تاثرات: مظہر طفیل
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے اس انکشاف کے بعد کہ ملک کا نظام تباہ ہو چکا ہے یہ نظام ریاست اور عوام کو یکجا کرنے کی بجائے دوریاں اور نفرت کو پروان چڑھا رہا ہے بے شک محسن نقوی نے یہ الفاظ براہ راست استعمال نہیں کیے مگر ان کا لب لباب یہی تھا اب آتے ہیں اصل مسئلے کی جانب کہ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث محض نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ اس سوال سے جڑی ہوئی ہے کہ ریاست اپنے شہریوں تک کتنی دور ہے اور اقتدار عوام کے کتنے قریب ہے جب بھی نئے صوبوں کی بات سامنے آتی ہے سیاسی حلقوں میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے تحفظات سامنے آتے ہیں اعتراضات کی آواز بلند ہوتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انتظامی تقسیم کا یہ تصور کسی جغرافیائی ضرورت سے زیادہ سیاسی مفادات کے ایوانوں کو متزلزل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ نئے صوبے کیوں بنائے جائیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ بڑے صوبوں کی موجودہ ساخت نے عام آدمی کو کیا دیا ہے کیا اسے اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے حکومت تک آسان رسائی حاصل ہے کیا اس کے علاقے میں صحت تعلیم روزگار پانی نکاسی آب اور شہری سہولتوں کا ایسا نظام موجود ہے جس پر وہ مطمئن ہو سکے اور کیا اربوں روپے کے ترقیاتی بجٹ کے استعمال کا ایسا شفاف نظام موجود ہے جس میں عوام اپنے حکمرانوں سے یہ پوچھ سکیں کہ ان کے نام پر مختص ہونے والا پیسہ کہاں خرچ ہوا پاکستان کے بڑے صوبے اپنی وسعت کے اعتبار سے اب ایسے انتظامی دیو بن چکے ہیں جن کے سائے میں کئی علاقے اپنی شناخت اور اپنی ضروریات کے ساتھ مسلسل نظر انداز ہوتے رہے ہیں صوبائی دارالحکومتوں کی روشنی دور دراز علاقوں تک پہنچتے پہنچتے مدھم پڑ جاتی ہے اور اقتدار کے مرکز سے فاصلے کے ساتھ ساتھ شہری کے مسائل کی آواز بھی کمزور ہوتی چلی جاتی ہے یہی وہ مقام ہے جہاں نئے صوبوں کا تصور محض سیاسی نعرہ نہیں رہتا بلکہ انتظامی ضرورت کی صورت اختیار کر لیتا ہے نیا صوبہ دراصل ایک نئے انتظامی مرکز کا نام ہے ایک ایسی حکومت کا تصور ہے جو شہری کے دروازے سے بہت دور نہ ہو جس کے دفتر تک پہنچنے کے لیے اسے سینکڑوں میل کا سفر نہ کرنا پڑے اور جس کے سامنے اس کے علاقے کے مسائل محض اعداد و شمار نہ ہوں بلکہ روزمرہ زندگی کی حقیقی تصویریں ہوں جب اقتدار قریب ہوتا ہے تو جواب دہی بھی قریب آتی ہے اور جب جواب دہی قریب آتی ہے تو حکمرانوں کے لیے اپنی کارکردگی کو محض سیاسی بیانیوں کے پردے میں چھپانا آسان نہیں رہتا پاکستان کی سیاست کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ کئی دہائیوں سے اقتدار کے گرد مخصوص خاندانوں اور مخصوص سیاسی گروہوں کا حصار قائم ہے نسل بدلتی ہے مگر چہرے بدلنے کے بجائے اکثر نام بدلتے ہیں اقتدار کی کرسی ایک خاندان سے دوسرے خاندان اور ایک حلقے سے دوسرے حلقے تک منتقل ہوتی رہتی ہے اور عام شہری ہر انتخاب کے بعد یہ امید باندھتا ہے کہ شاید اب اس کی باری آئے گی مگر اس کی باری اکثر صرف ووٹ دینے تک محدود رہ جاتی ہے نئے صوبوں کا قیام اس موروثی سیاسی حصار کو خود بخود ختم نہیں کرے گا لیکن یہ اس حصار میں ایک نئی کھڑکی ضرور کھول سکتا ہے نئے انتظامی مراکز نئی سیاسی قیادت کو جنم دے سکتے ہیں مقامی مسائل کو قومی سیاست کے شور سے الگ کر کے ان کی حقیقی اہمیت سامنے لا سکتے ہیں اور ایسے لوگوں کو آگے آنے کا موقع دے سکتے ہیں جنہیں بڑے سیاسی صوبوں کے طاقتور انتخابی ڈھانچے میں جگہ ملنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ترقی کے نام پر ہمارے ہاں اکثر ترقی کی نمائش زیادہ اور ترقی کی بنیاد کم مضبوط کی جاتی ہے سڑکیں بنانا پل تعمیر کرنا چوراہوں کو خوبصورت بنانا اور شہروں کی ظاہری شکل بدل دینا اپنی جگہ اہم ہے مگر اگر انہی شہروں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو جائے اگر نالے بند ہوں اگر سیوریج کا نظام بوسیدہ ہو اگر پینے کا صاف پانی میسر نہ ہو اور اگر شہری معمولی سہولتوں کے لیے بھی در بدر پھریں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ترقی کی اصل تعریف کیا ہے پنجاب میں حالیہ بارشوں نے شہری ترقی کے ان دعووں کو ایک مرتبہ پھر کڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے لاہور راولپنڈی گوجرانوالہ گجرات اور جہلم سمیت کئی شہروں میں پانی اور نکاسی آب کے مسائل نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ترقیاتی ترجیحات کا تعین واقعی عوام کی بنیادی ضرورتوں کے مطابق کیا گیا تھا یا ہماری ترجیحات کہیں کہیں ظاہری خوبصورتی کے گرد گھومتی رہیں بیوٹیفیکیشن کے نام پر شہر خوبصورت ضرور دکھائی دے سکتے ہیں مگر ایک دکان کا اجڑنا صرف اینٹوں اور شٹر کا گرنا نہیں ہوتا اس کے پیچھے ایک خاندان کی آمدنی ہوتی ہے کئی ملازمین کا روزگار ہوتا ہے بچوں کی فیس ہوتی ہے گھریلو اخراجات ہوتے ہیں اور ایک پوری معاشی زنجیر ہوتی ہے معاوضہ کسی نقصان کا مالی ازالہ تو کر سکتا ہے مگر ختم ہو جانے والے کاروبار کی معاشی زندگی واپس نہیں لا سکتا اس لیے ترقی کا اصل پیمانہ صرف تعمیرات کی تعداد نہیں بلکہ ان تعمیرات کے نتیجے میں عام انسان کی زندگی میں پیدا ہونے والی آسانی ہونی چاہیے اسی طرح کراچی پاکستان کی معیشت کا وہ شہر ہے جس کی نبض پر پورے ملک کی معاشی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ قائم ہے مگر اس شہر کے مسائل کسی ایک حکومت یا ایک ادارے کی حدود سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں پانی ٹرانسپورٹ صفائی نکاسی آب ٹریفک اور نامکمل ترقیاتی منصوبے اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ اگر ملک کا سب سے بڑا معاشی مرکز اپنے شہریوں کو بنیادی شہری سہولتیں فراہم کرنے میں مسلسل مشکلات کا شکار رہے تو پھر ہماری ترقیاتی ترجیحات کا سنجیدہ احتساب کیوں نہ کیا جائے یہی وہ مقام ہے جہاں نئے صوبوں کی بحث کو محض سیاسی تقسیم کے بجائے انتظامی اصلاحات کے وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے چھوٹی انتظامی اکائیاں لازماً بہتر حکومت کی ضمانت نہیں ہوتیں لیکن ان میں حکومت اور شہری کے درمیان فاصلہ کم کرنے کی صلاحیت ضرور ہوتی ہے وسائل کی تقسیم زیادہ واضح ہو سکتی ہے مقامی ضروریات زیادہ نمایاں ہو سکتی ہیں اور منتخب نمائندوں کے لیے اپنے علاقے کے مسائل سے نظریں چرانا نسبتاً مشکل ہو سکتا ہے اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں اصل مسئلہ حکمرانی کا معیار ہے اگر نئے صوبے بھی وہی سیاسی خاندان وہی غیر شفاف نظام وہی ناقص منصوبہ بندی اور وہی کمزور احتساب اپنے ساتھ لے آئیں تو صرف نقشے پر ایک نئی لکیر کھینچنے سے پاکستان تبدیل نہیں ہوگا لیکن اگر نئے صوبوں کے ساتھ اختیارات کی حقیقی منتقلی شفاف مالیاتی نظام مضبوط مقامی حکومتیں آزاد احتساب اور عوامی شرکت کو یقینی بنایا جائے تو یہی تقسیم انتظامی تعمیر نو کا راستہ بن سکتی ہے پاکستان میں یہ سوال اب نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ آخر ایک عام شہری کو اپنے بنیادی حق کے لیے اتنے بڑے انتظامی ڈھانچے کا محتاج کیوں بنایا جائے جس میں اس کی آواز دارالحکومت کے شور میں گم ہو جائے ریاست کا حسن یہ نہیں کہ اس کے پاس بڑے صوبے ہوں بڑے منصوبے ہوں یا بڑے بجٹ ہوں ریاست کی اصل عظمت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اس کا سب سے کمزور شہری بھی یہ محسوس کرے کہ حکومت اس کے قریب ہے اس کی بات سنتی ہے اور اس کے وسائل کو اس کی زندگی بہتر بنانے پر خرچ کرتی ہے نئے صوبوں کی مخالفت اگر واقعی عوامی مفاد کی بنیاد پر ہے تو اس کے لیے مضبوط انتظامی دلائل سامنے آنے چاہئیں اگر یہ تقسیم قومی وحدت کے لیے خطرہ سمجھی جاتی ہے تو اس خطرے کی وضاحت ہونی چاہیے اور اگر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ نئے صوبے مالی طور پر قابل عمل نہیں ہوں گے تو اس کے اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھے جانے چاہئیں لیکن محض سیاسی مخالفت یا روایتی تحفظات کی بنیاد پر اس بحث کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دینا کسی جمہوری معاشرے کے شایان شان نہیں عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پوچھیں کہ ان کے وسائل کہاں خرچ ہوتے ہیں ان کے علاقے میں ترقی کیوں نہیں پہنچتی ان کے بچوں کے لیے روزگار کیوں نہیں پیدا ہوتا ان کے شہروں میں صاف پانی کیوں نہیں ہے ان کے راستے بارش میں کیوں ڈوب جاتے ہیں اور ان کے کاروبار ترقیاتی منصوبوں کی زد میں آ کر کیوں اجڑ جاتے ہیں یہ سوال کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں بلکہ پورے حکمرانی کے نظام کے سامنے کھڑا ہے پاکستان کو اب ایسی سیاست کی ضرورت ہے جس میں خاندان سے زیادہ قابلیت کی قدر ہو نام سے زیادہ کارکردگی کی اہمیت ہو سیاسی وابستگی سے زیادہ عوامی خدمت کو معیار بنایا جائے اور ترقی کا مطلب صرف خوبصورت سڑکیں نہیں بلکہ محفوظ شہر بہتر اسپتال معیاری تعلیم صاف پانی مؤثر نکاسی آب باعزت روزگار اور ایک ایسا نظام ہو جس میں شہری اپنے حق کے لیے دروازے دروازے نہ بھٹکے نئے صوبوں کا مطالبہ اسی بڑی قومی اصلاح کا حصہ بن سکتا ہے بشرطیکہ اسے جذباتی سیاست کے بجائے سنجیدہ قومی مکالمے میں تبدیل کیا جائے عوامی رائے لی جائے ماہرین کی رائے حاصل کی جائے آئینی تقاضے پورے کیے جائیں مالیاتی امکانات کا جائزہ لیا جائے اور ان علاقوں کو انتظامی شناخت دی جائے جہاں اس کی حقیقی ضرورت موجود ہے پاکستان کو مزید بڑے دعووں سے زیادہ بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے مزید تختیاں لگانے سے زیادہ جواب دہی کی ضرورت ہے مزید سیاسی نعروں سے زیادہ عوامی اختیار کی ضرورت ہے اور شاید نئے صوبوں کی بحث ہمیں اسی بنیادی سوال تک لے جاتی ہے کہ اقتدار آخر کس کے لیے ہے اگر اقتدار عوام کے لیے ہے تو پھر اقتدار عوام کے قریب بھی ہونا چاہیے اور اگر جمہوریت واقعی عوام کی حکمرانی کا نام ہے تو پھر اس کے دروازے بھی عوام کے قریب ہونے چاہئیں نئے صوبے اسی قربت کی طرف ایک قدم بن سکتے ہیں اور اگر یہ قدم شفافیت جواب دہی انتظامی صلاحیت اور عوامی اختیار کے ساتھ اٹھایا گیا تو ممکن ہے پاکستان کے سیاسی نقشے پر بننے والی نئی لکیریں صرف جغرافیہ نہ بدلیں بلکہ حکمرانی کی پوری سمت بدل دیں۔



