تحریر: منظر نقوی
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر متضاد بیانات نے اس حقیقت کو آشکار کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بدستور کسی بھی مؤثر سفارتی پیش رفت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور تہران کے لیے یہ ایک “آخری موقع” ہے کہ وہ بہتر معاہدہ کرے، جبکہ ایران نے نہ صرف ایسے مذاکرات کی تردید کی ہے بلکہ یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کی کوئی بات چیت زیر غور ہی نہیں۔
یہ متضاد بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطے میں امن کے حوالے سے ابہام پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ اسی دوران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے نے ایک مرتبہ پھر دنیا کو یاد دلایا ہے کہ خلیج میں معمولی کشیدگی بھی عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل، سمندری تجارت اور تیل کی قیمتوں پر فوری اثرات مرتب کرتی ہے۔ دنیا کی توانائی کا ایک بڑا حصہ اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے، لہٰذا یہاں پیدا ہونے والی ہر بے یقینی عالمی مالیاتی منڈیوں کو متاثر کرتی ہے۔
اصل مسئلہ مذاکرات کا آغاز نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں کے تجربات نے ایران کو اس نتیجے پر پہنچایا ہے کہ امریکی پالیسیوں میں تسلسل موجود نہیں۔ حکومتوں کی تبدیلی، معاہدوں سے یکطرفہ دستبرداری اور متضاد بیانات نے تہران کے اندر یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ صرف زبانی یقین دہانیوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی صورت حال میں اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ سفارتی کوششوں یا مستقبل میں کسی بھی نئے معاہدے کی کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب دونوں فریق اعتماد کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کریں۔
تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ خلیج کے امن کو صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات سے وابستہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس خطے کے اصل فریق خود مسلم اور عرب ممالک ہیں، جنہیں اب اپنی اجتماعی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ایک مشترکہ علاقائی سلامتی کے نظام کی تشکیل پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
وقت آ گیا ہے کہ سعودی عرب، ایران، پاکستان، ترکیہ، قطر، متحدہ عرب امارات، عمان، عراق، کویت، اردن، بحرین اور دیگر مسلم ممالک ایک مشترکہ فورم پر بیٹھ کر خطے کے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، باہمی اعتماد کو فروغ دیا جائے اور امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دی جائے۔ اگر خطے کے ممالک خود اپنے مسائل کے حل کی ذمہ داری قبول کریں تو بیرونی طاقتوں کی مداخلت کی ضرورت بھی بتدریج کم ہو سکتی ہے۔
ایک نقطۂ نظر یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ مسلم اور عرب ممالک کو اپنی سرزمین، فضائی حدود یا عسکری تنصیبات کو کسی بھی مسلم ملک کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے پر غور کرنا چاہیے۔ اس کے حامیوں کے مطابق ایسا اقدام کشیدگی میں کمی اور علاقائی اعتماد کی بحالی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ بعض دیگر ممالک اپنی موجودہ دفاعی شراکت داری کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے پر کھلے اور سنجیدہ علاقائی مکالمے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو خدشہ ہے کہ مستقبل میں کسی بھی فوجی تصادم کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے، جس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ جنگ کے بجائے مذاکرات، محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت اور تقسیم کے بجائے اتحاد کی حمایت کریں۔ پاکستان کی معیشت بھی خلیج کے استحکام، محفوظ توانائی کی فراہمی، سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ اور علاقائی سرمایہ کاری سے براہِ راست وابستہ ہے۔
خلیج میں پائیدار امن بیرونی دباؤ، متضاد بیانات یا فوجی طاقت کے ذریعے قائم نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلم دنیا اپنی داخلی قوت کو پہچانے، اختلافات کو گفت و شنید سے حل کرے، باہمی اعتماد کو فروغ دے اور ایسا علاقائی نظام تشکیل دے جو بیرونی مداخلت کے بجائے مشترکہ ذمہ داری اور احترامِ باہمی پر استوار ہو۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ امتِ مسلمہ اپنی اجتماعی دانش، سیاسی بصیرت اور سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خلیج کو ایک اور جنگ سے بچائے۔ یہی راستہ نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی اقتصادی استحکام کی بھی ضمانت بن سکتا ہے۔



