اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور ملک میں پٹرول و ڈیزل کی یومیہ بنیاد پر قیمتوں کے تعین نے روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے جس کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتوں سمیت دیگر اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔17 جولائی کو کابینہ کے فیصلے کے تحت اوگرا عالمی منڈی میں قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کے نرخ یومیہ بنیاد پر طے کرتا ہے ۔ 18 سے 22 اگست کے دوران ڈیزل 16 روپے 97 پیسے فی لٹر مہنگا ہوا جبکہ ایک روز کے لیے 32 روپے 63 پیسے سستا کیا گیا۔ یوں صارفین کو پانچ دنوں میں مجموعی طور پر صرف 15 روپے 66 پیسے کا ریلیف مل سکا۔ اسی طرح پانچ دنوں میں پٹرول 16 روپے 16 پیسے فی لٹر مہنگا ہوا اور اس دوران کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔18 اگست کو ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 47 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا جس کے بعد نئی قیمت 390 روپے 42 پیسے مقرر ہوئی۔ 19 اگست کو مزید 5 روپے 27 پیسے اضافے کے بعد قیمت 395 روپے 69 پیسے فی لٹر ہوگئی۔
20 اگست کو ایک روز کے لیے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے 63 پیسے فی لٹر کمی کی گئی جس سے قیمت 363 روپے 6 پیسے ہوگئی۔ 21 اگست کو ڈیزل 1 روپے 64 پیسے مہنگا کرکے قیمت 364 روپے 70 پیسے جبکہ 22 اگست کو مزید 3 روپے 59 پیسے اضافے کے بعد قیمت 368 روپے 29 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی۔پٹرول کی قیمت میں 18 اگست کو 5 روپے 77 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 331 روپے 20 پیسے مقرر ہوئی۔ 19 اگست کو مزید 3 روپے 34 پیسے اضافے سے قیمت 334 روپے 54 پیسے ، 20 اگست کو 2 روپے 97 پیسے اضافے سے 337 روپے 51 پیسے اور 21 اگست کو 27 پیسے اضافے سے 337 روپے 78 پیسے فی لٹر ہوگئی۔ 22 اگست کو پٹرول کی قیمت میں مزید 3 روپے 81 پیسے اضافہ کیا گیا جس کے بعد نئی قیمت 341 روپے 59 پیسے فی لٹر مقرر ہوئی۔ہفتہ اور اتوار کو تعطیل کے باعث قیمتوں کا تعین نہیں کیا جاتا۔ پیر سے جمعہ تک دوبارہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں یومیہ بنیاد پر طے کی جائیں گی جس کے بعد معلوم ہوگا کہ رواں ہفتے صارفین کو کتنا ریلیف ملتا ہے ۔واضح رہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ریفائنریز سے بات چیت کے نتیجے میں ڈیزل ایک روز کے لیے سستا کیا گیا تاہم اگلے دو روز میں اس کی قیمت دوبارہ بڑھانا پڑی۔



