لاس گالارڈوس، بیدرا(نیشنل ٹائمز)جنوبی سپین کے جنگل میں ہولناک آگ لگنے کے واقعہ میں 12 افراد ہلاک جبکہ 23 لاپتہ ہو گئے ۔ حکام کے مطابق بیشتر متاثرین نے محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایات نظر انداز کرتے ہوئے گاڑیوں اور پیدل فرار کی کوشش کی جس کے دوران وہ آگ کی لپیٹ میں آ گئے ۔اندلس کے سربراہ برائے ہنگامی امور انتونیو سانز نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک ہسپانوی شہری شامل ہے جبکہ دیگر غالباً غیر ملکی ہیں، علاقے میں بڑی تعداد میں فرانسیسی، برطانوی اور بیلجیئم شہری مقیم ہیں،کئی لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی جا رہی ہے ۔اندلس کے علاقائی سربراہ خوان مانوئل مورینو نے کہا کہلاس گالاردوس کے پہاڑی اور دشوار گزار علاقے میں بھڑکی اور تیز ہواؤں کے باعث محض دو گھنٹوں میں 15 کلومیٹر تک پھیل گئی، آگ انتہائی تیزی سے پھیلی اور اب تک تقریباً 3200ہیکٹر رقبہ جلا چکی ہے ۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لاپتا افراد میں کچھ سیاح اور پیدل سفر کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔حکام کے مطابق آگ ممکنہ طور پر ایک ٹوٹنے والی بجلی کی تار کے باعث بھڑکی تاہم بجلی فراہم کرنے والی کمپنی نے اس دعوے سے اختلاف کیا ہے ۔ یورپی فاریسٹ فائر انفارمیشن سسٹم کے مطابق رواں سال سپین میں تقریباً 57 ہزار ہیکٹر رقبہ جل چکا ہے ، جو یورپی یونین میں جلنے والے کل رقبے کا 40 فیصد بنتا ہے ۔ حکام کاکہناہے سینکڑوں مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے ، تقریباً 500 فائر فائٹرز اور سپین کی ملٹری ایمرجنسی یونٹ آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔



