جس میاں بیوی نے کورونا کی ہولناک وبا کے دوران ریکارڈ وقت میں دنیا کی پہلی کامیاب ترین ‘فائزر ویکسین’ بنا کر کروڑوں انسانوں کو نئی زندگی دی، وہ اب کینسر کے مکمل خاتمے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔ جی ہاں! ہم بات کر رہے ہیں جرمنی میں مقیم عظیم ترک سائنسدان ڈاکٹر اوغر شاہین اور ڈاکٹر اوزلم توریجی کی۔ جو اس آیت کی جیتی جاگتی تفسیر ہیں کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچالیا۔
کھرب پتی بننے کی آفر ٹھکرا دی—صرف انسانیت کی خاطر!
اس پوسٹ کو لکھنے اور شیئر کرنے کا سب سے بڑا مقصد ان کی بے مثال قربانی کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔ ذرا سوچیے: پیٹنٹ (Patent) کا کھیل اور اربوں ڈالر: کینسر کا علاج دنیا کا مہنگا ترین علاج ہے۔ اگر یہ دونوں سائنسدان چاہتے، تو اپنی اس انقلابی mRNA تکنیک اور ریسرچ کو اپنے نام پر سخت ترین قوانین کے ساتھ ‘پیٹنٹ’ کروا لیتے۔ وہ دنیا کی سب سے مہنگی فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے اپنی مرضی کی رائلٹی اور قیمت وصول کر سکتے تھے۔
دنیا کے امیر ترین انسان بن سکتے تھے: اگر وہ اپنے فارمولے کو تجارتی راز بنا لیتے، تو آج وہ دنیا کے امیر ترین ارب پتیوں کی فہرست میں سب سے اوپر ہوتے۔
ان دونوں کا واحد عزم یہ ہے کہ یہ ویکسین دنیا کے ہر غریب اور امیر انسان تک یکساں اور انتہائی سستی قیمت پر پہنچے۔ وہ اپنے علم کو چند امیر ملکوں یا امیر لوگوں تک محدود نہیں رکھنا چاہتے، بلکہ ان کا ہدف دنیا کے پسماندہ ترین علاقوں میں رہنے والے لاکھوں مریضوں کی زندگیاں بچانا ہے۔
یہ کینسر ویکسین کیسے کام کرے گی؟
یہ کوئی روایتی علاج یا زہریلی کیموتھراپی نہیں ہے، بلکہ ایک معجزاتی تکنیک ہے:
مدافعتی نظام کو ٹریننگ: یہ mRNA تکنیک انسانی جسم کے اپنے دفاعی نظام (Immune System) کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ کینسر کے چھپے ہوئے خلیات (Cells) کو خود پہچانے اور انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔
ہر مریض کے کینسر کا ٹیومر الگ ہوتا ہے۔ یہ جوڑی اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی مدد سے ایسی ادویات پر کام کر رہی ہے جو ہر مریض کے کینسر کے حساب سے چند دنوں میں خاص طور پر تیار کی جا سکیں گی۔
اربوں ڈالر کی کمپنی بنانے کے بعد بھی اس میاں بیوی کی سادگی کا یہ عالم ہے کہ آج بھی وہ کرائے کے اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں، ان کے پاس ذاتی گاڑی نہیں ہے اور وہ روزانہ سائیکل پر اپنی لیبارٹری جاتے ہیں۔ ان کے پاس ٹی وی تک نہیں ہے کیونکہ وہ اپنا ایک ایک سیکنڈ انسانیت کی بقا کی ریسرچ میں صرف کرنا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر اوزلم توریجی کا کہنا ہے: “ہمارا مقصد پیسہ کمانا کبھی تھا ہی نہیں۔ ہمارا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ ہماری بنائی ہوئی دوا سے کتنے لوگ ہسپتالوں سے ہنستے کھیلتے اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔”
اللہ پاک ان دونوں سچے انسان دوست سائنسدانوں کو لمبی عمر، صحت اور ان کے اس عظیم مشن میں کامل کامیابی عطا فرمائے۔ آمین!



