آئی ایم ایف کی آئینہ دکھاتی رپورٹ اور پاکستان کی حکمرانی کا بحران – گر أیٸنہ انہیں دکھایا تو برا مان گے

تاثرات: مظہر طفیل

پاکستان کے معاشی بحران کی کہانی محض قرضوں، مہنگائی، ڈالر کی قیمت یا بجٹ کے خسارے کی کہانی نہیں، بلکہ یہ دراصل اس طرزِ حکمرانی کا نوحہ ہے جس میں ریاست کے وسائل تو عوام کے نام پر مختص کیے جاتے ہیں، مگر ان وسائل کے استعمال پر نہ مؤثر نگرانی دکھائی دیتی ہے، نہ شفافیت اور نہ ہی ایسی جواب دہی جو قومی خزانے کو ذاتی، سیاسی یا ادارہ جاتی مفادات کی نذر ہونے سے روک سکے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی پاکستان کے بارے میں تیار کردہ Governance and Corruption Diagnostic Assessment اسی تلخ حقیقت کو ایک عالمی مالیاتی ادارے کی زبان میں بیان کرتی ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ پاکستان میں بدعنوانی کوئی ایک فرد، ایک محکمہ یا ایک حکومت کا مسئلہ نہیں، بلکہ ریاستی نظم و نسق کے اندر موجود ایک ساختی کمزوری بن چکی ہے، جہاں پیچیدہ قوانین، کمزور ادارہ جاتی صلاحیت، بکھرا ہوا احتساب، محدود شفافیت، کمزور نگرانی اور سیاسی اثر و رسوخ ایک ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جس میں مراعات یافتہ طبقات ریاستی وسائل سے غیر معمولی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سرکاری مالیاتی انتظام میں بجٹ کے تخمینوں اور حقیقی اخراجات کے درمیان نمایاں فرق، سرکاری خریداری کے کمزور کنٹرول، عوامی سرمایہ کاری کے ناقص انتظام اور سرکاری اداروں کی غیر مؤثر کارکردگی جیسے مسائل موجود ہیں، جبکہ ٹیکس اور کسٹمز کے نظام میں بھی بدعنوانی کے نمایاں خطرات پائے جاتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پاکستان کے عام شہری کا سوال جنم لیتا ہے کہ اگر قومی خزانہ مسلسل دباؤ میں ہے، اگر حکومت کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے بیرونی قرضوں کی ضرورت پڑتی ہے، اگر عوام سے ہر سال نئے ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں، اگر بجلی، گیس، پٹرول، اشیائے خورونوش اور بنیادی ضروریاتِ زندگی مہنگی سے مہنگی تر ہوتی جا رہی ہیں، تو پھر وہ اربوں اور کھربوں روپے کہاں جاتے ہیں جو عوام سے وصول کیے جاتے ہیں اور بجٹ میں ترقی، تعلیم، صحت، روزگار اور عوامی فلاح کے نام پر مختص کیے جاتے ہیں؟ المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں عام آدمی کے لیے مہنگائی محض ایک معاشی اصطلاح نہیں رہی، بلکہ یہ اس کی روزمرہ زندگی کی اذیت بن چکی ہے، ایک باپ کے لیے بچوں کی تعلیم کا خرچ، ایک بیمار شخص کے لیے علاج کی قیمت، ایک مزدور کے لیے راشن، ایک نوجوان کے لیے روزگار اور ایک متوسط گھرانے کے لیے اپنا گھر بنانا مسلسل دشوار ہوتا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں مراعات، پروٹوکول، سرکاری وسائل اور شاہانہ طرزِ زندگی کے مناظر عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے محسوس ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت ہو یا اس سے پہلے آنے والی حکومتیں، پاکستان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ حکومتیں بدلتی رہیں، مگر حکمرانی کا وہ ڈھانچہ نہیں بدلا جس میں سرکاری وسائل پر سیاسی اور بیوروکریٹک اشرافیہ کی گرفت برقرار رہتی ہے۔ اس تناظر میں پنجاب ایک نہایت اہم مثال بن کر سامنے آتا ہے، جہاں موجودہ حکومت نے متعدد نئے پروگرام، اتھارٹیز اور انتظامی منصوبے شروع کیے ہیں اور ان میں بعض کے مقاصد بظاہر عوامی فلاح سے متعلق ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا نئے ادارے اور نئے منصوبے قائم کرنے سے پرانے اداروں کی نااہلی ختم ہو جاتی ہے یا اس کے برعکس ریاستی مشینری مزید پیچیدہ اور مہنگی ہو جاتی ہے؟ سُتھرا پنجاب پروگرام اس بحث کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس پروگرام کے لیے بہت بڑے مالی وسائل مختص کیے گئے اور صوبے بھر میں صفائی کا ایک نیا نظام متعارف کرانے کا دعویٰ کیا گیا، مگر مختلف علاقوں سے ناقص صفائی، انتظامی مسائل، کنٹریکٹرز کی کارکردگی اور کارکنوں کی ادائیگیوں سے متعلق شکایات بھی سامنے آتی رہیں۔ حتیٰ کہ نومبر 2025 میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ نے ناقص کارکردگی والے سُتھرا پنجاب کنٹریکٹرز کی ادائیگیاں روکنے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ کنٹریکٹنگ کا حکم بھی دیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پروگرام کے نفاذ اور نگرانی کے حوالے سے سنجیدہ مسائل موجود تھے۔ اس سے بھی زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر پہلے سے موجود بلدیاتی اور صفائی کے ادارے موجود تھے، تو ان کی اصلاح، احتساب اور استعداد بڑھانے کے بجائے نئے انتظامی ڈھانچے بنانا کس حد تک معاشی دانش مندی ہے؟ یہی سوال پاکستان کے تقریباً ہر شعبے پر لاگو ہوتا ہے؛ تعلیم کے لیے الگ منصوبے، صحت کے لیے الگ پروگرام، صفائی کے لیے الگ ادارے، انفراسٹرکچر کے لیے الگ اتھارٹیز اور ہر حکومت کے ساتھ نئے نام اور نئے منصوبے، مگر نتیجہ یہ کہ ریاستی مشینری کا حجم بڑھتا جاتا ہے اور عام شہری کو بنیادی سہولتیں پھر بھی مطلوبہ معیار پر میسر نہیں آتیں۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ نے بھی اسی بنیادی بیماری کی طرف اشارہ کیا ہے کہ پاکستان میں مسئلہ صرف پیسوں کی کمی نہیں، بلکہ دستیاب وسائل کے انتظام، ترجیحات، نگرانی اور احتساب کی کمزوری بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق احتسابی اداروں میں بھی باہمی رابطے، وسائل کے مؤثر استعمال، سیاسی اثرات اور بدعنوانی کی روک تھام کے حوالے سے کمزوریاں موجود ہیں، جبکہ آڈیٹر جنرل کی سفارشات پر مؤثر کارروائی نہ ہونا بھی نگرانی کے نظام کو کمزور کرتا ہے۔ یہاں سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ایک غریب ملک میں ہر ضائع ہونے والا سرکاری روپیہ محض بجٹ کی ایک عددی غلطی نہیں ہوتا؛ وہ کسی بچے کے اسکول سے محرومی، کسی مریض کے علاج میں تاخیر، کسی نوجوان کے روزگار کے ضائع ہونے، کسی خاندان کی بڑھتی ہوئی غربت اور کسی شہری کے کم ہوتے معیارِ زندگی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے عوام کو بتایا جاتا ہے کہ خزانہ خالی ہے، ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے اور قومی مفاد کے لیے انہیں مزید قربانیاں دینا ہوں گی، مگر قومی مفاد کا یہ سوال بھی تو پوچھا جانا چاہیے کہ قربانی ہمیشہ عام آدمی ہی کیوں دے؟ اگر حکومتیں عوام سے قربانی مانگتی ہیں تو انہیں اپنی مراعات، غیر ضروری اخراجات، شاہانہ پروٹوکول، سرکاری وسائل کے استعمال، غیر مؤثر منصوبوں اور ناکام ادارہ جاتی ڈھانچوں کا بھی حساب دینا ہوگا۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ نے دراصل پاکستان کے لیے ایک آئینہ رکھا ہے اور اس آئینے میں چہرہ کسی ایک جماعت یا فرد کا نہیں، بلکہ پورے نظامِ حکمرانی کا دکھائی دیتا ہے؛ تاہم موجودہ حکومت پر یہ اضافی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس رپورٹ کو محض آئی ایم ایف کی ایک شرط سمجھ کر فائلوں میں بند نہ کرے، بلکہ اسے اصلاحات کا نقطۂ آغاز بنائے۔ خود آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے بعد ازاں Governance and Corruption Diagnostic کی سفارشات کی بنیاد پر Economic Governance Reform Plan بھی تیار کیا، جس میں اصلاحات اور کارکردگی کی نگرانی کے لیے اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ لیکن اصل امتحان کاغذ پر بنائے گئے منصوبوں کا نہیں، بلکہ عملی نتیجے کا ہے۔ پاکستان کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں سرکاری خزانے کو کسی سیاسی جماعت، خاندان، وزیر، بیوروکریٹ یا بااثر گروہ کی جاگیر نہ سمجھا جائے؛ جہاں ہر ٹینڈر، ہر خریداری، ہر ترقیاتی منصوبے اور ہر سرکاری ادائیگی کا حساب عوام کے سامنے ہو؛ جہاں آڈیٹر جنرل کی رپورٹ محض کاغذ نہ ہو، بلکہ اس پر کارروائی بھی ہو؛ جہاں احتساب سیاسی انتقام کے بجائے ادارہ جاتی اصولوں کے تحت ہو؛ اور جہاں کسی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ اس کے اشتہارات، سوشل میڈیا مہمات یا افتتاحی تختیوں کی تعداد نہیں، بلکہ یہ ہو کہ عام آدمی کی زندگی کتنی آسان ہوئی، اس کے بچے کو بہتر تعلیم کتنی ملی، مریض کو علاج کتنا ملا، نوجوان کو روزگار کے کتنے مواقع ملے اور ریاست کے ہر خرچ کیے گئے روپے سے عوام کو کیا فائدہ پہنچا۔ پاکستان کے عوام اب محض وعدے نہیں، بلکہ حساب چاہتے ہیں، محض منصوبوں کے اعلانات نہیں، بلکہ نتائج چاہتے ہیں اور محض یہ نہیں سننا چاہتے کہ خزانہ خالی ہے، بلکہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جب خزانہ بھرا ہوا تھا تو اسے کس نے، کہاں اور کیسے خرچ کیا۔ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب دیے بغیر نہ آئی ایم ایف کے قرضے پاکستان کو مستقل معاشی استحکام دے سکتے ہیں، نہ نئے ٹیکس، نہ نئے بجٹ اور نہ ہی نئے سرکاری ادارے۔ اصل اصلاح بجٹ کی کتاب میں نہیں، بلکہ حکمرانی کے مزاج میں ہونی چاہیے، کیونکہ جب ریاست کے وسائل کی حفاظت کرنے والے ہی ان وسائل کے ضیاع کو روکنے میں ناکام ہو جائیں تو ملک کا سب سے بڑا بحران پیسوں کی کمی نہیں، بلکہ اعتماد کی کمی بن جاتا ہے، اور اعتماد جب ریاست سے اٹھ جائے تو کوئی بھی قرض، کوئی بھی بجٹ اور کوئی بھی سیاسی نعرہ قوم کو دیرپا خوشحالی نہیں دے سکتا۔



  تازہ ترین   
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر تہران پہنچ گئے
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 6 نشستوں پر ن لیگ کامیاب، پی پی 2 سیٹیں جیت سکی
موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، وزیراعظم کی قوم کو مبارکباد
وزیراعظم سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری، مشاورت قائم رکھنے پر اتفاق
کیف کو روس پر حملوں کے نتائج کا سامنا جاری رہے گا: کریملن
محمود اچکزئی دہشت گردوں کا نام نہ لے کر غلط بیانی کر رہے ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان
فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر کے روز تہران کا دورہ کریں گے، ایرانی وزارت خارجہ
ہتھیاروں کی فراہمی سے برطانیہ، فرانس بھی اسرائیلی جرائم میں شریک ہو رہے ہیں: ایران





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر