اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کے شہداء پاک فوج بارے بیان کے خلاف وفاقی وزراء یک زبان ہوگئے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ و سیاسی امور، سینیٹر رانا ثنا اللہ خان نے شہدا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے، بظاہر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا نام لئے بغیر ان کے حالیہ بیان پر کڑا ردعمل دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’شہادت مقصود و مطلوبِ مومن ہے، یہ اس کا نصیب ہے جو قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قرآن۔ یہ راز ہم دنیا داروں، تنخواہ داروں کی سمجھ سے بالاتر ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ شہدا کے ورثا اور غازیوں کو صبرِ جمیل اور یقینِ محکم کی دولت سے مالا مال رکھے، کیونکہ یقینِ محکم ہی ہماری آزادی اور بقا کا ضامن ہے۔
رانا ثنا اللہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مولانا فضل الرحمان کے فوجی جوانوں کی قربانیوں سے متعلق حالیہ ریمارکس پر مختلف سیاسی و حکومتی شخصیات کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان کو شہداء کی قربانی کی توہین قرار دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاست دان اور ممتازمذہبی رہنما ہیں، ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے، فوجی جوانوں کی وطن کیلئے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی شخص محض تنخواہ کیلئے اپنی قیمتی جان کی قربانی نہیں دیتا، جان کی قربانی کے پیچھے کسی نظریے، عقیدے، فرض اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے، آپ حالات و واقعات یا طریقہ کار سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اس نظریے، وابستگی، محبت اور قربانی کی توہین نہیں کر سکتے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور پاک فوج سمیت دیگر اداروں کے جوان اور شہری شہادتیں دے رہے ہیں، ان کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے۔
خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ مولانا صاحب نے صرف ایک ادارے کو نہیں، ہزاروں شہداء، غازیوں، بیواؤں اور یتیموں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی جوانوں کی بے مثال قربانی کو محض تنخواہ کا معاوضہ قرار دینا نا انصافی ہے، یہ اخلاق کے تقاضوں کے مطابق ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے سربراہ جے یو آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب! آپ سے ہمارا تعلق ہمیشہ احترام کا رہا ہے، اسی احترام کے جذبے کے تحت چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں، آپ کے حالیہ بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ آپ نے جذبات کی رو میں بہہ کر ہمارے شہداء کی عظیم قربانیوں کی قدر و منزلت کو کم کرکے پیش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف میرے بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، ہمارے فوجی جوان اور افسر محض ایک پیشہ انجام نہیں دیتے، بلکہ وہ ہر لمحہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وطن کے دفاع کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن شہداء کے مقام و مرتبے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ہمیں ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے جو ان کے اہلِ خانہ، ان کے ساتھیوں اور پوری قوم کے دلوں کو دکھ پہنچائیں، شہداء کا احترام درحقیقت پاکستان کے احترام، ہماری آزادی کے احترام اور ان اسلامی اقدار کے احترام کا تقاضا ہے جن کی بنیاد ایثار، قربانی اور وفاداری پر قائم ہے۔
وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ پاکستان کی فوج صرف ایک ادارہ نہیں، بلکہ قوم کے وقار، سلامتی اور بقاء کی علامت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج اگر ہم اپنے گھروں میں سکون کی نیند سوتے ہیں، اگر ہمارے بچے آزادی کی فضا میں سانس لیتے ہیں، تو اس کے پیچھے اُن جوانوں اور افسروں کی لازوال قربانیاں ہیں جو سرحدوں پر، برف پوش چوٹیوں میں، ریگستانوں میں اور دہشت گردی کے خلاف ہر محاذ پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہداء کے لہو سے لکھی گئی یہ تاریخ کسی سیاسی بیان، طنز یا تمسخر سے نہ مٹ سکتی ہے اور نہ ہی ان عظیم قربانیوں کی قدر کم کی جا سکتی ہے، اختلافِ رائے ہر ایک کا حق ہے، مگر وطن کے محافظوں کی عزت، ان کی قربانیوں اور شہداء کے مقدس خون کا احترام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب بھی وطن نے پکارا، پاکستان کے سپوتوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر ’’پاکستان پہلے‘‘ کا عملی ثبوت دیا، انہی قربانیوں کی بدولت آج پاکستان کا سبز ہلالی پرچم سربلند ہے۔
وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے پوری قوم کا دل دکھا دیا، شہادتوں کی بدولت ہی آج پاکستان قائم ہے، قومی مفادات کے معاملات پر سب کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، قوم اپنے شہداء اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ملکی دفاع کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء قوم کا فخر ہیں، آج جو امن اور ریاستی نظام موجود ہے وہ شہداء کی قربانیں کی بدولت ہے، شہداء کی قربانیاں قوم کا سرمایہ ہیں، لواحقین کے دکھ کو محسوس کرنا ہوگا، شہداء کے خاندانوں کی قربانیاں پوری قوم کی مشترکہ امانت ہیں۔
حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان ہی ہماری سیاست اور جدوجہد کا بنیادی محور ہے، پاکستان کے دفاع اور استحکام کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں، ملک کی سالمیت سب سے مقدم ہے، دشمن ہر طرف سے پاکستان پر حملہ آور ہے، پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی پر سمجھوتا نہیں ہوگا۔
دوسری جانب وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز عون چودھری نے مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر ردعمل دے دیا۔
عون چودھری نے مولانا فضل الرحمٰن سے شہداء کے لواحقین اور پوری قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا، انہوں نے کہا کہ شہادت تنخواہ سے نہیں، حب الوطنی، ایمان اور جذبۂ قربانی سے ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوان وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، پوری قوم کو ان پر فخر ہے، مولانا فضل الرحمٰن کا بیان شہداء اور ان کے اہلخانہ کی توہین ہے۔
وزیر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج اور اس کے شہداء کی قربانیوں کی بدولت پاکستان کو پوری دنیا میں عزت ملی، ہمیں اپنے شہداء پر فخر ہے، انہیں کی قربانیوں کی وجہ سے آج پوری قوم امن و سکون کی زندگی گزار رہی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد ہر سیاسی مفاد سے بالاتر ہونا چاہیے، افواجِ پاکستان اور شہداء کی قربانیوں پر تنقید یا سوالات قومی وحدت کیلئے نقصان دہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو مسلم دنیا اور عالمی برادری میں جو عزت و وقار حاصل ہے، وہ افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، بے مثال قربانیوں اور دفاعِ وطن کے غیر متزلزل عزم کا ثمر ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ وطن کی سرحدوں کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء قوم کا فخر اور سر کا تاج ہیں، زندہ قومیں ہمیشہ اپنے شہداء اور قومی ہیروز کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہیں، ہمارے شہداء اور غازی ملک کی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کے ضامن ہیں۔
ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ ایسے نازک حالات میں ان مجاہدین کی قربانیوں پر سوال اٹھانا یا انہیں تنقید کا نشانہ بنانا ملک کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے، تمام سیاسی قوتوں کو چاہیے کہ وہ قومی مفاد کو ذاتی اور سیاسی مفادات پر مقدم رکھیں، ایسے بیانات سے گریز کریں جو افواجِ پاکستان کے حوصلے پست کریں یا شہداء کے اہلِ خانہ کی دل آزاری کا باعث بنیں۔



