نئی دہلی (نیشنل ٹائمز)بھارت نے بدھ کے روز ان اطلاعات کو مسترد کر دیا کہ چین نے متنازع ہمالیائی سرحد پر بھارتی حدود میں دراندازی کی ہے ۔ یہ وضاحت اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے سرحد پر بڑھتی کشیدگی پر تشویش کے اظہار کے چند روز بعد سامنے آئی ہے ۔حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کرن ریجیجو نے کہا کہ شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں چینی فوجیوں کے بھارتی علاقے میں 60 کلومیٹر تک اندر آنے کی اطلاعات درست نہیں۔چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے ، جبکہ بھارت اسے اپنی ریاست اور ملکی علاقے کا لازمی حصہ قرار دیتا ہے ۔ریجیجو نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ چین بھارتی حدود میں 60 کلومیٹر اندر آگیا یا اس نے کوئی بھارتی گاؤں قبضے میں لے لیا۔بھارت اور چین کے درمیان تقریباً 3ہزار500 کلومیٹر طویل سرحد ہے جو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا اہم سبب بنی رہتی ہے ۔ ریجیجو نے تسلیم کیا کہ چین نے سرحدی علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی بڑھائی ہے ، تاہم ان کا کہنا تھا کہ بھارت بھی سرحد پر بنیادی ڈھانچے اور فوجی گشت کی صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہا ہے ۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اگلے ماہ نئی دہلی میں برکس سربراہ اجلاس ہونے والا ہے ، جس میں چینی صدر شی جن پنگ کی شرکت متوقع ہے ۔
ارونا چل پر دیش : چینی فوجیوں کے ہمارے گا ئوں پر قبضے کی اطلاعت درست نہیں: بھارت



