واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ اگرچہ امریکہ کے پاس گولہ بارود کے مجموعی ذخائر اب بھی کافی ہیں تاہم مخصوص اقسام کے بارود کی فراہمی پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے تفصیلاً بات کئے بغیر کہا کہ امریکہ کے پاس بعض اقسام کے بارود کا “تقریباً لامحدود ذخیرہ” موجود ہے تاہم دیگر کی فراہمی “کچھ محدود” ہے۔
ٹرمپ کے یہ بیانات ان میڈیا رپورٹس کے دو دن بعد سامنے آئے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکی فوج نے ایک اہم میزائل دفاعی نظام کے تقریباً 80 فیصد انٹرسیپٹرز ختم کر دیئے ہیں اور فوجی کمانڈروں نے خبردار کیا ہے کہ فوج کے بارود کا ذخیرہ “خطرناک حد تک کم” ہو چکا ہے۔
میگزین دی اٹلانٹک نے اس شدید کمی کی رپورٹ شائع کی جس میں موجودہ اور سابق امریکی دفاعی حکام کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے خبردار کیا کہ پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے دور مار کرنے والے ہتھیاروں اور جدید انٹرسیپٹر میزائلوں کے باقی ماندہ ذخائر مطلوبہ سطح کے محض 20 فیصد تک گر چکے ہیں۔
ایران کے ساتھ جنگ کے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران امریکی عوام بیرون ملک اس طویل ہوتی کشیدگی سے مسلسل بدظن اور بیزار ہو رہے ہیں۔
رائٹرز اور اپسوس کے ایک نئے مشترکہ سروے کے مطابق مشرق وسطیٰ کے مزید افراتفری کا شکار ہونے کا خدشہ ظاہر کرنے والے امریکیوں کی تعداد ان لوگوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے جو اس جنگ کو مزید استحکام کا باعث سمجھتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کو گولہ بارود کی قلت اور جنگ کے لئے عوامی حمایت میں کمی کا سامنا



