بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت قومی دفاع کے ایک ترجمان نے جمعہ کو جاپان کی تیزی سے جاری دوبارہ عسکریت پسندی کی کوششوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں علاقائی امن اور استحکام کے لئے حقیقی خطرہ قرار دیا ہے۔
وزارت قومی دفاع کے ترجمان چھن شی نے ایک پریس بریفنگ کے دوران جاپان کے حالیہ میزائل تجربات اور جاپانی وزیر دفاع کے اس بیان سے متعلق سوال کے جواب میں یہ بات کہی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل جاپان کی جوابی حملے کی صلاحیت کا حصہ بن جائیں گے۔
چھن نے کہا کہ جاپان کی جانب سے جارحانہ نوعیت کے ہتھیاروں کی تیاری کو تیز کرنے کے اقدامات تیزی سے بڑھتے اور زیادہ خطرناک ہوتے جا رہے ہیں، جس پر خطے کے ممالک کو مزید چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔
ترجمان کے مطابق جاپانی فریق کی جانب سے نام نہاد “پڑوسی ممالک سے لاحق سلامتی کے خطرات” کا دعویٰ دراصل اس کے امن پسند آئین اور “صرف دفاعی حکمت عملی” کی پالیسی سے دستبردار ہونے اور دوبارہ عسکریت پسندی کے عمل کو تیز کرنے کا محض ایک بہانہ ہے۔
چھن نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ “جاپان کی سلامتی اور خطے کے امن و استحکام کے لئے حقیقی خطرہ اس کی فوجی طاقت میں بے لگام اضافے اور دوبارہ عسکریت پسندی کو تیز کرنے کی کوششیں ہیں۔ جنگ کا بھیانک خواب دوبارہ نہیں دہرایا جانا چاہیے اور امن کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔”
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر جاپان کی جدید عسکریت پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لئے مشترکہ اقدامات کرے اور اسے دنیا کو ایک بار پھر بدامنی اور انتشار کی طرف دھکیلنے سے باز رکھے۔
جاپان کی دوبارہ عسکریت پسندی کی کوششیں علاقائی امن اور استحکام کے لئے حقیقی خطرہ ہیں، چین



