سینٹ پیٹرز برگ (شِنہوا) روس کے لینن گراڈ خطے کے گورنر الیگزینڈر دروزدینکو نے شِنہوا کو دئیے گئے ایک تحریری انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کا خطہ اپنے جغرافیائی فوائد سے استفادہ کرتے ہوئے چینی کمپنیوں کے ساتھ سرحد پار سپلائی چینز میں تعاون کو وسعت دینا چاہتا ہے۔
بحیرہ بالٹک کے ساتھ واقع لینن گراڈ خطہ روس کے شمال مغرب میں میں نقل و حمل کا ایک اہم مرکز ہے۔ اس کی چار بڑی بندرگاہیں روس کے مجموعی درآمدی و برآمدی سامان کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کو سنبھالتی ہیں۔
دروزدینکو نے کہا کہ بحری رسد خطے کی ترجیحات میں شامل ہے اور وہ چینی شراکت داروں کے ساتھ سمندری تجارت کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ خطہ چین کو جنگلاتی مصنوعات اور زرعی اشیا برآمد کرتا ہے جن میں مرغی کا گوشت اور دالیں شامل ہیں جبکہ چین سے پیداواری اور پیکنگ کا سازوسامان درآمد کیا جاتا ہے۔ خطہ اپنے برآمدی شعبے کو مزید متنوع بنانے کے لیے گوشت، دودھ سے تیار مصنوعات اور دیگر غذائی اشیا کی برآمدات بڑھانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
دروزدینکو نے کہا کہ خطہ بحری راستوں کو بھی وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے کیونکہ مقامی جہاز رانی کمپنیوں نے بحیرہ بالٹک سے شمالی بحری راستے کے ذریعے آزمائشی سفر مکمل کر لیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روایتی راستوں کے مقابلے میں قطب شمالی کا بحری راستہ سامان کی ترسیل کے وقت کو نمایاں طور پر کم کرسکتا ہے جبکہ مال برداری کے حجم میں مسلسل اضافے کی توقع ہے۔
خطہ چین۔یورپ مال بردار ٹرینوں کے زیادہ استعمال اور نئی سپلائی چینز کی تشکیل کے ذریعے اپنے نقل و حمل کے راستوں کو مزید متنوع بنانا چاہتا ہے۔
علاقائی تعاون کے حوالے سے دروزدینکو نے کہا کہ لینن گراڈ خطہ مختلف شعبوں میں چین کے علاقوں کے ساتھ طویل مدتی اور باہمی فائدہ مند شراکت داری قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
روس کا لینن گراڈ خطہ چینی شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے، گورنر



