ڈھاکہ(نیشنل ٹائمز)بنگلہ دیشی حکام نے مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ، ان کے اہلِخانہ اور 10 کاروباری گروپس سے منسلک تقریباً 760 ارب ٹکا (6اعشاریہ 2 ارب ڈالر)مالیت کے اثاثے ضبط کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ حکام کے مطابق 570 ارب ٹکا کے اثاثے ملک کے اندر جبکہ 190 ارب ٹکا مالیت کے اثاثے بیرون ملک ضبط کیے گئے ہیں۔بنگلہ دیش فنانشل انٹیلی جنس یونٹ کے سربراہ اختیار محمد مامون نے بتایا کہ شیخ حسینہ اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف تحقیقات کے سلسلے میں اب تک 98 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، جبکہ بیرون ملک منتقل کی گئی رقوم کی واپسی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں ، رواں سال کے اختتام تک مثبت پیش رفت کی توقع ہے ۔واضح رہے 2024 میں طلبا کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد شیخ حسینہ بھارت فرار ہو گئی تھیں۔ ان کے خلاف بدعنوانی سمیت متعدد مقدمات میں عدم موجودگی میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں، جبکہ ایک عدالت انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت بھی سنا چکی ہے ۔ بنگلہ دیشی حکومت نے بھارت سے حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں وطن واپس لا کر عدالتی کارروائی مکمل کی جائے گی۔
بنگلہ دیش:شیخ حسینہ اور خاندان کے 760ارب ٹکا کے اثاثے ضبط



