لاہور (نیشنل ٹائمز)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سوال کیا ہے کہ قیامت کتنے بجے ہے ؟۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں مریم نواز کہا کہ پیپلز پارٹی جو دھاندلی کی باریک واردات کی ماسٹر ہے ، دھاندلی کا رونا رو رہی ہے ۔ قیامت کتنے بجے ہے ؟،ادھر وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ کل بلاول نے کسی کا گلا پکڑا پھر ساری رات پیر پکڑ کر بیٹھے رہے ،کچھ رونا دھونا 10 اگست کے لیے بھی بچا کر رکھیں ،انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو پنجاب کا دورہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود آ کر صوبے میں ہونے والی ترقی کا مشاہدہ کریں، جنوبی پنجاب سمیت پورے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبے حکومت کی کارکردگی کا ثبوت ہیں ،وزیر اطلاعات پنجاب نے شرجیل میمن کی پریس کانفرنس کاجواب دیتے ہوئے کہا کہ اچھا واقعی! تبھی سندھ چوتھی مرتبہ بلیک میل کرکے لیا ہے نا۔ تب قیامت نہیں آئی جب گھر کی سیٹ کے لیے مخالف امیدوار غائب کئے گئے اور جب سندھ میں بلدیاتی انتخابات چوری کیے گئے ، ہمیشہ ’’قومی مفاد‘‘میں بلیک میلنگ سے 18 سال سے سندھ پہ قبضہ کرکے بیٹھے ہیں، وڈے انقلابی، جعلی جمہوری ، انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیرمیں میرپور ڈویژن کے انتخابی نتائج عوام کا فیصلہ ہیں، لوگوں نے ن لیگ کی کارکردگی کا انتخاب کیا ، انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کیا جانا چاہئے اور جمہوری عمل کا احترام کرنا چاہئے۔
بعض سیاسی جماعتوں کا رویہ غیر جمہوری نظر آ رہا ہے ، پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے بیانات افسوسناک ہیں، مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے انتخابی مہم کے دوران سیاسی تلخی سے گریز کیا اور عوام نے میرپور ڈویژن میں پنجاب کی ترقیاتی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ووٹ دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں گزشتہ 18 ماہ کے دوران پنجاب میں نمایاں ترقیاتی کام ہوئے ، پیپلزپارٹی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ الزام تراشی کے بجائے اپنی کارکردگی عوام کے سامنے پیش کی جائے ، ادھرلیگی سینیٹر عابدشیرعلی نے ‘‘ایکس’’ پر اپنے بیان میں کہا کہ بلاول بھٹو صاحب! امید ہے آزاد کشمیر کے عوام نے آپ کو لاہور اور لاڑکانہ کا فرق ووٹ کی طاقت سے بخوبی سمجھا دیا ہوگا، کشمیریوں نے الزامات نہیں، ترقی کو ووٹ دیا ۔ انہوں نے شور، بہانوں اور شکست کا ماتم کرنے والوں کو مسترد کر کے خدمت، استحکام اور عوامی اعتماد کا انتخاب کیا ہے ۔ ہر شکست کو دھاندلی کا نام دینے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ عوام کا فیصلہ واضح ہے اور اس فیصلے کا احترام ہی جمہوریت کا اصل حسن ہے۔



