نوم پنہ (شِنہوا) کمبوڈیا کے حکام اور ماہرین نے کہا ہے کہ کمبوڈیا اور چین کے درمیان ناقابل شکست آہنی دوستی دونوں ممالک کی مشترکہ خوشحالی کو مسلسل فروغ دے رہی ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور ہم آہنگی کے لئے ایک اہم ستون بنی ہوئی ہے۔
کمبوڈیا کے دارالحکومت نوم پنہ میں جمعہ کے روز منعقدہ دوسرے انگ کور-گریٹ وال فورم کے دوران نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں تقریباً ایک ہزار طلبہ اور اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کمبوڈیا کی کونسل آف منسٹرز کے دفتر کے وزیر مملکت پاتھ کوسال نے دونوں ممالک کو حقیقی اور قابل اعتماد دوست قرار دیا، جن کی شراکت داری تاریخی بنیادوں پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مضبوط سفارتی اعتماد اور سٹریٹجک ہم آہنگی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مشترکہ اقتصادی ترقی کے لئے درکار مستحکم ماحول پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔
کمبوڈیا کے وزیراعظم ہن مانیت کے ذاتی مشیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دینے والے کوسال نے چین کی ہمسایہ ممالک سے متعلق سفارت کاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں دوستی، خلوص، باہمی فائدے اور شمولیت کے اصولوں کو ترجیح دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ طرز عمل علاقائی امن، مشترکہ ترقی اور ایشیائی ہمسایہ ممالک کے درمیان مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “چین کی ہمسایہ سفارت کاری باہمی فائدے اور سب کے لئے سودمند تعاون کی بنیاد پر دیرپا شراکت داریاں قائم کرتی ہے۔”
کوسال نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ثقافتی، تاریخی اور جغرافیائی رشتوں پر بھی استوار ہیں اور چین کی اپنے پڑوسی ممالک، بالخصوص آسیان کے رکن ممالک کے ساتھ سرگرم شراکت داری اس کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون بن چکی ہے
کمبوڈیا -چین آہنی دوستی باہمی ترقی اور علاقائی استحکام کو فروغ دے رہی ہے، حکام



