ہاربن (شِنہوا) ایک چینی اہلکار نے بتایا ہے کہ چین اور روس کو ملانے والی پہلی سرحدی کیبل کار (روپ وے) کا بنیادی ڈھانچہ مکمل ہو گیا ہے جس سے دونوں ملکوں کے عوام کے باہمی رابطوں کو مزید بہتر اور تیز تر بنانے میں مدد ملے گی۔
چین کے شمال مشرقی صوبے حئی لونگ جیانگ کے شہر حئی ہے اور دریائے حئی لونگ جیانگ کے پار روسی شہر بلاگوویشچنسک کو ملانے والی اس مسافر کیبل کار کی تعمیر جولائی 2019 میں شروع ہوئی تھی۔
چائنہ (حئی لونگ جیانگ) پائلٹ فری ٹریڈ زون کے حئی ہے سیکشن کی انتظامی کمیٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ژانگ چی جن کے مطابق منصوبہ رواں سال کے اختتام سے پہلے مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
منصوبے میں حئی ہے سے تعلق رکھنے والی چین کی جانب سے ٹھیکیدار جن لونگ گانگ کنسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی کے چیئرمین کاؤ شن ہونگ کا کہنا ہے کہ فعال ہونے کے بعد یہ کیبل کار دونوں سرحدی شہروں کے درمیان دریا پار کرنے کے سفر کا دورانیہ کم کر کے صرف 6 سے 8 منٹ کا کر دے گی۔
کاؤ کے مطابق اس کیبل کار کی افقی لمبائی دریا کے آر پار 970 میٹر ہے اور اس میں دو بوگیاں شامل ہوں گی جن میں سے ہر ایک میں 110 مسافر بیٹھنے کی گنجائش ہے۔
کیبل کار کی زیادہ سے زیادہ رفتار 12 میٹر فی سیکنڈ ہو گی اور اسے سالانہ ایک طرف سے 26 لاکھ مسافروں کی نقل و حمل کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ژانگ نے کہا کہ حئی ہے اور بلاگوویشچنسک جو حئی لونگ جیانگ ندی کے آمنے سامنے واقع جڑواں سرحدی شہر ہیں کے درمیان طویل عرصے سے قریبی معاشی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات قائم ہیں۔
دونوں ممالک کو جوڑنے والا پہلا سرحدی ’حئی ہے – بلاگوویشچنسک‘ ہائی وے پل 2022 میں آمدورفت کے لیے کھولا گیا تھا۔
ژانگ نے مزید بتایا کہ کیبل کار فعال ہونے سے حئی ہے کے پاس ہائی وے پُل، فیری سروس اور کیبل کار پر مشتمل ایک جامع سرحدی نقل و حمل کا نیٹ ورک ہوگا جو دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں سیاحت، مال برداری، تجارت اور دیگر صنعتوں کی باہمی ترقی کو فروغ دے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق نقل و حمل کے بہتر ذرائع اور روس و چین کے درمیان باہمی ویزا فری پالیسی کے آغاز سے عوامی روابط میں اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال کی پہلی ششماہی میں حئی ہے پورٹ کے ذریعے آنے اور جانے والے مسافروں کی تعداد 5 لاکھ 68 ہزار سے تجاوز کر گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 60 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔
چین اور روس کے درمیان پہلی سرحدی کیبل کار کا بنیادی ڈھانچہ مکمل



