اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) اسلامی نظریاتی کونسل کا 246 واں اجلاس چیئرمین علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی کے زیر صدارت منعقد ہوا جس میں حافظ طاہر محمود اشرفی، حافظ محمد امجد، علامہ افتخار حسین نقوی، ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد، مفتی محمد زبیر، پیر حسان حسیب الرحمٰن، رانا شفیق پسروری، سید عتیق الرحمٰن، علامہ یوسف اعوان، شمس الرحمٰن مشہدی نے شرکت کی، اس موقع پر ملکی صورتحال، قانونی امور اور عوامی مفاد کے متعدد فیصلوں کی منظوری دی گئی۔کونسل نے جیو ٹی وی پر چلنے والے مقدس شخصیات کے خاکوں کے متعلق قرار داد کی منظوری دیدی اور کہا کہ تمام الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس امر کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ انبیاء کرامؑ کی شبیہ ، تصویری تمثیل یا ان کی مقدس شخصیات کی نمائندگی کرنے والے کسی بھی بصری مواد کی اشاعت شرعی لحاظ سے ناجائز امر ہے لہٰذا اس عمل سے مکمل اجتناب کیا جائے ،جدید ڈیجیٹل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (AI)کے اس دور میں کسی متنازع اور غیر شرعی مواد کی اشاعت کے بعد محض اسے ہٹا دینا کافی نہیں رہتا، پیمرا کا نوٹس لینا خوش آئند تاہم معاملے میں مزید بہتری کی ضرورت ہے ، واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ، محض بعد از وقت کارروائی کے بجائے پیشگی جانچ پڑتال اور مؤثر ایڈیٹوریل نگرانی کا جامع نظام وضع کیا جائے۔
دریں اثناء کونسل نے محرم الحرام کے پہلے عشرے کے پرامن انعقاد پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا اور اس ضمن میں سکیورٹی فورسز، امن کمیٹیوں اور اتحاد بین المسلمین کمیٹیوں کے فعال اور مثبت کردار کی بھرپور تحسین کی۔کونسل نے اقدامِ خودکشی کی سزا کی بحالی سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی مکمل تائید کی ۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے ازدواجی اثاثوں سے متعلق فیصلے کے تناظر میں کونسل نے اپنی سابقہ سفارشات کا اعادہ کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ فیصلہ شریعت سے متصادم ہے ،کونسل نے عائلی عدالتیں ترمیمی بل 2026ء کا تفصیلی جائزہ بھی لیا جس میں بچوں کے نفقہ سے متعلق اسلامی احکام کی وضاحت کی،کونسل نے آنکھ کا قرنیہ (cornea)عطیہ کرنے اور اس کی پیوند کاری کرنے کو شرعاً جائز قرار دیا جبکہ پلاسٹک کور پر پابندی کے حوالے سے وفاقی حکومت کی قانون سازی کی تائید کرتے ہوئے صوبائی سطح پر بھی قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں کونسل نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کیلئے پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کی کاوشوں کو بھرپور طریقے سے سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس کے ساتھ ہی عالمی معیشت اور تجارتی روانی کیلئے آبنائے ہرمز کی بندش کے فوری خاتمے کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔



