تاثرات: مظہر طفیل قوموں کی تاریخ میں بعض اوقات ایسے حالات بھی بن جاتے ہیں جب جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑیں جاتیں بلکہ ذہنوں، افکار، اداروں اور قومی اعتماد جنگی بنیادوں پر نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ جب دشمن میدانِ کارزار میں اپنی خواہشات کی تکمیل میں ناکام رہتا ہے تو وہ افواہوں، شکوک و شہبات ، کردار کشی اور اطلاعاتی یلغار کو اپنا سب سے مؤثر ہتھیار بنا لیتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب کسی ریاست کی اصل قوت اس کے اسلحے سے زیادہ اس کے قومی اتحاد، ادارہ جاتی استحکام اور عوامی اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ آج پاکستان بھی اسی نوعیت کی ایک ہمہ گیر آزمائش سے گزر رہا ہے، جہاں بیرونی محاذ کے ساتھ ساتھ اطلاعاتی محاذ پر بھی ایک منظم کشمکش جاری ہے حالیہ دنوں میں او ٹی ایس سے تعلق رکھنے والے نیشنل سٹریٹجک فورس کے نئے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی تعیناتی کے بعد جس انداز سے بعض حلقوں نے مختلف قیاس آرائیاں شروع کیں، اس نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان مخالف بیانیہ ہمیشہ قومی اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس مؤقف کے حامیوں کے مطابق یہ اعتراضات کسی ایک شخصیت کے خلاف نہیں بلکہ اس ادارہ جاتی نظم و ضبط کے خلاف ہیں جس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کی حفاظت کی ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج دنیا کے ان معدودے چند عسکری اداروں میں شمار ہوتی ہے جہاں نظم و ضبط، پیشہ ورانہ اہلیت، آئینی ذمہ داری اور ادارہ جاتی تسلسل کو بنیادی ستون کی حیثیت حاصل ہے۔ یہاں فیصلے شخصیات کی خواہشات کے تابع نہیں بلکہ ایک طے شدہ نظام، عسکری روایات اور ریاستی قوانین کے مطابق ہوتے ہیں۔ اسی لیے اعلیٰ عسکری تقرریوں کو داخلی اختلاف یا کسی فرضی کشمکش سے جوڑنا حقیقت سے زیادہ خواہش معلوم ہوتا ہے۔ اس ادارے کی پوری تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ اگر کسی مرحلے پر نظم و ضبط کی خلاف ورزی سامنے آئی بھی تو اس کا فیصلہ بھی ادارے نے اپنے قوانین کے مطابق کیا۔ یہی وہ وصف ہے جس نے پاکستان کی فوج کو ایک مضبوط، منظم اور باوقار قومی ادارہ بنایاہے یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ اعلیٰ عسکری تقرریاں کسی فرد کی ذاتی پسند کا نتیجہ نہیں ہوتیں بلکہ ایک مکمل ادارہ جاتی عمل کا حصہ ہوتی ہیں۔ آئینی اور قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے متعلقہ حکام ان فیصلوں کی توثیق کرتے ہیں اور اسی روایت کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی تقرری بھی عمل میں آئی۔ اس لیے اس تعیناتی کو غیر معمولی رنگ دینے کی کوشش دراصل ایک ایسے بیانیے کو فروغ دینا ہے جس کا مقصد قومی اداروں کے بارے میں بے اعتمادی پیدا کرنا ہے اس کے لیے بیرونِ ملک موجود بعض خود ساختہ جلاوطن سیاسی کارکن، دفاعی تجزیہ نگار اور سماجی ذرائع ابلاغ پر سرگرم بعض افراد جن میں عادل راجہ ۔ صابر شاکر۔ احمد نورانی ،شاہین صہباٸی عمران ریاض سمیت دیگر انہی کے پیروکار عرصۂ دراز سے پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل منفی بیانیہ تشکیل دینے میں مصروف ہیں۔ ان کے نزدیک ہر ادارہ جاتی فیصلہ کسی نہ کسی سازش کا حصہ اور ہر قومی پیش رفت کسی داخلی بحران کی علامت بنا کر پیش کی جاتی ہے۔ حالانکہ زمینی حقائق اکثر اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ وقت بارہا ثابت کر چکا ہے کہ ایسی افواہیں چند روز کی توجہ تو حاصل کر لیتی ہیں مگر حقیقت کے سامنے زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں جبکہ جنوبی ایشیا کے خطے کی موجودہ صورتِ حال بھی اس پروپیگنڈے کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات نے پاکستان کی تزویراتی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان نے متعدد مواقع پر ذمہ دار ریاست کے طور پر کشیدگی کم کرنے، سفارتی روابط بڑھانے اور علاقائی استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج محض ایک جغرافیائی ریاست نہیں بلکہ ایک اہم تزویراتی حقیقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس مؤقف کے حامیوں کا استدلال ہے کہ گزشتہ برسوں میں پاکستان نے دفاعی اور سفارتی دونوں محاذوں پر اپنی پوزیشن مستحکم کی ہے۔ چین کے ساتھ دیرینہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے، سعودی عرب اور دیگر برادر ممالک کے ساتھ تعاون میں وسعت آئی، جبکہ ترکی کے ساتھ دفاعی اشتراک نئی جہتوں میں داخل ہوا۔ ان تعلقات کو وہ اس اعتماد کی علامت قرار دیتے ہیں جو دوست ممالک پاکستان کی ریاستی پالیسیوں اور عسکری صلاحیت پر رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ تعاون اس امر کا مظہر ہے کہ پاکستان خطے میں استحکام اور توازن کا ایک اہم ستون بن کر ابھر رہا ہے۔ اسی تناظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو بھی اس مؤقف کے حامی ایک اہم عنصر قرار دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں داخلی نظم، دفاعی تیاری، علاقائی سفارت کاری اور قومی سلامتی کے معاملات میں اختیار کی گئی حکمتِ عملی نے پاکستان کے دفاعی تشخص کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے مختلف سیاسی آراء موجود ہیں، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کے متعدد دوست ممالک کے ساتھ دفاعی روابط اور عسکری تعاون مسلسل جاری ہیں، جنہیں خطے کی سلامتی کے تناظر میں اہم پیش رفت تصور کیا جاتا ہے۔ادھر دوسری جانب دہشت گردی کی نئی لہر نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان کو بیرونی اور اندرونی دونوں نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے۔ سکیورٹی اداروں، پولیس، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں اور عام شہریوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان شہادتوں نے قوم کو یہ احساس دلایا ہے کہ امن محض خواہش سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مسلسل قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ یہی قربانیاں پاکستان کی اصل طاقت ہیں اور یہی وہ سرمایہ ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ عصرِ حاضر میں جنگوں کی نوعیت بدل چکی ہے۔ اب صرف توپ و تفنگ ہی فیصلے نہیں کرتیں بلکہ افواہ، پروپیگنڈا، نفسیاتی دباؤ اور اطلاعاتی یلغار بھی ریاستوں کی سلامتی کو نشانہ بناتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی تعیناتی کے بعد بیرونِ ملک موجود عناصر کی جانب سے اختیار کیا گیا طرزِ عمل اسی اطلاعاتی یلغار کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق ایسی کوششوں کا بنیادی مقصد یہ تاثر پیدا کرنا ہے کہ گویا پاکستان کی مسلح افواج کے اندر اختلافات موجود ہیں، حالانکہ اس نوعیت کے دعووں کی تائید میں کوئی مستند ثبوت سامنے نہیں آتا۔ پاکستان کی عسکری تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ یہ ادارہ نظم، ضبط، وفاداری اور آئینی ذمہ داری کے اصولوں پر استوار ہے، اور اس کی اصل قوت اسی ادارہ جاتی وحدت میں مضمر ہے۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان گزشتہ چند برسوں میں محض ایک دفاعی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار، مؤثر اور متوازن علاقائی کردار کے طور پر ابھرا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ہو، جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتِ حال یا وسیع تر علاقائی روابط، پاکستان نے ہر مرحلے پر سفارتی حکمت، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد دوست ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون، عسکری روابط اور مشترکہ مفادات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اس مؤقف کے مطابق چین کے ساتھ پاکستان کی اسٹریٹجک شراکت داری، سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات، ترکی کے ساتھ بڑھتا ہوا عسکری تعاون اور دیگر برادر اسلامی ممالک کے ساتھ روابط اس امر کی علامت ہیں کہ پاکستان کو خطے میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جبکہ ناقدین اس کی مختلف تشریحات پیش کرتے ہیں۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کے بین الاقوامی دفاعی روابط مسلسل برقرار ہیں اور ان میں وسعت آ رہی ہے۔ اسی پس منظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو بھی ان کے حامی قومی سلامتی، عسکری نظم و ضبط اور دفاعی تیاری کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک قیادت کا اصل امتحان الفاظ سے نہیں بلکہ فیصلوں، استحکام اور نتائج سے ہوتا ہے۔ جب ادارہ اپنی ذمہ داریاں قانون کے مطابق انجام دے رہا ہو، جب قومی دفاع مضبوط ہو، جب دوست ممالک تعاون میں اضافہ کر رہے ہوں اور جب دشمن کی توجہ میدانِ جنگ سے زیادہ اطلاعاتی جنگ پر مرکوز ہو جائے تو یہ صورتِ حال خود بہت سے سوالات کا جواب بن جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد بھی یہ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان کی سلامتی کا تحفظ محض بیانات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے مسلسل قربانیاں درکار ہوتی ہیں۔ ہمارے افسروں، جوانوں، پولیس اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے اپنے خون سے اس سرزمین کے امن کی قیمت ادا کررہے ہیں ان شہداء کی قربانیاں اس امر کی متقاضی ہیں کہ قومی اختلافات کو دشمن کی خواہش کے مطابق انتشار میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔ قومی وحدت کا تقاضا یہ نہیں کہ اختلافِ رائے ختم ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ اختلاف کی بنیاد سچائی، دلیل اور ذمہ داری پر قائم ہو۔ بے بنیاد الزامات، غیر مصدقہ اطلاعات اور سنسنی خیز بیانیے وقتی شہ سرخیاں تو پیدا کر سکتے ہیں، لیکن وہ کسی قوم کے مستقبل کی تعمیر نہیں کر سکتے۔ مضبوط قومیں اپنے اداروں کو قانون کے دائرے میں جواب دہ بھی رکھتی ہیں اور بیرونی پروپیگنڈے کے مقابلے میں ان پر اعتماد بھی برقرار رکھتی ہیں تاریخ گواہ ہے کہ جن اقوام نے اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھا، اپنے قومی اداروں کو مستحکم کیا اور بیرونی دباؤ کے مقابلے میں استقامت اختیار کی، وہی آزمائشوں سے سرخرو ہوئیں۔ پاکستان بھی اگر داخلی یکجہتی، آئینی بالادستی، قومی مفاد اور ادارہ جاتی استحکام کو اپنی اجتماعی قوت بنائے رکھے تو کوئی اطلاعاتی یلغار، کوئی افواہ ساز مہم اور کوئی منفی بیانیہ اس کے قومی عزم کو متزلزل نہیں کر سکتا۔ آخرکار یہ حقیقت فراموش نہیں ہونی چاہیے کہ ریاستیں صرف اسلحے سے محفوظ نہیں ہوتیں بلکہ اعتماد، اتحاد، بصیرت اور مضبوط اداروں سے محفوظ ہوتی ہیں۔ دشمن کی خواہش ہو سکتی ہے کہ پاکستان اندر سے کمزور ہو، مگر قوم کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اختلاف کو انتشار نہ بننے دے، تنقید کو تخریب نہ بننے دے اور آزادیِ اظہار کو قومی سلامتی کے خلاف پروپیگنڈے کا وسیلہ نہ بننے دے۔ وقت کا دھارا ہمیشہ شور مچانے والوں کے ساتھ نہیں بہتا؛ تاریخ کا فیصلہ ان قوموں کے حق میں لکھا جاتا ہے جو آزمائش کے لمحوں میں اپنے وطن، اپنے آئین، اپنے قومی مفاد اور اپنے ریاستی اداروں کے ساتھ استقامت سے کھڑی رہتی ہیں۔ اگر پاکستان نے یہی راستہ اختیار کیے رکھا تو نہ پروپیگنڈے کی گرد اس کے وقار کو دھندلا سکے گی، نہ افواہوں کا طوفان اس کی بنیادیں ہلا سکے گا، اور نہ ہی کوئی مخالف قوت اس قوم کے عزم و استقلال کو شکست دے سکے گی۔
جنرل عامر رضا کی تعیناتی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کےخلاف پرو پیگنڈا



