مجتبیٰ خامنہ ای ،باقرقالیباف میں اختیارات کی کشمکش کا خدشہ

پیرس(نیشنل ٹائمز)ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی اپنے والد علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں عدم موجودگی نے ان کی صحت، ممکنہ قاتلانہ حملے کے  خدشات اور مستقبل میں ان کے طرزِ حکمرانی سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا ہے ، جیسا کہ آیا وہ اس فضائی حملے میں شدید زخمی یا اس قدر متاثر ہوئے کہ عوام کے سامنے نہیں آ سکتے ، یا پھر ایران کو خدشہ ہے کہ اسرائیل یا امریکا انہیں بھی براہِ راست نشانہ بنا سکتے ہیں،جنیوا گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ کے محقق فرزان ثابت کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی منظر سے غیر موجودگی وقتی ہو سکتی ہے ،غالب امکان ہے کہ اس کی وجہ ایک طرف فضائی حملے میں لگنے والی جسمانی چوٹیں ہیں، جبکہ دوسری جانب سکیورٹی خدشات بھی ہیں کیونکہ عوامی تقریبات میں ان کی موجودگی مستقبل میں ممکنہ قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی آسان بنا سکتی ہے ۔انہوں نے کہا مستقبل میں مجتبیٰ خامنہ ای اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کے درمیان اختیارات کی کشمکش دیکھنے کو مل سکتی ہے ، تاہم مجموعی طور پر سپریم لیڈر کے دفتر کا اثر و رسوخ مزید سپاہِ پاسداران کے تابع ہو سکتا ہے ۔امریکی تھنک ٹینک یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران کے پالیسی ڈائریکٹر جیسن بروڈسکی کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے عہدے تک پہنچنے میں سپاہِ پاسداران کے تعاون پر زیادہ انحصار کرتے رہے ہیں، اس لیے وہ اپنے والد کے مقابلے میں اس ادارے پر زیادہ منحصر ہوں گے ۔

ان کے مطابق سپریم لیڈر کے دفتر اور سپاہِ پاسداران انقلاب کے درمیان طاقت کا توازن اب پہلے سے مختلف ہو چکا ہے ۔بروڈسکی نے مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد کے مقابلے میں نسبتاً کمزور رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ علی خامنہ ای کو بھی 1989 میں سپریم لیڈر بننے کے بعد اپنی اتھارٹی مستحکم کرنے میں کئی برس لگے تھے ۔مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو الیکس وتانکا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نہ تو انقلابِ ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی جیسا کرشمہ رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنے والد جیسا وہ سیاسی اختیار، جو کئی دہائیوں کے بحرانوں سے گزر کر قائم ہوا تھا۔ ایرانی حکام بھی جانتے ہیں کہ موروثی جانشینی وہ تصور ہے جسے 1979 کے اسلامی انقلاب نے شاہِ ایران کے خاتمے کے وقت مسترد کیا تھا۔ان کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای غالباً ریاستی اداروں کے ذریعے حکومت کریں گے ، نہ کہ ان پر مکمل بالادستی قائم کرکے ۔فرزان ثابت کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ایرانی عوام کی نظر میں مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد کے مقابلے میں کم عوامی قبولیت حاصل ہوگی اور وہ نسبتاً کمزور رہنما دکھائی دیں گے ، تاہم اگر ان کی صحت بہتر ہو جاتی ہے اور سکیورٹی حالات اجازت دیتے ہیں تو مستقبل میں زیادہ عوامی سرگرمیوں کے ذریعے وہ نظام کے حامی حلقوں میں اپنی سیاسی حیثیت مضبوط بنا سکتے ہیں۔



  تازہ ترین   
بلوچستان میں آپریشن ’شعبان‘ جاری، ایک دن میں فتنہ الہندوستان کے 14 دہشت گرد ہلاک
پاک امریکا تجارتی معاہدہ مذاکرات میں پیش رفت، اختلافات دور ہو گئے: دفتر خارجہ
امریکا نے 2 طیارہ بردار بحری جہاز لنکن اور بش ایران کے قریب تعینات کر دیئے
آئی ایم ایف اگلے 14 ماہ میں پاکستان کو مزید 3.6 ارب ڈالر قرض دے گا
امریکا کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے اور حملے روکنے کیلئے ایران کو الٹی میٹم
پاکستان کا حالیہ کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے پر زور
ایران نے جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی، امریکا خلاف ورزی کر رہا ہے: عراقچی
وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے میں امن و استحکام پر زور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر