تحریر: سعدیہ نارو
پہاڑوں کا سفر اور ان کی بلندیوں کو سر کرنا ایک مشکل، صبر آزما اور مہنگا شوق ہے۔ اس سفر کے لیے صرف جذبہ اور ہمت کافی نہیں ہوتے؛ جسمانی و ذہنی تیاری، درست معلومات، مناسب تربیت، تجربہ کار ساتھیوں کی رفاقت اور بدلتے ہوئے حالات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ پہاڑ ہمیں اپنی طرف ضرور بلاتے ہیں، مگر وہ ہماری خواہشات کے تابع نہیں ہوتے۔ ان کا موسم، راستے اور تیور چند لمحوں میں بدل سکتے ہیں۔
پہاڑوں میں رونما ہونے والے بہت سے قدرتی حادثات انسان کے اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔ 30 جولائی کو براڈ پیک پر برفانی تودے کا گرنا بھی اسی حقیقت کی ایک یاد دہانی تھا۔ ہر حادثے کو روکنا ممکن نہیں، لیکن خطرے کو کم کرنا، موسم اور حالات کا درست اندازہ لگانا، مناسب وقت کا انتخاب کرنا اور ضرورت پڑنے پر واپسی کا فیصلہ کرنا ضرور ہمارے اختیار میں ہے۔ جلد بازی، غیر ضروری ضد، یا جسم کی طرف سے ملنے والے واضح انتباہات کو نظر انداز کرنا بہادری نہیں، بلکہ موت کو دعوت دینا ہے۔
بلندی سے موافقت، یا Acclimatisation، پہاڑوں میں بقا کی بنیادی شرائط میں سے ایک ہے۔ اس سے مراد جسم کا بتدریج زیادہ بلندی اور کم آکسیجن والے ماحول کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا ہے۔ پچھلے سال مئی میں، جب میں اپنے آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر حفیظ الرحمان کے پاس معائنے کے لیے گئی، تو میں نے انہیں بتایا کہ جولائی میں میرا کے ٹو ٹریک پر جانے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا، “آپ ضرور جائیں، مگر ٹریک سے پہلے Acclimatised ہو جائیے گا۔” ان کا یہ مختصر سا جملہ میرے ذہن میں محفوظ ہو گیا۔ اسی لیے پچھلے سال کے ٹو، غوندوغورو لا، اور اس سال سنو لیک، ہسپر لا کے سفر کے لیے میں نے ٹریک شروع ہونے سے دو دن پہلے سکردو پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ بظاہر یہ صرف دو اضافی دن تھے، مگر میرے لیے ان کا انتظام آسان نہیں تھا۔
بڑے ٹریک عموماً دو ہفتے یا اس سے زیادہ عرصے پر محیط ہوتے ہیں۔ روزگار اور خاندانی مصروفیات کے درمیان سے چودہ دن نکالنا ہی کسی جوئے شیر لانے سے کم نہیں، اور پھر ان کے علاوہ مزید دو دن پہلے پہنچنا، اس کے لیے وقت بھی درکار تھا اور اضافی اخراجات بھی۔ مگر میں نے ان دو دنوں کو خرچ نہیں بلکہ ایک ضروری سرمایہ کاری سمجھا۔ ان اضافی دنوں کے تین بنیادی مقاصد تھے۔
پہلا، اگر موسم کی خرابی کے باعث عین وقت پر پرواز منسوخ ہو جاتی تو بذریعہ سڑک سکردو پہنچنے میں کافی وقت لگ سکتا تھا، اور میری وجہ سے پوری ٹیم کا شیڈول متاثر ہو سکتا تھا۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ باقی ساتھیوں کو میرا انتظار کرنا پڑے۔
دوسرا مقصد، سکردو کی بلندی اور آب و ہوا کے ساتھ ابتدائی مطابقت پیدا کرنا تھا۔
اور تیسرا مقصد، دشوار گزار راستوں اور بلند دروں کی چڑھائی سے پہلے اپنے گیئر اور ضروری سامان کی مکمل تیاری اور جانچ کرنا تھا۔
میرے ان دونوں ٹریکس میں جن ساتھیوں کے پاس وقت اور وسائل کی سہولت تھی، وہ مجھ سے بھی پہلے سکردو پہنچ چکے تھے۔ یہی طرزِ عمل دراصل پہاڑوں کے سفر کو محض مہم جوئی نہیں، بلکہ ایک ذمہ دارانہ سفر بناتا ہے۔
تجربہ کار کوہ پیما اور مہماتی ٹیمیں بھی عموماً بیس کیمپ پر کئی دن گزارتی ہیں۔ اس کا ایک اہم مقصد جسم کو بلند ماحول کے مطابق ڈھلنے کا وقت دینا ہوتا ہے، جبکہ دوسرا مناسب موسم کا انتظار کرنا۔ ٹریکرز کے لیے یہ عمل قدرے مختلف ہوتا ہے۔ وہ عموماً سفر کے دوران بتدریج بلندی حاصل کرتے ہوئے خود کو نئے ماحول کے مطابق ڈھالتے رہتے ہیں۔
بلندی پر جسم خاموشی سے ایک بڑے تبدیلی کے عمل سے گزرتا ہے۔ سانس اور دل کی رفتار بدلتی ہے، جسم کم دستیاب آکسیجن کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے، اور وقت کے ساتھ جسمانی نظام نئے ماحول سے ہم آہنگ ہونے لگتے ہیں۔ اسی لیے پہاڑوں میں اصل کمال تیزی سے اوپر پہنچنے میں نہیں، بلکہ صحیح رفتار سے اوپر پہنچنے میں ہے۔
بلند علاقوں میں بیماری کے خطرے کو کم کرنے کے لیے بلندی آہستہ آہستہ بڑھائی جاتی ہے اور مناسب وقفوں سے آرام کے دن رکھے جاتے ہیں۔ یہی وقفے جسم کو مزید بلندی کے لیے تیار ہونے کا موقع دیتے ہیں۔ اگر کسی شخص میں بلندی کی بیماری کی علامات ظاہر ہوں تو مزید اوپر جانا مناسب نہیں۔ اور اگر علامات برقرار رہیں یا بگڑنے لگیں تو نیچے اترنا بسا اوقات زندگی بچانے والا فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ہر جسم کا بلندی، موسم اور ماحول کے ساتھ ردعمل مختلف ہوتا ہے۔ پاکستانی ٹریکرز کو مقامی ماحول سے کسی حد تک مانوس ہونے کا فائدہ ضرور ہوتا ہے، جبکہ بیرونِ ملک سے آنے والے ساتھیوں کو نئی آب و ہوا، پانی، گردوغبار اور خوراک کے باعث بعض اوقات معدے یا سانس کی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ کوئی قطعی اصول نہیں۔حتیٰ کہ بہترین جسمانی فٹنس بھی altitude illness سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دیتی۔
پچھلے سال کے ٹو ٹریک کے دوران پایو کیمپ سائٹ پر امریکہ سے آئے ہمارے ساتھی عمران کو سانس لینے میں دشواری محسوس ہوئی۔ انہوں نے ایک دن مزید پایو میں رک کر اپنی کیفیت کا جائزہ لیا۔ جب طبیعت میں خاطر خواہ بہتری نہ آئی تو انہوں نے مزید اوپر جانے کے بجائے واپسی کا فیصلہ کیا۔
اسی طرح کنکورڈیا پر ہمارے ایک اور ساتھی، پنکش، کا بلڈ پریشر معمول پر نہیں تھا۔ ہمارے گروپ لیڈر عمیر حسن نے انہیں غوندوغورو لا کرنے سے منع کر دیا۔ پنکش نے اس فیصلے کو تسلیم کیا اور بالتورو کے راستے اسکولی واپس چلے گئے۔ یہ دونوں واقعات میرے لیے ایک اہم سبق تھے کہ پہاڑوں پر بہادری ہمیشہ آگے بڑھنے کا نام نہیں۔ کبھی کبھی اصل بہادری واپس لوٹ آنے میں ہوتی ہے۔ ان دونوں ساتھیوں نے اپنے جسم کی کیفیت کو سمجھا، ضد نہیں کی اور مہم ادھوری چھوڑ کر واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ شاید نقشے پر یہ واپسی تھی، مگر زندگی کے پیمانے پر یہ ایک کامیاب فیصلہ تھا۔
ان دونوں ٹریکس کے دوران میرے گروپ لیڈر عمیر حسن نے احتیاطاً مجھے Diamox (Acetazolamide) شروع کروائی، اگرچہ گزشتہ چار برسوں میں بلندی پر طبیعت خراب ہونے کا کوئی واقعہ میرے ساتھ پیش نہیں آیا تھا۔ Acetazolamide بعض افراد میں altitude illness کی روک تھام اور acclimatisation کو تیز کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ تاہم اس کا استعمال فرد کی صحت، سفر کے پلان اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہ بتدریج چڑھائی اور مناسب acclimatisation کا متبادل نہیں۔
اس کے علاوہ ہم سب ساتھی ہر رات pulse oximeter سے اپنی بلڈ آکسیجن saturation بھی چیک کرتے تھے۔ یہ ایک مفید اضافی نگرانی ضرور تھی، مگر ہم جانتے تھے کہ صرف ایک عدد پر انحصار کافی نہیں۔ پہاڑ پر سر درد، غیر معمولی تھکن، متلی، سانس لینے میں دشواری، لڑکھڑاہٹ، الجھن یا علامات کا مسلسل بگڑنا زیادہ اہم انتباہ ہیں۔
ہم اُبالا ہوا اور فلٹر شدہ پانی استعمال کرتے، ORS لیتے اور مناسب hydration برقرار رکھنے کی کوشش کرتے۔ مقصد صرف زیادہ پانی پینا نہیں، بلکہ جسم میں سیال اور نمکیاتی توازن کو مناسب حد تک برقرار رکھنا ہے۔ یہ احتیاطیں بظاہر معمولی لگتی ہیں، مگر پہاڑوں میں معمولی سی احتیاط اور غیر معمولی خطرے کے درمیان اکثر یہی چند قدم حائل ہوتے ہیں۔
پہاڑ انتظار کرنا جانتے ہیں۔ انہیں کوئی جلدی نہیں ہوتی۔ وہ صدیوں سے اپنی جگہ کھڑے ہیں اور صدیوں تک کھڑے رہیں گے۔ ہم ان کے مہمان ہیں، اس لیے اگر ان کے انداز بدل جائیں، موسم کے تیور بگڑ جائیں، راستہ خطرناک ہو جائے یا جسم واضح طور پر ساتھ دینے سے انکار کرنے لگے تو واپس لوٹ آنے میں کوئی شرمندگی نہیں ہونی چاہیے۔
نامکمل مہم کو شکست سمجھنا بھی درست نہیں۔ بعض سفر انسان کو چوٹی تک نہیں پہنچاتے، مگر اسے تجربہ، شعور اور ذہنی پختگی دے کر واپس لاتے ہیں۔ اور بعض اوقات یہی حاصل کسی بھی چوٹی سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ پہاڑ انسان کو صرف بلندی نہیں سکھاتے، وہ اسے اپنی حدود پہچاننا بھی سکھاتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ طاقت صرف چڑھنے میں نہیں، رک جانے میں بھی ہے؛ ہمت صرف خطرہ مول لینے میں نہیں، خطرے کو پہچاننے میں بھی ہے؛ اور کامیابی صرف چوٹی پر جھنڈا گاڑنے کا نام نہیں، بلکہ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنے کا نام بھی ہے۔
کسی چوٹی کو سر کرنا ہماری زندگی سے زیادہ قیمتی نہیں۔ چوٹی رہ جائے تو رہ جائے، کیونکہ حالات دوبارہ سازگار ہو سکتے ہیں، موقع دوبارہ مل سکتا ہے اور قسمت کو دوبارہ آزمایا جا سکتا ہے۔ مگر زندگی کا یہ سفر دوبارہ شروع نہیں ہوتا۔ اس لیے پہاڑوں سے عشق ضرور کیجیے، ان کی بلندیوں کو للکاریے، ان کے راستوں پر چلیے اور ان کی خاموشی میں اپنے آپ کو تلاش کیجیے۔ مگر جب پہاڑ واپسی کا اشارہ دیں تو اسے بھی احترام سے سنیے، کیونکہ احتیاط خوف نہیں، زندگی سے محبت ہے۔



