پاکستان کا جوہری پروگرام اور تاریخی حقائق

تاثرات: مظہر طفیل

پاکستان کے جوہری پروگرام کی تاریخ کو اگر محض چند معروف ناموں تک محدود کر دیا جائے تو یہ ایک بڑی سادہ کاری ہوگی، کیونکہ یہ پروگرام درحقیقت کئی دہائیوں پر محیط سائنسی، ادارہ جاتی اور پالیسی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس کی جڑیں قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں پیوست ہیں اور جس نے وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات کے تحت مختلف مراحل طے کیے۔ اگرچہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس پروگرام کو فیصلہ کن سمت ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ملی اور اسے عملی قوت بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے نمایاں کردار ادا کیا، تاہم اس سے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا سائنسی اور تحقیقی ڈھانچہ وجود میں آ چکا تھا جس نے بعد میں اس پروگرام کی بنیاد فراہم کی۔

اکتوبر 1954 میں وزیراعظم محمد علی بوگرہ کی حکومت نے ایک بارہ رکنی سائنسی کمیٹی قائم کی، جس کی سربراہی کیمبرج سے تعلیم یافتہ ماہرِ طبیعیات ڈاکٹر نذیر احمد کے سپرد کی گئی۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد جوہری توانائی کو پُرامن مقاصد، خصوصاً بجلی کی پیداوار، زراعت، طب اور صنعت میں استعمال کے امکانات کا جائزہ لینا اور حکومت کو قابلِ عمل سفارشات فراہم کرنا تھا۔ یہ اقدام اس عالمی تناظر میں اٹھایا گیا، جب امریکی صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور کے اعلان کردہ پروگرام “ایٹمز فار پیس” (Atoms for Peace) کے تحت دنیا بھر میں جوہری ٹیکنالوجی کو ترقی اور توانائی کے نئے ذریعے کے طور پر فروغ دیا جا رہا تھا۔

مارچ 1956 میں یہی کمیٹی باقاعدہ طور پر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں تبدیل ہو گئی، جس کے قیام کے وقت چودھری محمد علی وزیراعظم تھے اور انہوں نے اس ادارے کی سرپرستی کرتے ہوئے اسے ایک مضبوط سائنسی بنیاد فراہم کی۔ بعد ازاں 1960 کی دہائی میں اس کمیشن کے تحت تحقیقاتی مراکز، تربیتی ادارے اور تجربہ گاہیں قائم کی گئیں، جن میں نیلور میں قائم تحقیقی مرکز بھی شامل تھا۔ اسی تسلسل میں پاکستان نے بین الاقوامی تعاون سے اپنے سائنسی ڈھانچے کو مزید مضبوط کیا اور کراچی میں کینیڈا کے تعاون سے KANUPP-1 کا قیام عمل میں آیا، جو 28 دسمبر 1972 کو فعال ہوا اور ملک میں بجلی کی پیداوار کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا پہلا بڑا منصوبہ ثابت ہوا۔

اس پورے عرصے میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مقاصد خالصتاً پُرامن نوعیت کے رہے اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری اس کے دائرۂ کار میں شامل نہ تھی۔ تاہم، اس دوران ایک ایسا سائنسی، فنی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ ضرور قائم ہو چکا تھا جس نے بعد میں اہم کردار ادا کیا۔

1971 کی جنگ میں شکست کے بعد پیدا ہونے والی سکیورٹی کی صورتِ حال نے ملک کی قیادت کو ایک نئے راستے پر گامزن کیا اور جنوری 1972 میں ملتان میں منعقدہ اجلاس میں ذوالفقار علی بھٹو نے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مرحلے پر پہلے سے موجود ادارے اور سائنسی صلاحیتیں اس مقصد کے لیے بنیاد بنیں۔

اسی دور میں عالمی شہرت یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان میں سائنسی تحقیق کے فروغ، اداروں کے قیام اور نوجوان سائنس دانوں کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کاوشوں سے PINSTECH جیسے ادارے مضبوط ہوئے، جبکہ خلائی تحقیق کے شعبے میں SUPARCO کو بھی فعال کیا گیا۔ اگرچہ بعد ازاں 1974 میں وہ بعض پالیسی اختلافات کے باعث پاکستان سے الگ ہو گئے، لیکن ان کی ابتدائی خدمات سائنسی ڈھانچے کی تشکیل میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔

1970 اور 1980 کی دہائیوں میں پاکستان نے خاموشی کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھایا، جس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور دیگر ماہرین نے اہم کردار ادا کیا۔ ضیاء الحق کے دور میں یہ پروگرام مزید مستحکم ہوا اور بالآخر پاکستان نے جوہری صلاحیت حاصل کر لی، جس کا عملی اظہار 1998 میں ایٹمی تجربات کی صورت میں دنیا کے سامنے آیا۔

اس تمام تاریخی جائزے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام کسی ایک فرد یا ایک دور کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ کئی دہائیوں پر محیط سائنسی محنت، پالیسی تسلسل، بین الاقوامی تعاون اور قومی ضرورتوں کے امتزاج سے تشکیل پانے والی ایک جامع داستان ہے، جس میں ابتدائی بنیاد رکھنے والے سائنس دانوں سے لے کر بعد کے ادوار کی قیادت تک سب نے اپنا کردار ادا کیا۔



  تازہ ترین   
میر پور ڈویژن کے انتخابات: ن لیگ 7 نشستوں پر کامیاب، پیپلزپارٹی کی 4 سیٹیں
حملے عارضی طور پر روکے، مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی ہوگی: ٹرمپ
امریکا کی غیر قانونی بحری ناکہ بندی مزید کشیدگی تصور ہوگی: ایرانی فوج
میرپور نے شیر پر مہر لگا کر اعلان کر دیا ترقی ن لیگ سے جڑی ہے: مریم اورنگزیب
صدر مملکت اور وزیراعظم کا 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ
انتخابی عمل کا پہلا مرحلہ آزادانہ اور شفافیت سے مکمل ہوا:چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر
حوثی گروہ کے ساتھ تنازع کا پرامن حل چاہتے ہیں: یمنی وزیر خارجہ
آزاد کشمیر الیکشن کا پہلا مرحلہ، پولنگ کے وقت میں توسیع، بھمبر میں ایک پولنگ سٹیشن پر ہنگامہ آرائی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر