کے پاس واپس لوٹیں جو ہمارے منتظر ہیں۔



