تحریر: تہمید صادق (برمھنگم)
سندھ میں مالی کرپشن، اقربا پروری اور بدانتظامی سے متعلق خبریں روزمرہ زندگی میں ایک معمول کا حصہ بن چکی ہیں، مگر ایک ایسی خبر، جسے ہضم کرنا آسان نہیں، وہ خیرپور کے عوام کے لیے ایک چڑیا گھر سے متعلق ہے۔ اربوں کے فنڈز، ان کا بےدردی سے ظالمانہ استعمال، اور نتیجہ صفر۔ کیا کوئی پوچھنے والا ہے؟ اگر مالی بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے تو کیا تحقیقات ہوئیں، یا پھر سب زبانی جمع خرچ، آئیں بائیں شائیں، اور کہانی ختم؟
ترقیاتی منصوبے کسی بھی حکومت کی کارکردگی، ترجیحات اور عوامی خدمت کے عزم کا عملی اظہار ہوتے ہیں۔ لیکن جب کسی منصوبے کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہو جائے کہ اس پر کاغذوں میں اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں، جبکہ زمین پر اس کا کوئی وجود دکھائی نہ دے، تو یہ معاملہ محض انتظامی غفلت نہیں رہتا، بلکہ عوامی اعتماد، مالی شفافیت اور ریاستی احتساب کے پورے نظام پر ایک سنگین سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
سندھ کے تاریخی شہر خیرپور کے حوالے سے حالیہ دنوں میں ایک انتہائی حیران کن دعویٰ سامنے آیا ہے کہ یہاں چڑیا گھر کے نام پر ہر سال تقریباً دو ارب روپے کے فنڈز مختص یا جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ مقامی سطح پر ایسے کسی فعال چڑیا گھر کا وجود نظر نہیں آتا۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ صرف ایک ترقیاتی منصوبے کی ناکامی نہیں، بلکہ قومی خزانے سے عوام کے پیسے کے استعمال کے حوالے سے ایک نہایت سنگین معاملہ ہے، جس کی غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات ناگزیر ہیں۔
تحقیقی صحافت کا بنیادی اصول یہی ہے کہ ہر دعوے کو ثبوت، سرکاری ریکارڈ اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پر پرکھا جائے۔ اس معاملے میں بھی سب سے پہلے متعلقہ محکموں، سندھ حکومت، محکمہ بلدیات، محکمہ جنگلی حیات، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، محکمہ خزانہ اور آڈیٹر جنرل کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ اگر واقعی اربوں روپے جاری ہوئے تو ان کی منظوری کب دی گئی؟ منصوبے کا پی سی ون کہاں ہے؟ اس کی لاگت کتنی تھی؟ اس پر نظرثانی کتنی بار ہوئی؟ تعمیراتی کام کس کمپنی کو دیا گیا؟ کتنی ادائیگیاں کی گئیں، اور آج اس منصوبے کی عملی حیثیت کیا ہے؟
یہ بھی معلوم کیا جانا ضروری ہے کہ اگر چڑیا گھر تعمیر ہی نہیں ہوا تو کیا فنڈز واپس قومی خزانے میں جمع ہوئے یا کسی اور مد میں منتقل کر دیے گئے؟ اگر منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا گیا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اگر ریکارڈ میں منصوبہ مکمل ظاہر کیا گیا ہے تو پھر اس کا زمینی وجود کہاں ہے؟ ایسے سوالات صرف اپوزیشن یا میڈیا کے نہیں، بلکہ ہر اس پاکستانی کے ہیں جس کے ٹیکس سے سرکاری خزانہ بھرتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ماضی میں بھی متعدد ایسے منصوبے سامنے آتے رہے ہیں جو کاغذوں میں مکمل، مگر حقیقت میں نامکمل یا سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔ آڈیٹروں کی رپورٹس میں مختلف ادوار میں نامکمل اسکیموں، غیر ضروری ادائیگیوں، لاگت میں غیر معمولی اضافے اور مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیرپور کے اس مبینہ معاملے کو بھی محض ایک سیاسی الزام قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اسے مکمل دستاویزی تحقیقات کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہے۔
یہاں ایک اور اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی ہر سال دو ارب روپے جیسے خطیر فنڈز کسی ایک منصوبے کے لیے مختص کیے جا رہے تھے تو متعلقہ منتخب نمائندے، ضلعی انتظامیہ، صوبائی اسمبلی کے ارکان، مقامی حکومتیں، آڈٹ ادارے اور نگرانی کے ذمہ دار افسران کہاں تھے؟ کیا کسی نے کبھی اس منصوبے کا فیلڈ وزٹ کیا؟ کیا کسی پارلیمانی کمیٹی نے اس کی پیش رفت کا جائزہ لیا؟ اگر نہیں، تو پھر نگرانی کا پورا نظام ازسرِنو جانچنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ان دنوں مختلف صوبوں میں عوامی مسائل، وسائل کی تقسیم اور عوامی حقوق کے حوالے سے مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں۔ یہ ایک مثبت طرزِ سیاست ہے، لیکن اسی اصول کے تحت سندھ میں بھی ہر ایسے منصوبے کی مکمل جانچ ہونی چاہیے جس پر عوامی خزانے سے خطیر رقم خرچ ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ شفاف احتساب ہمیشہ اپنی حکومت سے شروع ہوتا ہے، کیونکہ یہی جمہوری قیادت کا اصل امتحان ہوتا ہے۔
اس معاملے میں صرف خیرپور ہی نہیں، بلکہ سندھ بھر کے ترقیاتی منصوبوں کا آزادانہ فرانزک آڈٹ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جدید دور میں ہر منصوبے کا جغرافیائی محلِ وقوع، تصاویر، ادائیگیوں کا ریکارڈ، ٹینڈر کی تفصیلات اور تکمیل کی رپورٹس ڈیجیٹل صورت میں محفوظ کی جا سکتی ہیں۔ اگر حکومت واقعی شفافیت چاہتی ہے تو تمام بڑے ترقیاتی منصوبوں کا ڈیٹا عوام کے لیے آن لائن دستیاب ہونا چاہیے، تاکہ ہر شہری خود دیکھ سکے کہ اس کے ٹیکس کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ اگر تحقیقات کے بعد یہ ثابت ہو جائے کہ خیرپور میں چڑیا گھر کے نام پر اربوں روپے خرچ ہونے کا دعویٰ درست نہیں، تو اس غلط معلومات کو بھی سرکاری سطح پر واضح کیا جائے، تاکہ افواہوں اور بے بنیاد الزامات کا خاتمہ ہو۔ لیکن اگر اس دعوے میں حقیقت پائی جاتی ہے تو پھر ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت، محکمے یا بااثر حلقے سے کیوں نہ ہو۔
عوامی خزانہ کسی حکومت، جماعت یا فرد کی ذاتی ملکیت نہیں، بلکہ عوام کی امانت ہے۔ اس امانت میں خیانت صرف مالی جرم نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔ آج جب ملک معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل سے نبردآزما ہے، ایسے میں اگر ترقیاتی منصوبوں کے نام پر اربوں روپے ضائع یا غلط استعمال ہوتے ہیں تو یہ ناقابلِ قبول ہے۔
خیرپور کے مبینہ چڑیا گھر کا معاملہ اب صرف ایک شہر کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ پاکستان میں شفاف حکمرانی، مؤثر احتساب اور عوامی وسائل کے درست استعمال کا امتحان بن چکا ہے۔ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ آخر دو ارب روپے کا چڑیا گھر کہاں ہے؟ اگر موجود ہے تو عوام کے سامنے لایا جائے، اور اگر موجود نہیں تو پھر یہ بھی بتایا جائے کہ عوام کا پیسہ آخر کہاں گیا۔
جمہوری معاشروں کی طاقت یہی ہوتی ہے کہ وہاں سوال پوچھنا جرم نہیں، بلکہ عوام کا حق سمجھا جاتا ہے، اور جواب دینا حکومت کی ذمہ داری۔ امید کی جانی چاہیے کہ متعلقہ ادارے اس معاملے کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے تمام حقائق قوم کے سامنے رکھیں گے، تاکہ اگر کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کا خاتمہ ہو، اور اگر نہیں ہوئی تو عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔



