کیف (نیشنل ٹائمز)یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روس نے جنگ کے دوران اب تک کا سب سے بڑا ڈرون اور میزائل حملہ کیا ہے ، جس کے نتیجے میں 25 افراد ہلاک اور کم ازکم 100زخمی ہو گئے ۔کیف کے میئر ویٹالی کلچکو نے آج جمعہ کو یوم سوگ کا اعلان کیا ہے ۔ حملے کے بعد کیف کے وسطی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں،ہزاروں شہری اپنی جانیں بچانے کیلئے بم شیلٹرز اور زیر زمین میٹرو سٹیشنز کی طرف دوڑ پڑے ، آسمان پر دھوئیں کے گھنے بادل چھا گئے ۔ کیف کے میئر کے مطابق 130 رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا،متعدد افراد ملبے تلے دب گئے ۔امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے زندہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں ۔تباہ ہونے والی عمارتوں میں قومی انسٹیٹیوٹ آف بائیو کیمسٹری بھی شامل ہے ، جہاں جدید ترین بائیو کیمسٹری لیب اور دیگر دفاتر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ۔یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے 74 میزائل اور 496 ڈرونز داغے ۔
اس بار بیلسٹک میزائلوں کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ تھی ، انہیں تباہ کرنے کی شرح کم رہی۔یوکرین کے صدر زیلنسکی آئرلینڈ کا اپنا دورہ مختصر کر کے فوری وطن واپس پہنچ گئے ۔انہوں نے اتحادی ممالک سے مزید فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکا سے پیٹریاٹ میزائلوں کی مقامی تیاری کیلئے لائسنس دینے کی درخواست کی ہے ۔یوکرین میں یورپی یونین کی سفیر کاترینا ماتھرنووا نے کہا کہ حملے میں سفارتی عملے کی رہائشگاہ بھی نشانہ بنی۔ سفارت کار محفوظ رہے ، تاہم آگ لگنے سے سامان جل کر تباہ ہو گیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنر ل انتونیو گوتریس نے روسی حملوں کی شدیدمذمت کی ہے ۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ صدر ٹرمپ یوکرین میں جاری “بے معنی قتل و غارت” کے خاتمے کے لیے امن معاہدہ چاہتے ہیں۔ امریکی عہدیدار نے روسی حملے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہاکہ صدر ٹرمپ انسان دوست جذبہ رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ جنگ ختم ہو تاکہ یہ بے معنی خونریزی رک جائے ۔



